بھارت سے سرخ مٹی درآمد کی منظوری،تاریخی مغلیہ عمارتوں کے تحفظ کیلئے تاریخی فیصلہ

Muhammad Dastagir 24 Feb, 2021 عالمی

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے شالیمار باغ لاہور،نور جہاں اور آصف جا کے مقبروں کو محفوظ بنانےکیلئے بڑافیصلہ کرتے ہوئے بھارت سے سرخ مٹی کے پتھر درآمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ پنجاب حکومت کی درخواست پر بھارت سے  پتھر درآمد کرنےکیلئے اگست 2019 سے عائد تجارتی پابندی سے استثنی دیدیا گیا ہے۔سینئر صحافی وتجزیہ نگار سہیل اقبال بھٹی کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طورپر4ہزار983کیوبک فٹ سرخ پتھر بھارت سے در آمد کیا جائے گا۔ مغلیہ دورمیں راجستھان کے علاقے کا سرخ پتھر لاہور کی عمارتوں میں استعمال کیا گیا۔ تینوں مقامات میں استعمال ہونیوالا سرخ پتھر صرف راجستھان میں پایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ آثار قدیمہ کی درخواست پر وزارت تجارت نے سمری وفاقی کابینہ کو ارسال کی تھی۔ وفاقی کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ سرخ مٹی کے  پتھر کی عدم دستیابی کے باعث لاہور میں شالیمار باغ،نور جہاں اور آصف جا کے مقبروں کے تحفظ کیلئے جاری کام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ سرخ مٹی کا پتھر بھارتی علاقے راجھستان کے علاوہ کہیں دستیاب نہیں ۔ بھارت سے درآمدات پر پابندی کے باعث یہ پتھر راجھستان سے درآمد نہیں کئے جاسکتے۔ وفاقی کابینہ ہندو برادری کی طرف سے بھارتی سے منگوائی گئی مورتیوں اور جان بچانے والی ادویات درآمد کرنے کیلئے امپورٹ آرڈر میں نرمی کرچکی ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے وزارت تجارت کو محکمہ آثار قدیمہ کی درخواست ارسال کی گئی جس میں تاریخی مقامات کے تحفظ کیلئے بھارتی سرخ مٹی کے پتھر کی درآمد کی اجازت طلب کی گئی۔محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق بھارتی سرخ مٹی کے پتھر کا استعمال مغلیہ دور کی یادگاروں میں کثرت سے کیا گیا اور یہ مخصوص پتھر بھارت کے علاقے راجھستان میں پایا جا تا ہے۔ایسی خصوصیت اور رنگ کا پتھر پاکستان میں کہیں بھی دستیاب نہیں۔ مخصوص پتھر کی عدم دستیابی کے باعث شالیمار باغ،نور جہاں اور آصف جا کے مقبروں کے تحفظ کیلئے جاری کام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔