آج عالمی یوم آزادی صحافت،دنیاکے کونسے ممالک پرخطر؟

urduwebnews 03 May, 2021 ملکی

ملتان(اردوویب نیوز)دنیا بھر میں آج اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو کے زیر اہتمام یوم آزادی صحافت منایا جا رہا ہے ۔ اس دن کو منانے کا مقصد کسی دباؤ کے بغیر آزاد اور ذمہ دارانہ اطلاعات عوام تک پہنچانا ہے ۔ عالمی یوم آزادیِ صحافت کا دن منانے کا آغاز1991سے نمیبیا سے شروع ہوا پھر 1993 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے3 مئی کو ہر سال اس دن کو منانے کا اعلان کیا ۔اس دن اہل صحافت اس بات کی تجدید کرتے ہیں کہ کسی بھی دباو ، لالچ پر تشدد عناصر یا ریاستی دباؤ کے بغیر آزاد ، صحیح اور ذمہ دارانہ اطلاعات عوام تک پہنچانے کے بنیادی حق کے لیے لڑتے رہیں گے جبکہ صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیں ۔ صحافت عربی زبان کے لفظ ’’صحف‘‘ سے ماخوذ ہے جس کا مفہوم صفحہ یا رسالہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔ انگریزی میں جرنلزم، جرنل سے ماخوذ ہے یعنی روزانہ کا حساب یا روزنامچہ۔ صحافت کسی بھی معاملے کے بارے میں تحقیق یا پھر سامعین تک پہنچانے کے عمل کا نام ہے بشرطیکہ اس سارے کام میں نہایت ایمانداری اور مخلص انداز میں کیا جائے ۔ صحافت لوگوں کی رہنمائی کرنے، افراد کو ایک دوسرے سے جوڑنے، معلومات بہم پہچانے اور تبصروں کے ذریعہ عوام الناس کو حقائق سے روشناس کرانے کا نام ہے ۔سنہ2016 میں جاری صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز کی رپورٹ کے مطابق2018 میں 110 صحافی فرائض کی ادائیگی کے دوران مارے گئے۔ شام اورعراق صحافیوں کے لیے خطرناک ترین جبکہ ایشیا میں بھارت صحافیوں کے لیے خطرناک ثابت ہوا۔ دنیا کے کئی ممالک میں آزادی صحافت پر مکمل جبکہ متعدد ممالک میں جزوی پابندی عائد رہی۔اس وقت پاکستان میں اس دن کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس وقت پاکستان میں صحافی شدید مالی مشکلات و مسائل سے دوچار ہیں ۔ دوسری جانب خطے میں نامناسب حالات و واقعات اور دہشتگردی کے باعث درجنو ں صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن اس کے باوجود صحافیوں نے کبھی اپنی ڈیوٹی سے منہ نہیں پھیر ا بلکہ درست اور جلد معلومات بمعہ حقائق عوام تک پہنچائے ہیں ۔سال 1990 سے لے کر اب تک دنیا بھر میں 2500 صحافیوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے اور تین مئی کو آزادی صحافت کے عالمی دن صحافتی حقوق کی نمائندگی کرنے والی تنظیموں کے مطابق صحافیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 30 اپریل صحافیوں کے لیے بہت سخت دن تھا جب افغانستان میں دو علیحدہ واقعات میں 10 صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ پہلے کابل میں ایک خودکش دھماکے کے بعد جب جائے وقوع پر صحافی جمع ہوئے تو 15 منٹ کے بعد وہاں پر خود کو صحافی کی طرح پیش کرنے والے ایک اور خودکش بمبار وہاں پر حملہ کر دیا۔ان کو دیکھتے ہوئے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا صحافت کا پیشہ زیادہ خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ کئی صحافتی تنطیمیں گذشتہ دو دہایئوں سے صحافیوں کی ہلاکت، اغوا اور گمشدگی کے اعداد و شمار جمع کر رہی ہیں۔ اس ریکارڈ میں صحافیوں کے علاوہ ان کے مقامی مددگار، ترجمان اور ڈرائیورز شامل ہیں۔ آئی ایف جے کے مطابق گذشتہ سال 82 صحافیوں کو ہلاک کیا گیا تھا اور یہ تعداد پچھلے دس سالوں میں سب سے کم تھی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ان سالوں میں ہلاک کیے جانے والے صحافیوں کی تعداد میں کمی بیشی اس دور میں ہونے والے واقعات کی نشاندہی کرتے ہیں۔