سورج سے 50ارب گناتک بڑے25ہزاربلیک ہولزکی تصویر

Muhammad Dastagir 24 Feb, 2021 سائنس وٹیکنالوجی

بظاہر معمولی سی دکھائی دینے والی اس بلیک اینڈ وائٹ تصویر میں ہر سفید نقطہ ایک بہت بڑا بلیک ہول ہے… اتنا بڑا کہ ایسے ہر بلیک ہول کی کمیت ہمارے سورج کے مقابلے میں ایک لاکھ گنا سے 50 ارب گنا تک زیادہ ہوسکتی ہے۔ یعنی اس تصویر میں ہر نقطہ ایک ’’سپر میسیو بلیک ہول‘‘ ہے!یہ تصویر یورپی ماہرینِ فلکیات کی ایک وسیع ٹیم نے کئی سال محنت کے بعد تیار کی ہے جسے بنانے کےلیے انتہائی کم تعدد (low frequency) والی ریڈیو لہروں کے علاوہ سپر کمپیوٹر کی زبردست طاقت بھی استعمال کی گئی ہے۔زمین کے گرد لپٹا ہوا ’’کرہ رواں‘‘ (آئنو اسفیئر) کسی فلٹر کا کام کرتے ہوئے صرف 5 میگا ہرٹز سے 30 گیگا ہرٹز (30,000 میگا ہرٹز) فریکوینسی کی ریڈیو لہروں ہی کو زمینی سطح تک پہنچنے دیتا ہے۔ سائنس کی زبان میں اسے ’’ریڈیو کھڑکی‘‘ (ریڈیو ونڈو) کہا جاتا ہے۔تاہم جب یہ لہریں کرہ ہوائی (ایٹموسفیئر) سے گزرتی ہیں تو اِن میں انتشار پیدا ہوتا ہے جس کا انحصار اُس وقت اور مقام پر کرہ ہوائی کی کیفیت پر ہوتا ہے۔اس تصویر میں 25,000 ’’بڑے بڑے بلیک ہولز‘‘ ہیں!۔یہ تصویر یورپی ماہرینِ فلکیات کی ایک وسیع ٹیم نے کئی سال محنت کے بعد تیار کی ہے جسے بنانے کےلیے انتہائی کم تعدد (low frequency) والی ریڈیو لہروں کے علاوہ سپر کمپیوٹر کی زبردست طاقت بھی استعمال کی گئی ہے۔ اگر آپ اب بھی اس تصویر کو معمولی سمجھ رہے ہیں تو اس کامیابی کا پس منظر سمجھنا آپ کےلیے ضروری ہوگا۔ریڈیو کھڑکی اور کم تعدد والی لہریں۔واقعہ یہ ہے کہ زمین کے گرد لپٹا ہوا ’’کرہ رواں‘‘ (آئنو اسفیئر) کسی فلٹر کا کام کرتے ہوئے صرف 5 میگا ہرٹز سے 30 گیگا ہرٹز (30,000 میگا ہرٹز) فریکوینسی کی ریڈیو لہروں ہی کو زمینی سطح تک پہنچنے دیتا ہے۔ سائنس کی زبان میں اسے ’’ریڈیو کھڑکی‘‘ (ریڈیو ونڈو) کہا جاتا ہے۔تاہم جب یہ لہریں کرہ ہوائی (ایٹموسفیئر) سے گزرتی ہیں تو اِن میں انتشار پیدا ہوتا ہے جس کا انحصار اُس وقت اور مقام پر کرہ ہوائی کی کیفیت پر ہوتا ہے۔ کم فریکوئنسی والی لہروں کےلیے یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہے جس کے باعث ان کے ذریعے اب تک آسمان کی ریڈیو تصاویر حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔اگرچہ بڑے بڑے ڈش انٹینا جیسی زمینی ریڈیو دوربینیں پچھلے پچاس سال سے اُن آسمانی مناظر کی عکاسی کر رہی ہیں جو آنکھ سے دکھائی نہیں دیتے، لیکن اس کےلیے وہ زیادہ فریکوئنسی والی ریڈیو لہروں سے ہی استفادہ کرتی ہیں۔ یورپ کا ’’لوفار‘‘ منصوبہ 100 میگا ہرٹز اور اس سے کم فریکوئنسی والی ریڈیو لہروں کے ذریعے آسمان کی تصویر کشی کےلیے فی الحال صرف ایک ہی بڑا منصوبہ ’’لو فریکوئنسی ایرے‘‘ (LOFAR) ہے جس کے 20 ہزار سے زائد ’’ڈائی پول ریڈیو انٹینا‘‘ پورے یورپ میں 52 مقامات پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ویسے متبادل طور پر اس منصوبے کو ’’انٹرنیشنل لوفار ٹیلی اسکوپ‘‘ (ILT) بھی کہا جاتا ہے۔یہ منصوبہ 2010 میں شروع ہوا اور فروری 2021 میں (یعنی اسی سال) مکمل ہو کر رُو بہ عمل ہوا ہے۔ مجموعی طور پر یہ تمام ڈائی پول ریڈیو انٹینا آپس میں مل کر ’’لوفار‘‘ کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ کم فریکوئنسی والی ریڈیو لہروں کی مدد سے آسمان کی انتہائی وسیع اور تفصیلی تصویر بنا سکے۔ لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں کہ جتنی آسانی سے یہاں لکھ دیا گیا ہے۔ بلیک ہول اور ’’آخری چیخ‘‘ سادہ الفاظ میں بات کریں تو کسی بھی بلیک ہول کی کششِ ثقل (گریویٹی) اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ مادّہ تو کیا، روشنی بھی وہاں سے فرار نہیں ہوسکتی۔ خوش قسمتی سے بلیک ہول کی یہ ’’ناقابلِ فرار‘‘ کشش اس کے ارد گرد ایک مخصوص علاقے یعنی ’’واقعاتی افق‘‘ (ایونٹ ہورائزن) تک محدود ہوتی ہے۔کوئی بھی چیز (مثلاً گیس اور گرد وغیرہ) جیسے جیسے بلیک ہول کے قریب پہنچتی ہے، ویسے ویسے اس پر بلیک ہول کی کششِ ثقل کا اثر بھی بڑھتا جاتا ہے اور وہ مزید تیزی سے، چکر لگاتی ہوئی، بلیک ہول سے اور بھی نزدیک ہونے لگتی ہے… یہاں تک کہ وہ واقعاتی اُفق پر پہنچ جاتی ہے۔تاہم یہاں تک پہنچتے پہنچتے اس چیز کی رفتار اور توانائی، دونوں ہی بہت زیادہ ہوچکی ہوتی ہیں۔ واقعاتی اُفق کو عبور کرتے ہی وہ چیز خود تو بلیک ہول کے اندر غائب ہوجاتی ہے لیکن ٹھیک اسی مرحلے پر وہ زبردست توانائی بھی خارج کرتی ہے جس کا کچھ حصہ واقعاتی اُفق سے ’’ذرا باہر‘‘ ہونے کی وجہ سے بیرونی خلاء میں فرار ہوجاتا ہے۔بلیک ہول سے فرار ہونے والی یہ توانائی ایکسریز سے لے کر ریڈیو لہروں تک، کئی طرح کی برقی مقناطیسی لہروں کی شکل میں ہوتی ہے جس کا مخصوص انداز اس مقام پر بلیک ہول کی موجودگی کا پتا دیتا ہے۔ سائنس داں اسے بلیک ہول میں گرتے ہوئے مادّے کی ’’آخری چیخ‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اب تک جتنے بھی بلیک ہولز دریافت کیے گئے ہیں، وہ سب کے سب اسی بنیاد پر دریافت ہوئے ہیں۔