تیل کا خاتمہ : اگر تیل کے ذخائر ختم ہو گئے تو کیا ہو گا؟

malik shahid 01 Mar, 2021 سائنس وٹیکنالوجی

کسی دانشور نے کہا تھا کہ "پتھروں کا دور (The Stone Age)اس لیے ختم نہیں ہوا کہ پتھر ختم ہو گئے تھے۔اسی طرح تیل کے دور کا اختتام بھی اس لیے نہیں ہو گا کہ تیل ختم ہو جائے گا، بلکہ اس لیے ہو گا کہ ہم جلد ہی تیل کا بہتر متبادل ڈھونڈ نکالیں گے"۔ آج پوری دنیا رکازی ایندھن (fossil fuel) کی کسی نہ کسی شکل (یعنی تیل، قدرتی گیس اور کوئلہ وغیرہ) پر انحصار کر رہی ہے۔ اس قت دنیا بھر میں تقریباََ 25 ٹریلین واٹ توانائی استعمال ہو رہی ہے۔ اس توانائی کی 33 فیصد مقدار تیل سے، 25 فیصد کوئلے سے، 20 فیصد گیس سے، 7 فیصد نیوکلیائی توانائی سے، 14 فیصد ہائیڈرو الیکٹرک اور بائیو ماس سے اورمحض ایک فیصد شمسی اور قابل تجدید (renewable) ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔ رکازی ایندھن کے بغیر دنیا کی معیشت جمود کا شکار ہو سکتی ہے۔ ایک امریکی دانشور نے کہا تھا کہ تیل، تاریخ کا سب سے بڑا انعام ہے جو انسان کا ھاصل ہوا۔ غور کیجئے تو یہ بات کچھ غلط بھی نہیں۔ عمومی درجہ حرارت پر سیال حالت میں دستیاب، زمین کے نیچے وافر ذخائر، بہترین ایندھن، ایندھن کے علاوہ دوسرے استعمال بہت کم، نکالنے کے لئے کم توانائی درکار، جلانے پر زیادہ توانائی حاصل اور خاصی حد تک محفوظ بھی۔ ایم کنگ ہیوبرٹ وہ پہلا شخص تھا جس نے تیل کے دور کے اختتام کو بہت پہلے دیکھ لیا تھا۔ وہ شیل آئل کمپنی میں پیٹرول انجینئر تھا۔ 1956 میں ہیوبرٹ نے امریکن پٹرولیم انسٹیٹیوٹ میں اپنی ایک تقریر میں ایک تشویش ناک پیش گوئی کہ جسے اس وقت دنیا بھر میں سراہا گیا۔ ان نے پیش گوئی کی کہ امریکہ کے تیل کے ذخائر اتنی تیزی سے کم ہو رہے ہیں کہ عنقریب ان کا 50 فیصد زمین سے نکال لیا جائے گا جس سے امریکہ کی تنزلی کا دور شروع ہو سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ دنیا بھر میں تیل کی کھپت میں اس قدر تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہ چند عشروں میں تیل کے ذخائر ختم ہو سکتے ہیں۔اگر چہ اس کی یہ پیش گوئی درست ثابت نہیں ہوئی اور دنیا بھر میں تیل کے مسلسل نئے ذخائر دریافت ہوتے رہے ہیں ، تاہم اس کے استعمال میں بھی بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین اس صورت حال پر زیادہ خوش نہیں ہیں ۔ امریکہ جیسا ملک اپنی تیل کی ضروریات کا 60 فیصدباہر سے منگوا رہا ہے۔سعودی عرب میں تیل کے 267 ارب بیرل کے ذخائر موجود ہیں، اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ پورا ملک ہی زیر زمین موجود تیل کی سطح پر تیر رہا ہے۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں میں توانائی کا ستعمال بہت زیادہ ہے اور یہ تمام توانائی تیل سے ہی حاصل کی جاتی ہے۔ اگرچہ تیل کے مجموعی ذخائر کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ہم آئندہ چند عشروں تک تیل کی قلت کا شکار نہیں ہوں گے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تیل کے یہ ذخائر بہرحال ختم ہو جائیں گے کیونکہ دنیا بھر کی صنعتوں میں اس کا بے دریغ استعمال جا ری ہے۔ نیز یہ کہ تیل کی اوسط قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ بات دنیا کی معیشت پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔اگر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان مسلسل جاری رہتا ہے تو اس سے دنیا بھر میں خوراک کی دستیابی اور آلودگی پر قابو پانے میں بہت مشکلات پیدا ہوں گی۔