مصنوعی ذہانت کاانقلاب،احساسات کی شناخت ہوسکے گی

Muhammad Dastagir 16 Feb, 2021 سائنس وٹیکنالوجی

جنوبی کوریا: مستقبلیاتی ٹیکنالوجی کے ممتاز سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی ایک نئی صورت پیش کی ہے جسے ’آرٹیفیشل ایموشنل انٹیلی جنس‘ کا نام دیا گیا ہے اور فائیوجی مواصلاتی ٹیکنالوجی کے ملاپ سے یہ ایک نئے انقلاب کو جنم دے سکتی ہے۔یہ احساسات کی شناخت کرنے والا ایک نظام ہے لیکن اس کے بہت سے استعمال کے ساتھ اس سے کئی سیکیورٹی مسائل بھی وابستہ ہوسکتےہیں۔ اس میں مواصلاتی ٹیکنالوجی اور اے آئی کو ملایا جائے گا جس کے بعد انسانوں، مشینوں، اشیا اور آلات کو باہم ملایا جائےگا۔ اس کے بعد ازخود چلنے والے کاروں، اسمارٹ ڈرون اور صحت کی سہولیات کو ایک نیا زاویہ ملے گا۔نیشنل یونیورسٹی آف کوریا کے پروفیسر ہیونبوم کِم کہتے ہیں کہ فائیو جی کی بدولت لوگوں کے جسم، چہرے اور لمس کو محسوس کرکے ان کے احساسات معلوم کئے جاسکیں گے۔ اس طرح کسی جلد باز ڈرائیور اور یا ذہنی تناؤ کے شکار پائلٹ کی شناخت ہوسکے گی۔ اسی طرح خودکشی کی جانب گامزن یا انتہائی مایوس شخص کی شناخت بھی کی جاسکے گی۔