فلو کی تمام اقسام کے لئے "یونیورسل ویکسین" کی تیاری

malik shahid 25 Feb, 2021 سائنس وٹیکنالوجی

گزشتہ چندسال میں ہم برڈ فلواورسوائن فلوکی عالمی تبا ہ کاریوں کا مشاہدہ کرچکے ہیں جبکہ آج کل کورونا وبا کا شکار ہیں۔ اگرچہ اب ان کا زور ٹوٹ چکا ہے لیکن مستقبل میں فلو کی کوئی بھی نئی اورخطرناک قسم ظاہرہوسکتی ہے اوربدقسمتی سے ابھی تک کوئی ایسی عالمی ویکسین نہیں بنائی جاسکی جو فلوکی تمام اقسام کے خلاف موثرثابت ہوسکے۔ کورونا وبا کی ویکسین بننے میں بھی بہرحال ایک سال سے زیادہ عرصہ لگ گیا ہے اور ابھی تک یہ ویکسین 100 فیصد موثر ثابت بھی نہیں ہو رہی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ فلوکاوائرس اپنے جینیاتی کوڈکومسلسل تبدیل(mutate)کرتارہتاہے۔ اگرکسی جاندارکے جسم میں فلوکے کسی وائرس کے خلاف ویکسین کے ذریعے مدافعت پیدا کردی جائے تویہ مدافعت محض کچھ ہی مدت تک برقراررہ سکتی ہے کیونکہ اگلے سال(یاچندسال بعد) حملہ آور ہونے والا فلووائرس (اپنی تبدیل شدہ حالت کی وجہ سے) جاندارکے ویکسین شدہ مدافعاتی نظام کے لیے اجنبی ثابت ہوتاہے اوراس طرح یہ جاندارکومتاثرکرنے میں کامیاب ہوجاتاہے۔جبکہ چندعشروں کے وقفے سے نمودارہونے والافلووائرس توبالکل ہی نئی اور انوکھی جینیاتی تبدیلی کے ساتھ ظاہرہوسکتاہے ، جسے ہماراامنیاتی نظام (immune system)بالکل ہی نہیں سمجھ پاتااوراس طرح یہ عالمی پیمانے پربڑی تباہی پھیلانے کا باعث بن سکتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کوفلوکی کسی بھی قسم کے لیے ہر مرتبہ نئی ویکسین تیارکرناپڑتی ہے۔ اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیاایسی کوئی یونیورسل ویکسین بنائی جاسکتی ہے جوفلووائرس کی تمام اقسام کے خلاف موثرثابت ہوسکے؟ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ایسا ممکن ہے۔ ان کے خیال میں وائرس کا تمام جینیاتی کوڈ تبدیل نہیں ہوتا۔ اس لیے اگروائرس کے ان جینیاتی حصوں کی نشاندہی کرلی جائے جوکسی بھی حالت میں تبدیل نہیں ہوتے اورمستقل قیام پذیرحالت میں رہتے ہیں توان حصوں کے خلاف امنیاتی ردعمل پیداکیاجاسکتاہے۔ یہ امنیاتی رد عمل وائرس کو پہچان کران کامقابلہ کرسکتاہے۔ اس طریقہ کارکے تحت ویکسین بنانے کے کئی منصوبوں پرکام جاری ہے۔ فلووائرس میں سب سے زیادہ تبدیلی ”ہیماگلوٹینن(hemagglutinin)“نامی پروٹین میں واقع ہوتی ہے اور یہی پروٹین سب سے زیادہ انسانی جسم کو متاثرکرتاہے۔ نیویارک میں واقع ”ماﺅنٹ سینائی سکول آف میڈیسن“ کے ایک مائیکروبائیولوجسٹ پیٹرپالیس(Peter Palese)نے اپنی ٹیم کے ساتھ اس تکنیک پرکام کرتے ہوئے ”ہیماگلوٹینن“کے ان حصوں کی نشاندہی کی ہے جو ہمیشہ مستقل حالت میں رہتے ہیں۔ انھوں نے ان حصوں کے خلاف ردعمل پیداکرنے والی ویکسین کی تیاری بھی شروع کردی ہے۔ پیٹرکاکہناہے کہ ان کی تیارکردہ ویکسین تین اقسام کے فلووائرس کے خلاف مدافعت پیداکرسکے گی جن میں بدنام زمانہ سوائن فلو(N1H1)بھی شامل ہے۔پیٹرپالیس کی یہ تحقیق مشہورعالمی جریدے ”پروسیڈنگزآف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز“میں شائع ہوئی ہے۔ اگریہ اوراس جیسے دیگرطریقہ ہائے کار کامیاب ثابت ہوتے ہیں توشایدبہت جلدفلوکی تمام اقسام بھی دیگر وبائی امراض(مثلاََپولیو،خسرہ ، چیچک وغیرہ) کی طر ح عام سی بیماریاں ثابت ہوں گی جن کی ویکسین استعمال کرکے ہم ان بیماریوں سے ہمیشہ کے لیے بے فکرہوجاتے ہیں۔