خون میں موجود ننھی مشینیں جو متاثرہ خلیوں تک براہ راست دوا پہنچا سکیں گی

malik shahid 01 Mar, 2021 سائنس وٹیکنالوجی

مستقبل قریب میں ہم ایسے ننھے آلات کی امید رکھتے ہیں جو میڈیسن کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیں گے۔ یہ ایسی ننھی مشینیں ہوں گی جوہمارے خون کے بہائو میں شامل ہو سکیں گی۔نینو ٹیکنالوجی کا ایک اہم مقصد ایسے مالیکیولر شکاری تیار کرنا ہے جو کینسر کے خلیات تک پہنچ کر انھیں ختم کر سکیں۔ تاہم ناقدین نے ہمیشہ اس تصور کو ناممکن قرار دیا کہ ایسے ننھے آلات بنا لیے جائیں کہ جو خون میں شامل ہو کر متاثرہ خلیات کو خود ہی تلاش بھی کریں اور ان کا خاتمہ بھی کر سکیں۔ اس خواب کی ایک تعبیر 1992 میں پیش کی گئی جب یونیورسٹی آف بوفیلو کے جیروم چینٹنگ نے ایک ذہین گولی (smart pill) تیار کی۔ یہ دراصل گولی کی شکل کی ڈیوائس تھی جسے نگلا جا سکتا تھا۔ اسے باہر سے ٹریک بھی کیا جس سکتا تھا۔ پھر اسے کسی مخصوص مقام پر دوا خارج کر نے کی ہدایات بھی دی جا سکتی تھیں۔ ایسی سمارٹ پلز بھی تیار کی گئیں جو ٹی وی کیمرے پر مشتمل تھیں تاکہ جسم کے اندر معدے اور انتڑیوں کی تصویر کشی بھی کی جا سکے۔ اس طرح جسم کے اندر ٹیومرز کو تلاش کر سکتی تھیں۔ مستقبل میں ایسی سمارٹ پلز کے ذریعے ہلکی پھلکی سرجری بھی کی جا سکے گی اور جلد کی چیر پھاڑ کئے بغیر ہی، اندرونی سرجری کو ممکن بنایا جا سکے گا۔ اس سے بھی چھوٹی ڈیوائس نینو پارٹیکل ہے، یعنی ایک ایسا مالیکیول جو کسی مخصوص ٹارگٹ پر کینسر کے خلاف لڑنے والی دوا پہنچا سکے۔ یہ ڈیوائس کینسر کے علاج میں انقلاب برپا کر دے گی۔ اس نینو پارٹیکل کو مالیکیولر سمارٹ بموں سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جو کسی مخصوص مقام پر کیمیائی مواد پھینک سکیں ۔ اس طریقے میں دیگر صحت مند خلیوں کو نقصان پہنچنے کا امکان بہت کم ہے۔ نینو پاٹیکلز کی بدولت یہ سب کچھ تبدیل ہو کر رہ جائے گا۔ اس میں کیمو تھراپی کی ادویات کیپسول نما مالیکیولز میں رکھی جائیں گی۔ پھر انھیں خون کے بہائو میں شامل کیا جائے گا۔ یہ پارٹیکلز جب اپنی منزل پر پہنچیں گے تو وہاں دوا کو خارج کر دیں گے۔ اس نینو پارٹیکلز کی اصل خوبی ان کی جسامت ہے۔ یہ محض 10 سے 100 نینو میٹر کی جسمات کے حامل ہوں گے اور خون کے خلیے کے اندر داخل نہیں ہو سکیں گے۔ اس طرح یہ خون کے عام خلیات کے ساتھ بے ضرور انداز سے ٹکراتے پھریں گے۔ چونکہ کینسر کے خلیات ذرا مختلف ہوتے ہیں اور ان کی دیواریں بڑے اور بھدے مساموں کے ساتھ چھیدی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس طرح یہ نینو پارٹیکلز کینسر کے ان خلیات کے اندر بآسانی داخل ہو سکیں گے اور وہاں مطلوبہ دوا پہنچا سکیں گے۔ ڈاکٹر حضرات کو ان کینسر زدہ خلیات تک مطلوبہ دوا پہنچانے کے لئے کسی پیچیدہ مددگار نظام کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ پس ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل قریب میں نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کئے گئے مختلف پارٹیکلز اس قابل ہوں گے کہ وہ رسولی بننے سے پہلے ہی ،کینسر زدہ خلیات کی شناخت کر سکیں، ان تک مطلوبہ دوا پہنچا سکیں اور انھیں ختم کر سکیں ۔