محکمہ ایکسائز بہاولپورمیں گاڑیوں کی بوگس انٹریوں کاانکشاف

urduwebnews 03 May, 2021 علاقائی

بہاولپور(سکندراعظم سے)محکمہ ایکسائز بہاولپورمیں سینکڑوں نان کسٹم پیڈچوری شدہ اورٹمپرڈ گاڑیوں کی بوگس انٹریوں کاانکشاف ہواہے، ڈائریکٹر ایکسائز جام سراج نے مبینہ طورپر چہیتے ڈی ای اوکوملتان سے بہاولپورٹرانسفرکرایا۔بوگس انٹریوں کے عوض مبینہ طورپر کروڑوں روپے کمائے۔ علم ہونے پرسابق ای ٹی او نے ڈی ای اوکوسیٹ سے ہٹادیا۔ڈائریکٹر نے دباؤ ڈال کردوبارہ چارج دلوایا۔ڈی جی آفس میں فراڈ پکڑاگیا توڈائریکٹرایکسائز نے اپنی جان بچانے کیلئے ملبہ ماتحت ملازمین پرڈال کرڈی جی ایکسائز کوتحریری لیٹرارسال کردیا۔اینٹی کرپشن اورنیب سے فوری ریکارڈ قبضہ میں لے کرکارروائی کرنے کامطالبہ، باوثوق ذرائع نے انکشاف کیاہے کہ ڈائریکٹرایکسائز بہاولپورجام سراج نے مبینہ طورپر اپنے چہیتے ڈیٹاانٹری آپریٹرمحمدآصف کاملتان سے بہاولپورتبادلہ کرایاہے اوراسے ان فیڈ نان کمپیوٹرائز سیریل کی انٹری کاچارج دلوادیاجس کے بعدڈائریکٹر ایکسائز جام سراج کے لاگن سے نان کسٹم پیڈ چوری شدہ اورٹمپرڈ گاڑیوں کی بوگس انٹریاں ہوتی رہیں جن کے عوض بھاری رقوم وصول کرنے کاسلسلہ بھی جاری رہاسابق ای ٹی او احمدنوازخان کوجب بوگس انٹریوں بارے علم ہواتوانہوں نے ڈی ای او محمدآصف کوسیٹ سے ہٹاکر تحقیقات کاحکم دیاتوڈائریکٹر ایکسائز جام سراج نے مبینہ طورپردباؤڈال کردوبارہ محمدآصف کوچارج دلادیا اورتحقیقات کاسلسلہ روک دیاگزشتہ دنوں ڈائریکٹرجنرل ایکسائز کے دفترمیں شک گزر نے پر تحقیقات کی گئیں تو119 گاڑیوں کی بوگس انٹری پکڑی گئی جس پرڈی جی آفس نے ڈائریکٹر ایکسائز جام سراج سے جواب طلب یاتوانہوں نے جوابی لیٹرمیں تحریرکیاکہ54 گاڑیاں ان کے لاگن کوغلط استعمال کرکے فیڈکی گئی ہیں باقی65 گاڑی کی بوگس فیڈنگ بارے انہیں علم نہیں ہے اس حوالے سے ڈیٹاانٹری آپرٹیر محمدآصف نے کہاکہ بوگس انٹری کاسلسلہ ایک سال سے جاری تھالیکن اسے علم نہیں ہے کہ اس کے پیچھے کون سے ہاتھ کارفرماتھے ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر ایکسائز جام سراج کی ملتان میں بطورڈائریکٹر تعیناتی کے دوران 20 کروڑ روپے کاگھپلاپکڑاگیاتھاجس کے بعدتمام ملبہ ماتحت ملازمین پرڈال دیاگیااسے تین ماہ کی انیکریمنٹ سٹاپ ہونے کی سزاملی تھی جبکہ اس کے چہیتے ڈیٹاانٹری آپریٹرمحمدآصف کیخلاف اینٹی کرپشن ملتان میں کرپشن کی کئی کاروائیاں زیرسماعت ہیں اس کے باوجود ڈائریکٹر ایکسائز جام سراج نے اسے مال اکٹھاکرنے کیلئے بہاولپورمیں بھی اپنے ساتھ رکھاہواہے۔ عوامی وسماجی حلقوں نے اس فراڈ سیکنڈل کی اعلیٰ تحقیقات کامطالبہ کیاہے اس سلسلہ میں جب جام سراج سے ان کے موبائل پررابطہ کرنے کی کوشش کی گئی توانہوں نے کال ہی اٹینڈنہ کی۔