پاکستانی سائنسدان ضدِ مادہ سرد کرنے والی عالمی ٹیم میں شامل

Muhammad Dastagir 08 Apr, 2021 سائنس وٹیکنالوجی

جنیوا: 32 سالہ پاکستانی نوجوان سائنسداں ڈاکٹر محمد صمید اور ان کے ساتھیوں کے اہم کام کے اعتراف میں بین االاقوامی ہفت روزہ سائنسی جریدے ’نیچر‘ نے ان کے غیرمعمولی تجربے کو اپنے تازہ سرورق پر شائع کیا ہے۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد صمید اس وقت یورپی مرکز برائے نیوکلیائی طبیعیات (سینٹر فار یوروپیئن نیوکلیئر فزکس یا ’سرن‘) سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے سرن میں واقع ’اینٹی ہائیڈروجن لیزر فزکس ایپریٹس‘ یا ایلفا میں اینٹی ہائیڈروجن ذرات کو لیزر کی مدد سے سرد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل لیزر کو ضدِ مادہ (اینٹی میٹر) سرد کرنے کےلیے کبھی استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔اگرچہ 40 برس قبل لیزر کی مدد سے عام مادے پر مشتمل ایٹموں کو سرد کرنے کا تصور پیش کیا گیا لیکن اسے ضدِ مادہ (اینٹی میٹر) یا ضدِ ذرات (اینٹی پارٹیکلز) کو سرد کرنے کےلیے کبھی استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ اب ڈاکٹر صمید اور ان کی ٹیم نے یہ کام کیا ہے۔انگریزی اخبارایکسپریس ٹریبیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد صمید نے کہا کہ اسکولوں کی سطح تک ہمیں ایٹم کےبارے میں یہی بتایا جاتا ہے کہ یہ مزید ذیلی ذرات یعنی الیکٹرون، پروٹون اور نیوٹرون پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ’لیکن گہرائی میں دیکھیں تو الیکٹرون بنیادی ذرات کے خاندان لیپٹون سے تعلق رکھتے ہیں۔ جبکہ پروٹون اور نیوٹرون اس زمرے میں شامل نہیں اور یہ ذرات کوارکس اور گلووآنز سے تشکیل پاتے ہیں۔ پھر کوارکس کی بھی چھ ذیلی اقسام ہیں۔‘‘ 1928 میں ممتاز ماہرِ طبیعیات پال ڈیراک نے نظری طور پر ضدِ مادہ (اینٹی میٹر) کی پیش گوئی کی تھی اور اینٹی الیکٹرون کا تصور پیش کیا، جس کا تجرباتی ثبوت صرف چار سال بعد ہی ہمارے سامنے آگیا۔ پھر ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ضدِ ذرات آخر کس طرح سفر کرتے ہیں۔ ایک ذرے اور ضد ذرے کی کمیت تو یکساں ہوتی ہے لیکن دونوں پر ایک دوسرے کے مخالف چارج مختلف ہوتا ہے۔ اب اگر الیکٹرون کو مقناطیسی میدان میں رکھا جائے تو وہ جس سمت میں مڑے گا جبکہ پوزیٹرون (اینٹی الیکٹرون) مقناطیسی میدان کی موجودگی میں اس سے مخالف سمت میں مڑے گا۔اب لیزر کے ذریعے اینٹی ہائیڈروجن سرد کرنے کے بعد اینٹی میٹر کے بارے میں ہمارے علم اور تجربے میں بیش بہا اضافہ ہوسکے گا۔ اپنی کامیابی کے متعلق ڈاکٹر محمد صمید نے بتایا کہ وہ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کے والدین نے انہیں بہترین تعلیم دلوائی اور اے لیول تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کورنل یونیورسٹی کی اسکالرشپ پر طبیعیات میں مزید تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں ںے سرن میں موسمِ سرما کی انٹرن شپ حاصل کی اور یہاں اپنی صلاحیتوں کے بنا پر اس کی ایلفا لیب سے وابستہ ہوگئے۔