فلسطین پراسرائیلی مظالم،عالمی عدالت نے تحقیقات شروع کردیں

Muhammad Dastagir 04 Mar, 2021 عالمی

جینیوا: بین الاقوامی فوجداری عدالت کی چیف پراسیکیوٹر نے کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں مبینہ جرائم کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے جب کہ اسرائیل نے اس اقدام کی شدید مخالفت کی ہے۔دوسری جانب اسرائیل نے عالمی فوجداری عدالت کی جنگی جرائم کی تحقیقات کے آغاز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رکن نہ ہونے کی وجہ سے عدالت کا اسرائیل کیخلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کا اختیار نہیں رکھتی۔ ادھر عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیل کے اعتراض پر گزشتہ ماہ ہی فیصلہ دیا تھا کہ اسے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر اختیار حاصل تھا جس پر اسرائیل نے 1967 کی مشرق وسطی کی جنگ کے دوران قبضہ کیا ہے۔ ججوں نے اپنے فیصلے میں مزید کہا تھا کہ ان کا فیصلہ ہیگ میں قائم عدالت کی بنیاد رکھنے والے دستاویزات کے دائرہ اختیار کے اصولوں پر مبنی ہے اور اس سے ریاست یا قانونی حدود کا تعین کرنے کی کسی کوشش کی ضرورت نہیں۔ واضح رہے کی اسرائیل نے فلسطین پر 54 سالہ ناجائز قبضے کے دوران ظلم و بربریت کی تاریخ رقم کی ہے اور عالمی معاہدوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یہودی آبادکاریوں میں اضافہ کیا جس میں سب سے زیادہ اضافہ نیتن یاہو کے دور حکومت میں ہوا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بین الاقوامی فوجداری عدالت کی پراسیکیوٹر فتوؤ بینسودا نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے فلسطین میں جنگی جرائم کے خلاف تحقیقات آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور بغیر کسی خوف اور حمایت کے کی جائے گی۔