صحافی کیخلاف مقدمے کاڈراپ سین،دہشتگردی کی دفعات ختم

Muhammad Dastagir 25 Feb, 2021 علاقائی

رحیم یارخان (نعیم بشیرچودھری سے) صحافی کی جانب سے کرپشن کی نشاندہی اور تحریری درخواستوں پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمہ کاڈراپ سین ہوگیا‘دہشت گردی ثابت نہ کرنے پر بہاول پور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ٹھل حمزہ خانبیلہ کے سینئر صحافی حافظ عبدالغفارارائیں کیخلاف دہشت گردی کے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعہ 7ATAکو ختم کردیا۔ سینئر صحافی حافظ عبدالغفار ارائیں نے محکمہ جنگلات رینج خان پور ولیاقت پور کے جنگلات آفیسران کے خلاف اینٹی کرپشن اور قومی احتساب بیوروملتان میں کرپشن بدعنوانی اور لکڑ چوری کی متعدد درخواستیں دے رکھی تھیں ۔جس پر خان پورکے فاریسٹ گارڈ محمد علی انجم‘غلام معین الدین شاہ‘مرید حسین‘رشید احمد اور نواز نیازی نے دیگر سرکاری ملازمین کے ساتھ مل کر رحیم یارخان کاوقوعہ بناکر بھتہ‘دہشت گردی اور کارسرکار میں مداخلت کا من گھڑت مبینہ جھوٹا مقدمہ نمبر 146/18بجرم 186.386.7ATAت پ تھانہ اے ڈویژن رحیم یارخان میں مقدمہ درج کراکے گرفتارکرالیا ۔ڈیڑھ سال بعد ہائی کورٹ نے دوبارہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بھیج کر سیکشن 23کا فیصلہ کرنے کااختیارانسداد دہشت گردی کے فاضل جج کو سونپ دیاجس پر حافظ عبدالغفار ارائیں کی جانب سے معروف قانون دان میاں فیض الحسن نے مقدمے کے مدعی اور گواہان پر جرح کی تو مدعی محمد علی انجم اور گواہ مرید حسین دہشت گردی ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے فاضل جج ناصر حسین نے ہائی کورٹ کے حکم پر دہشت گردی ثابت نہ ہونے پر 7ATAکادفعہ مقدمہ سے ختم کرکے ٹرائل مجسٹریٹ کے پاس بھیج دیا۔ یاد رہے کہ اس وقت قومی احتساب بیورو نیب کی عدالت ملتان میں 96کروڑ روپے کی کرپشن کے چار علیحدہ علیحدہ ریفرنس دائر کیے جاچکے ہیں جس میں جنگلات کے 55ملازمین ضمانتوں پر ہیں‘ حافظ عبدالغفار ارائیں کی اس کامیابی پر پریس کلب خان بیلہ کے تمام دوستوں نے انہیں مبارکباد پیش کی۔