کیا خلا میں بجلی گھر بنا کر زمین پر بجلی منتقل کی جا سکتی ہے؟

malik shahid 06 Apr, 2021 سائنس وٹیکنالوجی

یہ ایک سائنسی افسانے کی طرح لگتا ہے کہ ایک بہت بڑا شمسی توانائی کا سٹیشن خلا میں تیرتے ہوئے زمین کو بہت زیادہ مقدار میں توانائی مہیا کرے۔ بہت عرصہ قبل اس تصور کو سب سے پہلے روسی سائنسدان کونسٹانٹن ٹیسوئیکوسکی نے سنہ 1920 میں پیش کیا تھا۔ تاہم اب ایک صدی بعد سائنسدان اس تصور کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے بہت کوشش کر رہے ہیں۔ یورپیئن سپیس ایجنسی کو اب اس کی افادیت کا احساس ہوا ہے اور اب وہ اس نوعیت کے منصوبے کو فنڈ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ سائنسدانوں کی پیشگوئی ہے کہ اس منصوبے سے خلا سے جو پہلی صنعتی سطح پر توانائی حاصل ہو گی وہ ایک ’طاقتور توانائی کی شعاع‘ کی صورت میں ہو گی۔ اس دور کا سب سے بڑا مسئلہ موسمیاتی تبدیلی ہے لہذا بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں بڑھتے درجہ حرارت سے لے کر موسموں میں تبدیلی پہلے ہی محسوس کی جا رہی ہے۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ہمیں توانائی پیدا کرنے اور اس کو استعمال کرنے کے طریقہ کار کو سختی سے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ حالیہ برسوں میں قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجی نے بہتر کارکردگی اور کم لاگت کے ساتھ حیران کُن ترقی کی ہے۔ لیکن ان کے استعمال میں ایک رکاوٹ یہ ہے کہ وہ مستقل توانائی کی فراہمی نہیں کرتے ہیں۔ ہوا یا شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ تب حاصل ہوتی ہیں جب ہوا چل رہی ہو یا سورج چمک رہا ہو لیکن ہمیں روزانہ چوبیس گھنٹے بجلی کی ضرورت ہے۔ بلآخر ہمیں قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو تبدیل کرنے سے پہلے بڑے پیمانے پر توانائی ذخیرہ کرنے کے ایک طریقہ کار کی ضرورت ہے۔ خلا کے فوائد اس کا ایک ممکنہ حل یہ ہے کہ ہم خلا میں شمسی توانائی پیدا کریں۔ اس کے بہت سے فائدے ہیں۔ خلا میں قائم ایک شمسی توانائی پیدا کرنے کا سٹیشن چوبیس گھنٹے سورج سے توانائی حاصل کر سکتا ہے۔ زمین کا کرہ ہوائی بھی سورج کی روشنی جذب اور خارج کرتا ہے اس طرح زمین کے کرہ ہوائی کے اوپر موجود شمسی سٹیشن کو سورج کی روشنی زیادہ میسر ہو گی اور وہ زیادہ توانائی پیدا کرے گا۔ لیکن اس میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ خلا میں اتنے بڑے ڈھانچوں کو کیسے بھیجا، جوڑا اور تعینات کیا جائے۔ ایک شمسی توانائی کے پینل کا حجم 10 مربع کلومیٹر تک ہو سکتا ہے جو 1400 فٹبال گراؤنڈز کے برابر بنتا ہے۔ خلا میں ہلکے وزن کا ڈھانچہ استعمال کرنا بھی مشکل ہے کیونکہ اس سب میں سب سے زیادہ خرچہ اس سٹیشن کو خلا میں راکٹ کے ذریعے بھیجنے پر آئے گا۔ اس سلسلے میں ایک مجوزہ حل یہ دیا گیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے سیٹلائیٹس کا ایک جھنڈ تیار کیا جائے جنھیں خلا میں ایک ساتھ یکجا کر کے ایک بڑا شمسی سٹیشن یا توانائی پیدا کرنے والے جنریٹر کی شکل دے دی جائے۔ سنہ 2017 میں کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محققین نے ماڈیولر پاور سٹیشن کے لیے ڈیزائن کا خاکہ پیش کیا، جس میں ہزاروں انتہائی ہلکے شمسی سیل ٹائل شامل تھے۔ انھوں نے 280 گرام وزنی پروٹوٹائپ ٹائل کی بھی نمائش کی تھی جو صرف ایک مربع میٹر حجم کی تھی۔ حال ہی میں مینوفیکچرنگ شعبے میں ہونے والی تھری ڈی پرنٹنگ جیسی پیشرفت کی بھی خلا میں استعمال اور افادیت کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی آف لیورپول میں ہم وزن ہلکے شمسی پینل کی تیاری کے نئے طریقوں کو جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ شمسی پلیٹیں تہہ ہو جانے والی، وزن میں ہلکی اور بہت زیادہ روشنی منعکس کرنے کے ساتھ ساتھ سورج کی تابکاری کے دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے خلائی جہاز کو بنا تیل کے چلنے میں مدد دے سکیں۔ ہم شمسی سیلز کو ان پلیٹوں پر لگانے کے طریقوں کو جاننے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بڑے اور بنا تیل کے توانائی پیدا کرنے والے سٹیشن قائم کیے جا سکیں۔ یہ طریقہ کار ہمیں خلا میں بجلی یا توانائی پیدا کرنے والے سٹیشن بنانے میں مدد دیں گے۔ درحقیقت یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک دن بین الاقوامی خلائی سٹیشن یا مستقبل کے قمری گیٹ وے سٹیشن سے خلا میں یونٹس کی تیاری اور ان کی تعیناتی ممکن ہو سکے جو چاند کے گرد گردش کرے۔اس طریقے کے آلات ہمیں چاند پر بجلی مہیا کرنے میں مدد گار ہو سکتے ہیں۔ ممکنات کا سفر یہاں ختم نہیں ہوتا، اگرچہ ہم اس وقت پاور سٹیشنوں کی تعمیر کے لیے زمین سے آنے والے میٹریل یا مواد پر انحصار کر رہے ہیں، سائنس دان مینوفیکچرنگ کے لیے خلا سے وسائل استعمال کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں ، جیسے چاند پر پائے جانے والے مواد۔ لیکن آنے والے وقت میں سب سے بڑے چیلینجوں میں سے ایک بجلی کو زمین پر منتقل کرنا ہو گا۔ اس بارے میں منصوبہ یہ ہے کہ شمسی سیلز سے بجلی کو توانائی کی لہروں میں تبدیل کیا جائے اور ان کو الیکٹرومیگنیٹک فیلڈز کو استعمال کرتے ہوئے زمین کی سطح پر اینٹینا کے ذریعے منتقل کیا جائے۔ یہ اینٹینا پھر لہروں کو بجلی میں تبدیل کر دے گا۔ جاپان ایرو سپیس ایکسپلوریشن ایجنسی کی سربراہی میں محققین پہلے ہی ڈیزائن تیار کر چکے ہیں اور مدار کے نظام کا تجربہ کر چکے ہیں جو ایسا کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں ابھی بہت کام کرنا باقی ہے لیکن مقصد یہ ہے کہ آنے والے عشروں میں خلا میں سولر پاور سٹیشن ایک حقیقت بن جائیں گے۔ چین میں سائنسدانوں نے ایک ایسا نظام تیار کیا ہے جس کا نام اومیگا ہے اور وہ اسے سنہ 2050 تک قابل استعمال بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ نظام زمین میں دو گیگا واٹ بجلی منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو گا جو کہ بہت زیادہ بجلی ہے۔ اس مقدار میں زمین پر سولر پینلز کے ذریعے سے بجلی بنانے کے لیے آپ کو 60 لاکھ سولر پینلز درکار ہوں گے۔ تاہم چھوٹے شمسی توانائی والے سیارے جو چاند گاڑیوں کو بجلی دینے کے لیے بنائے جاتے ہیں اس سے بہت پہلے قابل استعمال ہو سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں سائنسدان برادری اپنا وقت اور کاوشیں خلا میں بجلی گھر بنانے کی کوششوں میں صرف کر رہی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کے ایک دن یہ آلات موسمیاتی تبدیلیوں جیسے چیلنجوں کے خلاف لڑائی میں نہایت اہم ثابت ہوں گے۔