وہ تین غلطیاں جنہوں نے امریکی منصوبے پر پانی پھیر دیا

urduwebnews 23 Aug, 2021 عالمی

واشنگٹن(اردو ویب نیوز)یہ رپورٹ سامنے آئی ہے کہ افغانستان سے بتدریج انخلا کے امریکی منصوبے کو وقت، ارادے اور بھروسے سے متعلق 3 غلط اندازوں نے سبوتاژ کردیا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ امریکیوں کو یہ یقین تھا کہ انہیں وقت کی آسائش میسر ہے جبکہ فوجی کمانڈروں نے افغان افواج کے لڑنے کے حوصلے کے بارے میں غلط اندازہ لگایا اور صدر اشرف غنی پر بہت زیادہ اعتماد کیا جو کابل کے سقوط کے بعد فرار ہوگئے تھے۔ اخبار کے مطابق صدر جو بائیڈن کی جانب سے انخلا کے منصوبے کا اعلان کیے جانے کے 2 ہفتوں بعد قومی سلامتی کے اعلیٰ عہدیداروں نے منصوبے کو حتمی شکل دی تھی۔پینٹاگون عہدیداروں کا کہنا تھا کہ وہ صدر جوبائیڈن کی مقرر کردہ حتمی تاریخ 11 ستمبر سے 2 ماہ قبل یعنی 4 جولائی تک افغانستان میں باقی رہ جانے والے ساڑھے 3 ہزار امریکی فوجیوں کو نکال لیں گے۔ اس منصوبے کا مطلب بگرام ائیر فیلڈ کو بند کرنا تھا جو افغانستان میں امریکی فوجی طاقت کا مرکز تھا۔دوسرا اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ وہ ساڑھے 6 سو اہلکاروں کی حفاظت میں بقیہ 14 سو سے زائد امریکیوں کے ساتھ سفارتخانہ کھلا رکھیں گے۔ اجلاس میں پیش کیے گئے ایک انٹیلیجنس جائزے میں کہا گیا تھا کہ افغان فورسز طالبان کو ایک سے 2 سال تک روکے رکھ سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہنگامی انخلا کے منصوبے پر بھی مختصر بات چیت ہوئی لیکن کسی بھی نہ یہ سوال اٹھایا نہ سوچا کہ اگر طالبان کابل ایئرپورٹ تک کے راستوں پر قبضہ کرلیتے ہیں تو امریکا کیا کرے گا۔اخبار نے تبصرہ کیا کہ 'سلسلہ وار غلط اندازوں اور جو بائیڈن کے اس حساب کتاب میں ناکامی کے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے نتیجے میں بتدریج انخلا ہوگا، چار ماہ بعد یہ منصوبہ قابل شرم ہے'۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حالانکہ سفارتخانے اور انخلا کے سلسلے میں وائٹ ہاؤس حکام کے 50 اجلاس ہوئے لیکن محض چند دنوں میں کابل پر طالبان کے قبضے کےبعد تمام منصوبہ بندی تباہی کو روکنے میں ناکام رہی۔ ساتھ ہی دعویٰ کیا گیا کہ صدر جوبائیڈن کے انٹیلجنس افسران نے اپنے طور پر افغانوں کی صلاحیت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا لیکن ساتھ ہی یہ پیش گوئی بھی تھی کہ طالبان کا مکمل قبضہ ڈیڑھ سال سے پہلے نہیں ہوگا۔