حکومت کاالیکشن کمیشن کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کافیصلہ

Muhammad Dastagir 26 Feb, 2021 عالمی

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کا این اے-75 ڈسکہ میں دوبارہ ضمنی انتخاب کروانے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔ انگریزی اخبارڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں ہوئے کابینہ اجلاس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تفصیلی بات چیت کی گئی اور عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم کے کامیاب نوجوان پروگرام کے چیئرمین اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار نے کہا کہ 'ہم نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے'۔عثمان ڈار کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم اپنے قانون حقوق کے لیے لڑیں گے کیوں کہ وہاں کے عوام نے ہمارے لیے ووٹ دیے اور ہم ان کے حقوق کے لیے لڑیں گے'۔ ان کا کہنا تھا کہ ریٹرننگ افسران نے اپنی رپورٹ میں کہیں یہ ذکر نہیں کیا کہ حلقہ این اے-75 میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں لیکن صرف 20 سے 23 پولنگ اسٹیشنز کا ذکر کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ اگر 20 متنازع پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا گیا تو حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے قبل ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے عثمان ڈار نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن جو بھی فیصلہ سنائے گا حکومت اسے قبول کرے گی۔