ڈیرہ میں 7 افرادکاقتل،انصاف نہ ملنے پرورثاکامظاہرہ

Muhammad Dastagir 26 Feb, 2021 علاقائی

ڈیرہ غازیخان(ملک شاہد اعوان سے )سانحہ پل شیخانی ڈیرہ بربریت کی بدترین مثال ہے، وزیر اعلی پنجاب کا شہر دہشت گردی کی لپیٹ میں،دن دیہاڑے بھرے بازارمیں 7 بے گناہ معصوم لوگوں کو گولیوں سے بھون کرشہید کیا اور خواتین زخمی ہوئیں،درجنوں بچے یتیم،مائیں بیوہ،بہنوں کے سہاگ جدا ہوئے،دہشت گرد تو مارا گیا،لیکن اس کے پیچھے کون سے لوگ ہیں،منظر عام پر لاکر کیفر کردا تک پہنچایا جائے، دہشت گرد موجود ہیں فوجی آپریشن کرکے علاقے کو اسلحہ سے پاک کیا جائے، پل شیخانی پر پولیس چوکی قائم کی جائے،انصاف نہ ملا تو پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے،یہ بات سانحہ پل شیخانی کے مقتولین کے ورثاء نے پریس کلب ڈیرہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اور پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہر ہ بھی کیا اس موقع پر مدعی مقدمہ فدا حُسین لشاری،محبوب علی لشاری،محمد رفیق،سردار سجاد خان لشاری،ریاض خان،واحدبخش جروار،منظورجروار،اسماعیل خان،قلندرخان،یسین خان،عنایت خان ودیگر افرادنے صحافیوں کو بتایا کہ ملزم غلا م فرید نے ایک گھنٹہ تک فائرنگ کرتے ہوئے علاقے کو یرغمال بنائے رکھا،7 افراد شہید ہو گئے کئی زخمی ہوئے پولیس فورس منہ تکتی رہی مقامی افراد نے دہشت گرد کو فائرمار کرہلاک کیا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی بارہا ہمارا خون بہایا گیا ہم ریاست سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے قاتل کون ہیں۔ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ واقعہ ہو،سانحہ ہزارہ ہو تو چیف جسٹس،صدر وزیر اعظم نوٹس لیتے ہیں پوری ریاستی مشینری حرکت میں آجاتی ہے لیکن ہمارے 7 لوگوں کے قتل عام پر پوری ریاست خاموش ہے۔وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا اپنا شہر ہے کوئی حکومت وزیر،مشیر لواحقین سے تعزیت کے لیے نہیں آیامقتولین کے ورثاء،بیوگان،یتیموں،کو بتایا جائے کہ ان کے بے گناؤں کو کیوں قتل کیا گیا،ریاست ہمیں تحفظ دے اور یہ اس کی ذمہ داری ہے اور قاتلوں کو گرفتار کرے، اور قرار واقعی سزا دی جائے اگر ہمارے مطالبات منظورنہ ہوئے تو وزیر اعلی ہاؤس اور پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے۔