بیلٹ پیپرقابل شناخت یاناقابل شناخت،الیکشن کمیشن آج فیصلہ کرے گا

Muhammad Dastagir 02 Mar, 2021 عالمی

اسلام آباد:بیلٹ پیپر قابل شناخت ہوگا یا نہیں ؟ سپریم کورٹ کی رائے پر الیکشن کمیشن حکام آج پھر سر جوڑ کر بیٹھیں گے، چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس میں حتمی فیصلہ ہوگا، سینیٹ الیکشن کیلئے چھبیس سو بیلٹ پیپرز چھاپے جائیں گے۔الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں آج ایک بار پھر مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن قابل شناخت یا خفیہ بیلٹ پیپرز بنانے کا فیصلہ کرے گا۔ پیر کے روز ہونے والے الیکشن کمیشن کے اجلاس میں، ڈی جی لاء نے عدالتی فیصلے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی، سپریم کورٹ نے جدید ٹیکنالوجی سے مدد لینے کی رائے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کے حتمی فیصلہ کے بعد بیلٹ پیپرز چھاپے جائیں گے۔ ادھر انتخابی مہم کا وقت ختم ہوگیا، سینیٹ انتخابات کیلئے کل میدان لگے گا۔ الیکشن کمیشن نے وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی مہم ختم ہونے کے بعد سیاسی سرگرمیاں غیر قانونی ہوں گی، خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ یاد رہے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اپنی 157 نشستیں ہیں، اتحادیوں میں ایم کیو ایم کی 7، مسلم لیگ ق کی اور بی اے پی کی 5، 5 جی ڈی اے کی 3، شیخ رشید کی آل پاکستان مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی 1، 1 نشست جبکہ 1 آزاد امیدوا اسلم بھوتانی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس طرح پاکستان تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں 180 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ دوسری طرف متحدہ اپوزیشن کی جماعتوں میں سے مسلم لیگ ن کی 83، پیپلزپارٹی کی 55، متحدہ مجلس عمل پاکستان کی 15، اے این پی اور جماعت اسلامی کی 1،1 نشست جبکہ 3 آزاد امیدواروں کا ساتھ بھی حاصل ہے۔ متحدہ اپوزیشن کے مجموعی اراکین کی تعداد 161 بن جاتی ہے۔ یوں وفاق کی جنرل نشست پر اپوزیشن کو جیتنے کے لئے حکومتی اتحاد میں سے 10 ووٹ توڑنے ہوں گے۔ اس وقت قومی اسمبلی کا ایوان 341 اراکین پر مشتمل ہے، اگر تمام ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں تو جیتنے والے امیدوار کو 171 ووٹ درکارہوں گے۔ اگر تمام ووٹ کاسٹ نہیں ہو پاتے تو کاسٹ ووٹوں میں سے 51 فیصد ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار فاتح قرار پائے گا۔