انسانی دماغ اورعصبیاتی نظام کی تفصیلی نقشہ کشی: The Connectome

malik shahid 25 Feb, 2021 سائنس وٹیکنالوجی

انسانی دماغ اورعصبیاتی نظام(خصوصاََ نیورانز)کی تفصیلی نقشہ کشی کی بدولت ، دماغ کے کام کرنے کے طریقہ کارکوسمجھنے اوردماغ سے متعلقہ مختلف بیماریوں کوسمجھنے میں بہت مددملے گی۔ انسانی دماغ کائنات کی پیچیدہ ترین مشینوں میں سے ایک ہے۔ خاص طورپردماغی خلیات کے باہمی رابطوں کوسمجھنااس لحاظ سے بہت مشکل ہے کہ دما غ میں قریباََ ایک کھرب سے زائدنیورانزپائے جاتے ہیں اورہرنیوران قریباََ 10,000دیگرنیورانزکے ساتھ رابطہ کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ عصبیاتی خلیات کے اس باہمی رابطے کے عمل کے لیے ”کنکٹوم“کی اصطلاح وضع کی گئی ہے۔ ”کنکٹوم (connectome)“کی یہ اصطلاح پہلی بار2005میں استعمال کی گئی اوراس سے مراددماغ کے اندرواقع عصبیاتی رابطوں (neural interactions) کی تنظیم کی سمجھنا، ان کی تصویرکشی اورنقشہ کشی کرناہے۔ امریکہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ نے انسانی دماغ کے اندرموجود عصبیاتی نیٹ ورک کو سمجھنے اوراس کی نقشہ کشی کرنے کے لیے ہیومن جینوم پراجیکٹ کی طرزپرایک منصوبہ”ہیومن کنکٹوم پراجیکٹ“ شروع کیاہے۔ ا س منصوبے میں غیرجراحی ٹیکنالوجی کی بجائے ، الیکٹران خوردبین استعمال کرتے ہوئے ،پوسٹ مارٹم کی طرزپرایک ایک نیوران اورعصبی رابطہ کار (synapse)کاتجزیہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پران کے جامع نقشے تیار کئے جائیں گے ۔ اس منصوبے کی تکمیل سے ہم انسانی دماغ کے مختلف حصوں کے باہمی روابط کے طریقہ کارکوزیادہ تفصیل سے بیان کرنے کے قابل ہوسکیں گے اوراس طرح کئی اقسام کی عصبیاتی بیماریوں (neurological diseases)کوسمجھنے میں مددملے گی