کیا آپ میں یہ 14 عادات ہیں جو صرف کسی ذہین شخص میں ہوتی ہیں؟

malik shahid 06 Apr, 2021 سائنس وٹیکنالوجی

دنیا کے عظیم موسیقاروں میں سے ایک لوڈویگ وین بیتھوون کو ریاضی میں جمع کے سوال حل کرنے میں مشکل پیش آتی تھی اور انھوں نے کبھی ضرب یا تقسیم کرنا نہیں سیکھا تھا۔ ہسپانوی پینٹر پابلو پیکاسو کو حروف کی سمجھ نہیں تھی اور والٹ ڈزنی کلاس روم میں خواب خرگوش میں پائے جاتے تھے۔ برطانوی مصنفہ کو تو سکول ہی جانے نہیں دیا گیا مگر ان کے بھائیوں نے کیمبرج سے تعلیم حاصل کی۔ چارلس ڈارون کی سکول کی کارکردگی اتنی بُری تھی کہ ان کے والد انھیں خاندان کے لیے باعثِ شرمندگی سمجھتے تھے۔ ایلبرٹ آئن سٹائن کو اپنے دور میں فزکس کے امتحان میں چوتھے نمبر پر آنے کا اعزاز حاصل ہے، ہاں مگر جماعت میں طالب علم صرف پانچ ہی تھے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج کے تعلیمی معیار پر ان میں سے شاید کوئی بھی پورا نہ اتر پاتا۔ مگر یہ تمام لوگ تاریخ میں ذہین یا جینیئس مانے جاتے ہیں کیونکہ آرٹس اور سائنس کے میدانوں میں ان کی خدمات عظیم ہیں۔ آج کے دور کی بھی کئی معروف شخصیات جیسے بِل گیٹس، باب ڈیلن اور اوپرا ونفری نے ہائی سکول کی تعلیم مکمل نہیں کی مگر اس کے باوجود اپنے اپنے شعبوں میں بے انتہا کامیاب رہے۔ ڈاکٹر کریگ رائٹ کا کہنا ہے کہ ’آئی کیو کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔‘ انھوں نے اپنی زندگی میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ تاریخ اور حاضر دور کے ذہین ترین لوگوں کو سمجھنے میں گزارا ہے۔ اپنی تین کتابوں میں انھوں نے ایسی شخصیات میں 14 مشترکہ عادات کا تعین کیا ہے۔ اس فہرست میں ان افراد کے ٹیلنٹ یا خاص ہنر کو شامل نہیں کیا گیا بلکہ روزمرہ کی عام عادات کو حصہ بنایا گیا ہے۔ پروفیسر رائٹ کے مطابق ذہین شخص کون ہے، ہر کسی کے لیے اس کی تعریف مختلف ہوسکتی ہے۔ لیکن ان کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ ’ذہین فرد میں ذہانت کی غیر معمولی قوت ہوتی ہے۔ ان کے کارناموں سے وقت کے ساتھ معاشرے میں اچھی یا بُری تبدیلی واقع ہوتی ہے۔‘ رائٹ سمجھتے ہیں کہ زیادہ ذہین وہ ہے جس کے کارناموں نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو طویل دورانیے تک متاثر کیا ہے۔ انھوں نے کئی برسوں تک ییل یونیورسٹی میں ’جینیئس کورس‘ پڑھایا ہے۔ کئی طالب علم ان کے خیالات سے متفق نہیں ہوتے جب وہ بتاتے ہیں کہ امریکی گلوکارہ لیڈی گاگا جینیئس ہیں جبکہ اولمپکس میں سب سے زیادہ سونے کے تمغے جیتنے والے سوئمر مائیکل فیلپس جینیئس نہیں ہیں۔ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ پہلی کلاس میں کئی طلبہ جینیئس بننے کے لیے ہاتھ کھڑے کرتے ہیں اور آخر میں ان کی تعداد بہت کم وہ جاتی ہے۔ بی بی سی نے ان سے ایک انٹرویو میں مزید جاننے کی کوشش کی ہے۔ کریگ رائٹ کے مطابق ذہین افراد میں مندرجہ ذیل 14 عادات پائی گئی ہیں: • کام کے آداب • لچک، یعنی مشکلات سے گھرنے کے باوجود جلد واپسی • اصل یا نیا کام • بچے جیسا تخیل • ختم نہ ہونے والا تجسس • جنون • اردگرد کے ماحول سے الگ تخلیقی صلاحیت • بغاوت کا جذبہ • ایسی سوچ جو حد پار کر دے • برخلاف عمل یا سوچ • تیاری • بار بار ایک چیز کے بارے میں سوچنا • آرام • توجہ