حکومت نے آئی ایم ایف کےتمام مطالبات مان لئے،قوم تیارہوجائے

Muhammad Dastagir 17 Feb, 2021 عالمی

اسلام آباد:حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف )کی شرائط پوری کردیں۔بجلی کی قیمت میں 3روپے 90پیسے فی یونٹ اضافے اور کارپوریٹ سیکٹر کا انکم ٹیکس استثنیٰ ختم کرکے 150 سے 200ارب روپے جمع کرنے کے وعدے پر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کا قرض پروگرام بحال کردیا۔دوسری جانب وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے بھی تصدیق کی ہے کہ فریقین اسٹاف سطح کے معاہدے پرمتفق ہوگئے ہیں‘یہ پاکستان کیلئے اچھی پیش رفت ہے۔ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان چھ ارب ڈالر کے قرضے کے جائزہ امور پر مذاکرات مکمل ہو گئے۔ آئی ایف ایم ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلیٹی کے تحت دوسرے سے پانچویں کے جائزے کے امور نمٹائے گئے۔ مذاکرات کے بعد پاکستان کو50 کروڑڈالر قسط کے اجرا کی راہ ہموار ہو گئی۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کو 39مہینوں کے پروگرام کے تحت 6 ارب ڈالرکا قرضہ دینے کااعلان کیا تھا قرضہ کی 500ملین ڈالر کی حتمی منظوری آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ دے گا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ توانائی شعبہ میں جاری سبسڈیز کو کم کیا جائے گا‘پاکستان قرض پروگرام کے دیگر اہداف حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے، حکومت نیپرا کی خود مختاری کیلئے قوانین تبدیل کررہی ہے جبکہ حکومت اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کیلئے بھی قانون سازی کررہی ہے۔