رحیم یارخان،مال گاڑی پٹری سے اترگئی،ٹریک کونقصان

Muhammad Dastagir 14 Apr, 2021 ملکی

رحیم یار خان (نعیم بشیر چوہدری سے) ریلوے ٹریک ٹرینوں کی آمدورفت کیلئے انتہائی خطرناک‘ آئے روز ٹرینوں کے حادثات رونما ہونے لگے‘ رحیم یار خان ریلوے سٹیشن پر مال بردار ٹرین کو حادثہ‘ڈرائیور اور عملہ محفوظ رہے جبکہ ڈاؤن سائیڈ کے ٹریک کو نقصان پہنچا۔ گزشتہ روز صبح سات بجے کے قریب رحیم یار خان ریلوے سٹیشن مشرقی کیبن کے مقام پر کوئلہ لانے کے لئے کراچی جانے والی مال بردار گاڑی کو ڈاؤن ٹریک پر معمولی نوعیت کا حادثہ پیش آیا اور مال بردار ٹرین پٹڑی سے اتر گئی‘ ڈرائیور اور دیگر عملہ محفوظ رہے تاہم ریلوے ٹریک کو شدید نقصان پہنچا‘گاڑی پٹڑی سے اترنے کی وجہ سے اپ اینڈ ڈاؤن دونوں اطراف ٹرینوں کی آمدورفت کو ایک ہی ٹریک کے ذریعے بحال رکھا گیا‘ٹرین کے حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریلوے کے اعلی افسران اور دیگر ریلوے کاریسکیو عملہ موقع پر پہنچ گیا‘ مال بردار گاڑی کو دوبارہ ٹریک پر چڑھانے اور ٹریک کی بحالی کا کام تقریبا چار گھنٹے جاری رہا جس کے بعد گاڑی کو پٹڑی پر چڑھا کر منزل کی طرف روانہ کیا گیا۔ ڈاؤن سائیڈ ٹریک پر کام کے دوران دونوں اطراف سے آنے والی ٹرینوں کو حفاظتی اقدامات کو مد نظر رکھتے ہوئے ون بائی ون ایک ہی ٹریک سے گزارا گیا جس کے بعد دونوں ٹریک بحال ہونے پر ٹرینوں کی آمدورفت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ حادثہ معمولی نوعیت کا تھا‘ ٹرین کی صرف ایک بوگی ہی پٹڑی سے اتری تاہم حادثے کی نوعیت اپنی جگہ ریلوے کے اعلی حکام کو سوچنا چاہیے کے سب سے زیادہ حادثات پاکستان ریلوے سکھر ڈویژن میں ہی کیوں رونما ہوتے ہیں۔اس سے پہلے بھی سکھر ڈویژن روہڑی تا خانپور کی حدود میں کئی خطرناک حادثات رونما ہو چکے ہیں جن سے قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور بہت سے افراد معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان ریلوے کے ساتھ مسافروں کا مالی نقصان بھی ہو‘ا اس سب کے باوجود پاکستان ریلوے کے اعلی حکام نے چپ سادھ رکھی ہے۔ شہریوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان‘ وفاقی وزیرریلوے اعظم سواتی‘چیئرمین پاکستان ریلوے اور دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سکھر ڈویژن میں ریلوے ٹریک کی بہتری اور حادثات کو روکنے کے لیے جلد از جلد کام شروع کیا جائے‘ بوسیدہ اور ناکارہ ٹرین کی پٹریوں کی جگہ نئی لائن بچھائی جائے جس سے کہ سفر محفوظ رہے اور قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔