سی پیک کی جان گوادرپورٹ میں حائل رکاوٹیں دورکرنے کیلئے اہم فیصلے

Muhammad Dastagir 02 Mar, 2021 عالمی

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے گوادر پورٹ پر نئی بندرگاہ نہ بنانے اور اربوں ڈالر مالیت کے سی پیک منصوبے کے محور گوادر پورٹ فری زون کوآپریشنل کرنے میں درپیش رکاوٹوں کو ختم کرنے کیلئے سات اقدامات کرنے کا فیصلہ کرلیا۔سینئرصحافی وتجزیہ نگارسہیل اقبال بھٹی نے اپنی خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ بلوچستان حکومت کی پابندی کی وجہسے 5سال گزرنے کے باوجود گوادر پورٹ فری زون کی 18ہزار ایکڑ اراضی کا قبضہ نہیں مل سکا۔ پلاننگ کمیشن نے ماسٹر پلان کےتحت زمین کے حصول کا 48ار ب روپے کا پی سی ون واپس کردیا ہے۔موصول دستاویز کے مطابق گوادر بندرگاہ کا ماسٹرپلان 2006میں غیر ملکی کنسلٹنٹ کی جانب سے تیار کیا گیا۔ماسٹر پلان کے تحت 50کلومیٹر کا ساحلی علاقہ جبکہ 9ہزار ہیکٹر کا علاقہ صنعتوں کیلئے وقف کیا گیا۔23جنوری2007کو اس وقت کے وزیر اعظم کی سربراہی میں گوادر پالیسی بورڈ کے اجلاس میں ماسٹر پلانکی منظوری دی گئی۔ماسٹر پلان کے تحت بغیر کسی رکاوٹ کے بندرگاہ پر ترقیاتی کاموں کے آغاز کیلئے زمین کے جلد حصول کی سفارشکی گئی۔گوادر بندرگاہ ماسٹر پلان کے تحت ایریا 1میں کثیر استعمال کیلئے 361ایکٹر اراضی کے حصول کی سفارش کی گئی جس میںسے128ایکٹر اراضی گوادر بندر گاہ کے ماسٹر پلان کی منظوری سے قبل 2006میں پی ایس ڈی پی کے تحت 2کروڑ80لاکھ روپے میںخریدی گئی۔ایریا2کیلئے 2ہزار283ایکڑ اراضی پی ایس ڈی پی کے تحت2015میں 6ارب روپے کی رقم سے حاصل کی گئی۔بندرگاہ کاپہلاصنعتی علاقہ 6ہزار 474ایکٹر جبکہ دوسرا صنعتی علاقہ 12ہزار355ایکٹر پر مشتمل ہے۔زمین کے حصول پر پابندی اور پی سی ون کیعدم منظوری کے باعث دونوں صنعتی علاقوں کیلئے مجوزہ اراضی کو تاحال حاصل نہیں کیا جا سکا۔زمین کے حصول کیلئے عائد پابندیکو ختم کرنے کیلئے 17جنوری2019کو وزیر اعظم کو سمری ارسال کی گئی جس پر وزیر اعظم کی جانب سے وزارت بحری امور کو معاملےپر بریفنگ دینے کی ہدایت کی گئی۔تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی اجلاس منعقد نہیں کیا گیا۔ماسٹر پلان کے تحت زمین کے حصولکا 48ار ب روپے کا پی سی ون متعلقہ فورم کی منظوری کیلئے پلاننگ کمیشن کو ارسال کیا گیا۔پلاننگ کمیشن کی جانب سے پی سی و ن یہکہ کر واپس کر دیا گیا کہ10جون2013کی این ای سی کی ہدایات اور 28اگست2013کے ایکنک فیصلے کے تحت ایسا منصوبہ جس کیلئےفنڈ دستیاب نہ ہوں یا فنڈ کے ذرائع واضح نہ ہوں کو سپانسر کو واپس بھجوا دینا چاہیے اور گوادر پورٹ ماسٹر پلان کے تحت زمین کےحصول کیلئے اقدامات گواد سٹی ماسٹر پلان کی منظوری کے بعد اٹھائے جائیں۔وزارت بحری امور کی جا نب سے آگاہ کیا گیا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے اگست2019میں گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کی منظوری دی گئی جس میں اس اراضی کےاستعمال کی سفارش کی گئی جو کہ پہلے سے استعمال میں ہے۔ایسا کرنے سے بندرگاہ کی توسیع میں رکاوٹ پیدا ہونے کااندیشہ ہے۔مجوزہ گوادر سٹی پلان کے باعث نیوی وارڈ کے علاقے تک برتھ کی تعمیر متاثر ہونے کا خدشہ ہے جوکہ مرکزی بندرگاہ سے 5کلومیٹر کےفاصلے پر ہے۔مجوزہ پلان کے باعث بندرگاہ کی توسیع کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔کوہ مہدی سے سربندر کا 10مربع کلومیٹر کا علاقہ ریزو ایریاقرار دیا گیا۔اس علاقے کو مرکزی بندرگاہ کی حدود میں شامل نہیں کیا گیا جس کے باعث مستقبل میں بندرگاہ کی توسیع متاثر ہونے کاامکان ہے۔وزارت بحری امور کے مطابق دنیا کی تمام بڑی بندرگاہوں کے ساتھ صنعتی علاقے موجود ہیں جس کی وجہ سے کاروبار کیلاگت میں کمی آتی ہے۔جبل علی (متحدہ عرب امارات)سلالہ (عمان)سنگاپور اور پورٹ قاسم کی بندر گاہ پر متعین شدہ صنعتی علاقےموجود ہیں جن کو متعلقہ بندرگاہ کے حکام کی جانب سے چلایا جاتا ہے۔اگست2019میں گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کیمنظوری کے وقت وزارت بحری امور سے مشاورت نہیں کی گئی۔علی زیدی کی جانب سے گوادر بندرگاہ کے علاقے میں 300میگاواٹ کول پاور پلانٹ کی تعمیر پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔وزیر معاشی امور کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا گوادر میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی نہ ہونے اور پانی کی قلت معاشی سرگرمیوں میں بڑی رکاوٹ تھیں۔کابینہ کی کمیٹی برائے سی پیک کی جانب سے گوادربندرگاہ کو جلد از جلد فعال بنانے کیلئے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔کمیٹی کی جانب سے گوادر بندرگاہ پر مزید بندرگاہ قائم نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وزارت بحری امور کو گوادر میں سٹریٹیجک پلان کے تحت کام تیز کرنے کی ہدایت کی گئی جس کی منظوری وزیراعظم کی زیر صدارت ساؤتھ بلوچستان ڈویلپمنٹ پروگرام میں دی گئی تھی۔وزارت بحری امور اور کنسیشنئر گوادر پورٹ،فری زون کودو ہفتے کے اندررعایتی کاروباری منصوبے کے حوالے سے کمیٹی کوتجاویز دینے کی ہدایت کی۔ پاور ڈویژن کو گوادر میں بجلی کی فراہمی کیلئے دو ہفتے کے اندر سمری ارسال کرنے کی ہدایت کی۔سرمایہ کاری بورڈ کو گوادر فی زون میںسرمایہ کاری کے امکانات کے حوالے سے آزاد تشخیص دو ماہ کے اندر کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔سرمایہ کاری بورڈ کو سی پیکخصوصی معاشی زون میں سرمایہ کاری کی مراعات کی رپورٹ اور دوسرے ممالک کے معاشی زون کی جانب سے پیش کردہ مراعات کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔پی ایس ڈی پی پر انحصار کم کرنے کیلئے وزارت بحری امور کو تمام بندرگاہوں کیلئے مشترکہ ہولڈنگ کمپنی کے قیام کے حوالے سے امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت۔اس حوالے سے سفارشات مناسب فورم کو فراہم کیا جائیںگی۔