پاکستانی کسان بھی میدان میں آگئے،اسلام آبادمارچ کااعلان

Muhammad Dastagir 01 Mar, 2021 عالمی

رحیم یار خان (نعیم بشیرچوہدری سے)زراعت حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں‘حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے مہنگی کھاد‘بجلی‘ڈیزل‘ ناقص بیجوں‘ جعلی زرعی ادویات‘ زرعی اجناس کے کم نرخوں اور ناقص زرعی مارکیٹنگ نے کاشت کار کومعاشی بدحالی کا شکار کر دیا ہے‘وفاقی اور صوبائی نے حکومت کاشت کاروں سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے‘حکومت گندم کا ریٹ سندھ کے برابر 2ہزار فی 40کلو‘ چینی کا ریٹ شوگر ملز کی طرف سے خرید کردہ گنے کے نرخ کے لحاظ سے 70روپے فی کلو کیا جائے‘مطالبات کی منظوری کیلئے کسان 31مارچ سے ٹریکٹر ٹرالی مارچ کا اعلان کرتے ہیں‘کاشت کاروں کی ہر ضلع سے شروع ہونے والے ٹریکٹر ٹرالی مارچ کا رخ اسلام آباد کی طرف ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی کاشت کار رہنما صدر کسان اتحاد خالد محمود کھوکھر نے کسان بچائو تحریک کے زیر اہتما م کسان کانفرنس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر کسان بچائو تحریک کے صدر چوہدری یاسین‘سید محمود الحق بخاری‘حاجی محمد ابرہیم‘چوہدری محمود الحسن چیمہ‘سردار یعقوب سندھو‘ایم ڈی گانگا‘چوہدری عبدالجلیل بندیشہ سمیت چاروں تحصیلوں سے کاشت کاروں کی کثیر تعداد موجود تھی۔انہوں نے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم‘چینی‘خوردنی تیل‘پھل‘سبزیاں باہر سے منگوا رہے ہیں۔زراعت سے وابستہ حکومتی محکموں کی ناقص کار کردگی‘کرپشن کی وجہ سے زرعی اجناس کے ناقص بیجوں اور جعلی زرعی ادویات نے ملکی کاشت کار کے فصلوں کی دیکھ بھال پر اخراجات بڑھا دیئے ہیں۔انہوں کہا کہ کاشت کاروں کو ان کی زرعی اجناس کے نرخ کم دیئے جاتے ہیں اور پھر یہی چیزیں شہریوں کو مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ کسان سے 1400روپے میں خرید کردہ گندم مارکیٹ میں 2400‘کسان 5روپے میں خرید کردہ آلو سبزی منڈیوں 55روپے‘1300روپے من خرید کردہ دھان کا چاول مارکیٹ میں 170 روپے فی کلو تک فروخت ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو مہنگی کھاد‘بجلی‘ڈیزل کی وجہ سے آئندہ فی ایکڑ پیدوار مزید کم ہو جائے گی جس کاشت کار کی معاشی بدحالی بڑھنے کے ساتھ ساتھ ملک کے 22کروڑ عوام غذائی بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس موقع پر چوہدری یاسین‘سید محمود الحق بخاری‘چوہدری محمود الحسن چیمہ نے رحیم یار خان کی سالانہ نہروں کو پانی فراہم کرنے والی عباسیہ لنک کینال پر چنی گوٹھ تا ہیڈ قاسم والا تک پانی کی بڑھتی ہوئی چوری کی مذمت کی گئی۔قبل ازیں کسان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے زرعی ٹیوب ویلز فیول پرائس ایڈجسمنٹ ٹیکس کے خاتمے ور ٹیرف میں کمی اوور بلنگ اور اوور ریڈنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ملک سے زرعی بحران کے خاتمے کے لیے حکومت کپاس گنے گندم وغیرہ کے ریٹ سمیت کسانوں کے جملہ مسائل پر سنجیدگی سے غور کرے‘وزیر اعظم پاکستان نے زرعی شعبے کے لیے 63ارب سبسڈی کا اعلان کیا تھا جو تاحال کاشت کاروں کو نہیں ملی لیکن صنعت کار اس سے مستفید ہو رہےہیں۔