ملک ترقی کے راستے پر چل پڑا ہے اور اچھا وقت آنے والا ہے،وزیراعظم

ilyas shakoori 28 May, 2021 ملکی

نوشہرہ میں رشکئی اسپیشل اکنامک زون کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 'پاکستان کا مستقبل صنعت میں ہے، ملک کی ترقی صنعت کے بغیر نہیں ہوسکتی'۔ انہوں نے کہا کہ 'رشکئی اکنامک زون سی پیک کے اندر ہے جو خوش آئند بات ہے اور یہ خوش آئند اس لیے ہے کیونکہ آج چین، دنیا بھر میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے، اس کی ترقی سے ہم سب سے زیادہ سیکھ سکتے ہیں، مغربی ممالک کی صنعتیں پرانی ہیں اس لیے پاکستان ان سے زیادہ نہیں سیکھ سکتا'۔ عمران خان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو رشکئی اکنامک زون کے متعلق انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ 'اس کی زمین کسی صورت فروخت نہ کی جائے بلکہ کم قیمت پر لیز پر دیا جائے، کیونکہ یہ زمین فروخت کی گئی تو یہ ریئل اسٹیٹ بننے کا خطرہ ہے'۔ یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.94 فیصد تک بڑھنے کی پیش گوئی ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان میں برآمدات میں اضافے کے لیے صنعتیں لگانے کی ضرورت ہے، چین کی برآمدات میں اضافہ صنعتیں لگانے سے ہوا اور جب تک برآمدات میں اضافہ نہیں ہوتا ملک ترقی نہیں کرے گا'۔ وزیراعظم نے کہا کہ 'بدقسمتی سے اب تک ہمارا شمار سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے والے ممالک میں نہیں ہوتا، اسپیشل اکنامک زون میں سرمایہ کاروں کو سہولت دیں گے، سرمایہ کاروں کے لیے جتنی آسانیاں ہوں گی اتنی زیادہ سرمایہ کاری ہوگی'۔ انہوں نے کہا کہ 'ہم نے ملک کو مشکل وقت سے نکالا ہے اور جب اس مشکل وقت سے معیشت کو نکال رہے تھے تو کورونا آگیا، ہم نے سب سے پہلے فیصلہ کیا کہ لاک ڈاؤن نہیں لگانا کیونکہ اس سے غریب کچلا جاتا ہے، مجھ پر لاک ڈاؤن کے لیے دباؤ ڈالا گیا، اگر مکمل لاک ڈاؤن لگا دیتا تو آج ملک کا بھارت جیسا حال ہوتا'۔ عمران خان نے کہا کہ 'اللہ کا کرم ہے اور ہمارے مخالفین حیران ہیں کہ ملک کا شرح نمو تقریباً 4 فیصد کیسے ہوگیا کیونکہ انہوں نے پہلے اتنی تنقید کی تھی کہ ملک تباہ ہوگیا اور یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں، میں ان سے کہتا ہوں کہ میں وہ کپتان تھا جو نیوٹرل امپائر لے کر آیا تھا، ہم دھاندلی سے نہیں نیٹرل امپائر سے جیتنے والے ہیں'۔ مزید پڑھیں: بادشاہ نہیں وزیراعظم ہوں، معاشی معاملات پر وزیر خزانہ سے پوچھنا پڑتا ہے، عمران خان ان کا کہنا تھا کہ 'ملک ترقی کے راستے پر چل پڑا ہے اور اچھا وقت آنے والا ہے، صنعت بھی چل پڑی ہے، اس بار چاول، گندم اور مکئی کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے، اب ملک میں ڈالر زیادہ آرہے ہیں اور باہر کم جارہے ہیں'۔ انہوں نے کہا کہ 'خطرہ یہ ہے کہ جیسے جیسے ہماری معیشت مضبوط ہو رہی ہے ہمارے کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ بڑھے گا اور ملک سے باہر ڈالر زیادہ جانے شروع ہوجائیں گے جس سے ہمیں بچنا ہے، ابھی تک بیرون ملک پاکستانیوں نے ریکارڈ ترسیلات زر بھیجی ہیں جس سے روپیہ مضبوط ہوا'۔