مصنوعی خلیے کی تیاری

malik shahid 25 Feb, 2021 سائنس وٹیکنالوجی

مصنوعی خلیہ کی تیاری دراصل مصنوعی حیات (Artificial life)کی تیاری کا ایک ابتدائی مرحلہ ہے۔ مصنوعی خلیہ سے مراد ایسا کوئی بھی خلیہ ہوسکتاہے جو جاندار خلیے جیسی خصوصیات کا حامل ہو۔ سوال یہ ہے کیا محض ”پروگرامنگ“کے ذریعے ایسی کوئی چیزبنائی جاسکتی ہے جو کسی جاندارکے طرزعمل کی نقل کرسکے۔خوش قسمتی سے اس سلسلے میں ابتدائی کامیابی حاصل کرلی گئی ہے۔ سائنسدانوں نے ایک بیکٹیریاکا جینیاتی سافٹ وئیرتیارکرکے اسے ایک میزبان بیکٹیریامیں پیوندکیا جس کے نتیجے میں بیکٹیریامیں نشوونما کا عمل شروع ہوگیااور اس نے اپنی نسل کو بڑھانا شروع کردیا۔ یہ تجربہ کیلیفورنیا کے جے کریگ وینٹر انسٹیٹیوٹ (JCVI)میں ڈاکٹر کریگ وینٹر (Craige Venter)کی نگرانی میں سرانجام دیا گیا۔نئے پیدا ہونے والے اس خلیے کو”تالیفی (synthetic)خلیہ یامصنوعی خلیہ“کا نام دیاگیاحالانکہ اس عمل میں صرف جینوم مصنوعی تھا۔ تاہم اس عمل کو ماہرین نے ”مصنوعی حیات“کی پیدائش میں ایک اہم پیش رفق قراردیاہے۔ کسی مصنوعی خلیہ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوگی کہ اگراسے کسی جاندار کے جسم میں داخل کیا جائے تو یہ اس جاندارکے لیے اجنبی ثابت نہ ہو۔ ان مصنوعی خلیات کی مدد سے جاندارکے جسم میں کسی مخصوص مقام پردواکی ترسیل کا کام لیاجاسکتاہے۔ تاحال مصنوعی خلیہ تیارکرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ایک ایسی ”خلوی جھلی(Cell membrane) کی تیاری ہے جوقدرتی خلوی جھلی کی طرح ذہین ہواورخلیہ میں مختلف مرکبات اور خامروں کی آمدورفت کوکنٹرول کرسکے۔ موجودہ ارتقا یافتہ خلیات کی جھلیاں ایسے پیچیدہ چربیلے مادے پرمشتمل ہوتی ہیں جن میں فاسفیٹ کی آمیزش ہوتی ہے۔ ماہرین ارتقاکے خیال میں چندارب سال قبل جب زمین پر زندگی نے جنم لیاتھاتواس وقت خلوی جھلیاں محض چربیلے ترشوں(acids)پرمشتمل تھیں۔ اس لیے اب ماہرین ابتدائی طورپرویسی ہی سادہ خلوی جھلیاں تیارکرنے کاسوچ رہی ہیں۔ اگر ایسی ذہین خلوی جھلی بنانے میں کامیابی حاصل ہوگئی جوخلیے میں ضروری اجزاکی ترسیل کوممکن بناسکیں تو”مصنوعی حیات“ کا خواب بہت جلدشرمندئہ تعبیرہوسکے گا۔