ایمرسن کالج بچائوتحریک میں شدت

Muhammad Dastagir 03 Mar, 2021 علاقائی

ملتان(سہیل قریشی سے ) ایمرسن کالج سمیت پنجاب کے دیگر بڑے کالجز کو یونیورسٹی بنانے کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ اساتذہ اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس عزم کااعادہ کیا کہ ہر طرح کی قربانی دیں گے مگر اپنے بچوں پر سستی تعلیم کے دروازے بند نہیں ھونے دیں گے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی ایمرسن کالج ملتان نے کہا ہے کہ پنجاب کے تاریخی کالجز کو یونیورسٹی بنانا کسی صورت قبول نہیں۔ کالجز کو کالج ہی رہنے دیا جائے۔ نئی یونیورسٹی کے حق میں ہیں ہمارا مطالبہ ہے کہ سرکاری اراضی پر نئی یونیورسٹی بنادی جائے۔ایمرسن کالج کو یونیورسٹی بنانے سےفیسوں میں ہوشربا اضافہ ہوجائے گا جو خطہ کے غریب طلبہ کے لئے ادا کرنا ناممکن ھو گا اور غریب طلباء بڑی تعداد میں تعلیم کو خیر باد کہنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کہا کہ اپنے اداروں پر ساز باز نہیں کرنے دیں گے۔حکومت بیرونی ایجنڈے پر تعلیم دشمن اقدامات بند کرے۔غریب طلبہ جو بمشکل اپنی کالج فیس ادا کرتے ہیں کس طرح وہ یونیورسٹی کی فیس ادا کریں گے اس موقع پر طلبہ اور اساتذہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔طلبہ اور اساتذہ بڑی ریلی کی صورت میں ایمرسن کالج گیٹ پہنچے اور مین بوسن روڈ پر علامتی دھرنا دیا گیا۔کمیٹی نے کہا کہ ا ب احتجاج کا جو سلسلہ پورے پنجاب میں شروع ہوا ہے وہ تھمنے والا نہیں۔ ہمارا حکومت وقت سے مطالبہ ہے کہ تعلیمی تجارت اور نجی اداروں کو نوازنے کی پالیسی ترک کرتے ہوئے کالجز کو یونیورسٹی بنانے کے نوٹیفکیشن فی الفور واپس لیے جائیں۔اس موقع پر صغیر قریشی, ڈاکٹر طارق بلوچ, ڈاکٹر سلیم اعوان,ملک ارشاد,اسلم فاروقی,جاویداحمد,حافظ ارشاد اور دیگر بھی موجود تھے۔