چین میں دنیا کے سب سے بڑے سپرکولائیڈر کی تیاری

malik shahid 01 Mar, 2021 سائنس وٹیکنالوجی

چین عالمی معیشت پر اس وقت کسی جن کی طرح چھایا ہوا ہے ۔ مصنوعات ، اسلحہ سازی اور خلائی سائنس میں تیز رفتار ترقی کے بعد اس نے جدید طبیعیات کے میدان میں بھی اپنی اجارہ داری قائم کرنا شروع کر دی ہے۔ تازہ اطلاع کے مطابق ، اب چین نے ذراتی طبیعیات کے حساس میدان میں یورپی تسلط ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اور اس سلسلے میں دنیا کے سب سے بڑے ذراتی اسراع گر/تصادم گر کی تعمیر کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ چینی سائنسدان ایک ایسے ذراتی اسراع گر/تصادم گر (Particle smashing collider )کی تعمیر شروع کر رہے ہیں جو ایک شہر کا احاطہ کر سکے گا۔ چینی ماہرین کا ڈیزائن کردہ یہ سپر کولائیڈر، سوئیٹزر لینڈ میں ”سرن “(CERN)کی زیر نگرانی تعمیر کئے گئے 27کلومیٹر محیط کے لارج ہیڈرون کولائیڈر (LHC) سے تقریباََ تین گنا بڑا یعنی 80کلومیٹر محیط کا حامل ہوگا۔ اسے ”سرکلر الیکٹرون پوزیٹرون کولائیڈر (CEPC) کا نام دیا گیا ہے جبکہ اس کے دائروی محیط کے اندر جو شہر آباد کیا جائے گا اسے ”چائینز ایکسیلیریٹر کمپلیکس“ کا نام دیا گیا ہے۔ اس عظیم الشان منصوبے کا ابتدائی ڈیزائن چین کے بہترین ذراتی ماہرین طبیعیات کے زیر نگرانی تیار کیا جا رہا ہے اور ان ماہرین کو امید ہے کہ یہ منصوبہ چین کو خالصتاََ سائنسی بنیادوں پر بھی ایک گلوبل سپر پاور کے طور پر متعارف کرا سکے گا۔ چینی ماہرین کے مطابق، اس منصوبے کے ڈیزائن، تعمیر اور تجربات کے لئے دنیا بھر کے سائنسدانوں کے خوش آمدید کہا جائے گا۔ امید کی جارہی کہ تجرباتی طبیعیات میں مہارت رکھنے والے سینکڑوں امریکی سائنسدان اس منصوبے میں شامل ہونے میں دلچسپی لیں گے کیونکہ امریکی حکومت بڑے ذراتی اسراع گر/تصادم گروں کی تعمیر کے معاملے میں مخمصے کا شکار ہے۔ چند برس قبل جب امریکی حکومت نے بے پناہ اخراجات کی وجہ سے سپر کنڈکٹنگ سپر کولائیڈر (SCSC) کی تیاری سے انکار کیا تھا تو بہت سے امریکی سائنسدانوں نے یورپ کے لارج ہیڈرون کولائیڈر کا رخ کر لیا تھا ۔ امریکی حکومت تاحال اس سلسلے میں کسی نئے منصوبے کا ارادہ نہیں رکھتی ، ا س لیے چین کو امید ہے کہ انھیں اپنے منصوبے کے لئے سینکڑوں بہترین امریکی ماہرین دستیاب ہو جائیں گے۔