” تیسری ریاست کی مدد سے پڑوسی ملک کی سرزمین سے دہشت گردی“

Muhammad Dastagir 26 Feb, 2021 عالمی

اقوام متحدہ: جہاں بھارت اور پاکستان کے سینئر فوجی عہدیدار کشیدگی کو کم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں وہیں پاکستان کے اقوام متحدہ کے مندوب نے سلامتی کونسل کو یاد دلایا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر ’مستقبل کے‘ اور ’متوقع‘ حملوں کو روکنے کے لیے طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ دونوں ممالک کے سینئر فوجی کمانڈرز نے کنٹرول لائن اور دیگر تمام معاہدوں، افہام و تفہیم اور جنگ بندی پر سختی سے عمل کرنے پر رضامندی ظاہر کرنے سے چند گھنٹوں قبل ہی پاکستان نے ایک غیر رسمی طریقہ کار آریا فارمولہ کا استعمال کیا۔ پاکستان کے اقوام متحدہ کے سفیر منیر اکرم نے ممبران کو ایک یاد دہانی کے ساتھ اپنی بریفنگ کا آغاز کیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کا مقصد جنگ کے راستے کو کالعدم قرار دینا تھا۔افغانستان اور بھارت کے بارے میں بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ ان کا ملک 'ایک تیسری ریاست کی مدد سے پڑوسی ملک کی سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کے سرحدی حملوں کا سامنا کر رہا ہے'۔ مندوب نے کہا کہ 'پاکستان نے اپنے ہمسایہ ریاستوں کی علاقائی خودمختاری کا احترام کیا ہے لیکن ہمیں ریاست کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے جو پاکستان کے خلاف ان دہشت گردانہ حملوں کی سرپرستی کررہی ہے'۔