ریکوڈک کیس: برٹش ورجن آئی لینڈ کی عدالت نے پی آئی اے کے اثاثے بحال کردیے

ilyas shakoori 26 May, 2021 ملکی

اردوویب نیوز(ویب ڈیسک )برٹش ورجن آئی لینڈز (بی وی آئی) کی ہائی کورٹ نے ٹیتھیاں کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کے دائر کردہ کیس میں پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔کمپنی نے ریکوڈک ہرجانے کے طور پر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز انویسٹمنٹ لمیٹڈ (پی آئی اے آئی ایل) سے تعلق رکھنے والے اثاثوں بشمول نیویارک اور پیرس میں موجود ہوٹلز کے حصول کے لیے کیس دائر کیا تھا۔خبرکے مطابق سپریم کورٹ کے احاطے میں اٹارنی جنرل کے دفتر میں موجود انٹرنیشنل ڈسپیوٹ یونٹ (آئی ڈی یو) نے کہا کہ 'پاکستان نے ٹیتھیان کمپنی کی جانب سے آئی سی ایس آئی ڈی (انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹ) ایوارڈ نافذ کرنے کے لیے دائر کردہ کیس جیت لیا ہے'۔ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سے قبل ٹیتھیان کمپنی کے حاصل کردہ تمام یکطرفہ فیصلے بھی کالعدم ہوگئے ہیں۔ خیال رہے کہ کمپنی نے ریکوڈک کیس میں 12 جولائی 2019 کو آئی سی ایس آئی ڈی کی جانب سے پاکستان کے خلاف 5 ارب 97 کروڑ ڈالر ہرجانے کے فیصلے کے نفاذ کے لیے کیس دائر کیا تھا۔ اٹارنی جنرل فار پاکستان خالد جاوید خان نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'بی وی آئی ہائی کورٹ نے کچھ دیر پہلے ہی فیصلہ سنایا ہے جو پاکستان اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے لیے بڑی قانونی کامیابی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی آئی اے آئی ایل کے خلاف اس سے قبل جاری ہونے والے تمام فیصلے بی وی آئی ہائی کورٹ نے واپس لے لیے ہیں ساتھ ہی انہوں نے روز ویلٹ ہوٹل نیویارک اور اسکرائب ہوٹل پیرس کے حصول کے لیے تعینات کردہ شخص کو بھی برطرف کردیا ہے اور قانونی کارروائی کی لاگت بھی دی جائے گی۔ دسمبر 2020 کو بی وی آئی ہائی کورٹ نے ایک یکطرفہ فیصلے کے تحت پی آئی اے آئی ایل کے اثاثوں کو منسلک کرنے کا حکم دیا تھا جس میں روز ویلٹ ہوٹل مین ہٹن، نیویارک میں کمپنی کے مفادات، وسطی پیرس میں سکرائب ہوٹل کے علاوہ تیسرے فریق کے ادارے منہل اِنکارپوریٹڈ میں پی آئی اے کے 40 فیصد منجمد حصص شامل ہیں۔ بی وی آئی کورٹ نے 16 دسمبر کو جاری کردہ حکم میں ہی عبوری بنیاد پر ان اثاثوں کو وصول کرنے کا والا بھی مقرر کردیا تھا۔ انٹرنیشنل ڈسپیوٹ یونٹ کا کہنا تھا کہ بی وی آئی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ اس کے پاس اس معاملے کا فیصلہ کرنے کا دائرہ اختیار نہیں تھا اور ساتھ ہی وصول کنندہ کو بھی فوری طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔ آئی ڈی یو کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بھی آئی ڈی یو اور اٹارنی جنرل کے دفتر کی کوششوں کو سراہا جس نے پاکستان کے لیے یہ اہم کامیابی حاصل کرنے میں مدد کی۔ آئی ڈی یو کا کہنا تھا کہ برآں پی آئی اے کی کمپنیوں کے خلاف پرووژنل چارجنگ آرڈر بھی مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا گیا اور ٹیتھیان کمپنی کو حالیہ کارروائی پر آنے والی لاگت ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے، اس طرح روزویلٹ اور سکرائب ہوٹل چھیننے کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔