سائنسدانوں نے پراسرار ’گرم سیاہ برف‘ بنا لی

malik shahid 04 Nov, 2021 سائنس وٹیکنالوجی

شکاگو: برف کا نام آتے ہی ذہن میں ٹھنڈی اور سفید چیز کا خیال آتا ہے لیکن اب امریکی سائنسدانوں نے زبردست دباؤ اور بلند درجہ حرارت پر پانی کو سیاہ رنگت والی برف میں تبدیل کرلیا ہے۔ تکنیکی زبان میں یہ ’سپرآیونک آئس‘ کہلاتی ہے جسے عام زبان میں ’گرم سیاہ برف‘ کہا جاتا ہے۔ اس بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ شاید برف کی یہی قسم یورینس اور نیپچون سیاروں کی گہرائی میں موجود ہے، جس کی وجہ سے ان دونوں سیاروں کا عجیب و غریب مقناطیسی میدان بھی وجود میں آتا ہے۔ گرم سیاہ برف کی پیش گوئی 1990 کے عشرے میں کی گئی تھی جبکہ اسے پہلی بار 2019 میں بنایا گیا، لیکن وہ ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت تک اپنی حالت برقرار رکھ پائی۔ نئے تجربات میں آرگون نیشنل لیبارٹری، امریکا میں تیار کی گئی ’سپر آیونک آئس‘ کئی سیکنڈ تک اپنی اسی حالت میں رہی اور یوں سائنسدانوں کو اس کی کچھ اہم خصوصیات معلوم کرنے کا موقع بھی مل گیا۔ واضح رہے کہ شدید دباؤ اور زبردست درجہ حرارت پر یہ پراسرار برف اس وقت بنتی ہے کہ جب پانی کے سالموں (مالیکیولز) میں موجود ہائیڈروجن اور آکسیجن ایک دوسرے سے الگ ہوکر آئنز (باردار ایٹموں) کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ اس کے بعد آکسیجن آئن خود کو مکعب (کیوب) جیسی ایک جالی کی شکل میں ترتیب دے دیتے ہیں جبکہ ہائیڈروجن آئن اس جالی میں آزادی سے اِدھر اُدھر حرکت کر رہے ہوتے ہیں۔