انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت میں فرق

malik shahid 01 Mar, 2021 سائنس وٹیکنالوجی

کچھ لوگ انسانی دماغ کو بھی کسی ڈیجیٹل کمپیوٹر کی طرح سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ دماغ میں کوئی پینٹئم چپ نہیں ہے، نہ کوئی آپریٹنگ سسٹم ہے، نہ کوئی ایپلیکیشن سسٹم ہے، نہ کوئی سی پی یو ہےاور نہ ہی کوئی پروگرامنگ ہے۔ ڈیجیٹل کمپیوٹر کی ساخت، دماغ کی ساخت سے بالکل مختلف ہے۔ دماغ ایک طرح سے سیکھنے والی مشین ہے اور ایسے نیورانز کا مجموعہ ہے جو ہر نئی چیز سیکھنے کے بعد اپنا تانا بانا دوبارہ بُنتے ہیں (یعنی اپنی ری وائرنگ کرتے ہیں)، جبکہ ایک پرسنل کمپیوٹر بالکل نہیں سیکھتا۔ ہمارا دماغ کسی قسم کی پروگرامنگ یا سافٹ وئیر کا محتاج نہیں ہے۔ ہمارا دماغ ایک طرح کا "نیورل نیٹ ورک ہے" ہے، یعنی نیورانز کا ایک گنجلک مجموعہ جو اپنے آپ کو مسلسل ری وائر کرتا رہتا ہے ۔مزید یہ کہ نیورل نیٹ ورک، ڈیجیٹل کمپیوٹر کی نسبت بہت مختلف ساخت رکھتے ہیں۔ اورسب سے اہم بات یہ ہے کہ ڈیجیٹل کمپیوٹر نا قابل یقین رفتار، یعنی تقریباََ روشنی کی رفتار سے حسابات کا عمل سر انجام دیتے ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں انسانی دماغ بہت زیادہ سست ہے۔ عصبی جھماکے محض 200 میل فی گھنٹہ کی سست رفتار سے سفر کرتے ہیں۔ لیکن دماغ اپنے تمام افعال اس قدر تیزی سے اس لیے سر انجام دے لیتا ہے ، کیونکہ یہ بالکل متوازی کام کرتا ہے۔ یعنی اس کے 100ارب نیورانز بیک وقت کام کرتے ہیں، جن میں سے ہر ایک نیوران کچھ نہ کچھ عمل سر انجام دے رہا ہوتا ہے۔ پھر ہر نیوران 10 ہزار دیگر نیورانز کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ اس لیے ایک سپر فاسٹ سنگل پروسیسر، ایک انتہائی سست متوازی پروسیسر کے مقابلے میں شکست کھا جاتا ہے۔ اس کو ایک بچگانہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر ایک بلی ایک چوہے کو ایک منٹ میں کھاتی ہے تو ایک لاکھ بلیاں ایک لاکھ چوہوں کو کتنی دیر میں کھائیں گی؟ جواب: ایک منٹ میں۔ دوسری بات یہ کہ روبوٹ میں روزمرہ کی سمجھ بوجھ ( کامن سینس) نہیں ہے۔ اگرچہ روبوٹ ہم انسانوں کی نسبت زیادہ بہتر سن سکتے ہیں، لیکن وہ اپنی سنی ہوئی بات کو سمجھ نہیں سکتے۔ مثلاََ درج ذیل بیانات پر غور کریں: ٭ بچے مٹھائی پسند کرتے ہیں لیکن سزا پسند نہیں کرتے ٭ رسی کسی چیز کو کھینچ سکتی ہے لیکن دھکیل نہیں سکتی ٭ چھڑی کسی چیز کو دھکیل سکتی ہے لیکن کھینچ نہیں سکتی ٭ جانور ہماری زبان بول نہیں سکتے لیکن سمجھ سکتے ہیں ٭ گول گول گھومنے سے سر چکرانے لگتا ہے ہمارے لیے ان میں سے ہر فقرہ ایک معمولی سمجھ بوجھ کی بات ہے لیکن روبوٹ انھیں نہیں سمجھ سکتا۔ اس بات کی کوئی منطقی پروگرامنگ نہیں کی جا سکتی کہ رسی کسی چیز کو کھینچ سکتی ہے لیکن دھکیل نہیں سکتی۔ ہم نے ان بیانات کا علم اپنے تجربات سے حاصل کیا ہے۔ وہ ہمارے دماغ میں پہلے سے پروگرام شدہ نہیں تھے۔