عدالت پر حملے میں ملوث وکلا کو مثالی سزا ملنی چاہیے:اطہرمن اللہ

Muhammad Dastagir 15 Feb, 2021 ملکی

اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ عدالت پر حملے میں ملوث وکلا کو مثالی سزا ملنی چاہیے۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکلا حملے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری سہیل اکبر چوہدری عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ یہ سب کس نے کیا، اس کے لیے کسی کمیشن کی ضرورت نہیں، جنہوں نے ہائیکورٹ پر حملہ کیا ان کی نشاندہی بار کرے تاکہ کسی بے قصور کو ہراساں نا کیا جا سکے، ہائی کورٹ پر حملہ کرنے والے سارے بار کے وکلا تھے آدھے سے زائد کو میں جانتا ہوں، جنہوں نے پانچ گھنٹے ججز کو یرغمال رکھا وہ اس انتہائی گھناؤنے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں، یہ واقعہ بالکل غلط ہوا ہے اس میں ملوث لوگوں کو مثالی سزا ملنی چاہیے، چیف جسٹس آف پاکستان کا بھی فون آیا تھا، مجھے کہا گیا کہ کارروائی کے لیے تیار ہیں، لیکن میں نے چیف جسٹس پاکستان کو بھی بتایا کہ کوئی ایکشن لے کر ہائی کورٹ کو میدان جنگ نہیں بننے دوں گا، میں نے کہا کہ آپ آئیں اور آ کر بے شک مجھے مار دیں مگر ایکشن لے کر اس کو تماشہ نہیں بناؤں گا، ایک سو لوگوں کے ایکٹ کی وجہ سے بار کی عزت داؤ پر ہے، سب لوگ یونیفارم میں تھے بار کی بھی عزت اس میں ہے کہ ان لوگوں کی نشاندہی کریں، گزارش کی تھی کہ ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے صدر آئیں ،لیکن وہ نہیں آئے۔