پاکستان اور انڈیا اپنی جوہری تنصیبات کی معلومات کا تبادلہ کیوں کرتے ہیں؟

ilyas shakoori 27 May, 2021 عالمی

پاکستان اور بھارت نے نیا سال شروع ہوتے ہی یکم جنوری کو ایک دوسرے کے ساتھ اپنی جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرست کا تبادلہ کیا ہے۔ دراصل یہ ایک ایسا عمل ہے جو ہر برس دونوں ممالک کے مابین ایک معاہدے کے تحت ہوتا ہے۔ انڈین وزارت خارجہ کی یکم جنوری کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق: ’نئی دہلی اور اسلام آباد میں یکم جنوری کو انڈیا اور پاکستان کے سفارتکاروں کے درمیان جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرست کا تبادلہ کیا گیا، جو انڈیا اور پاکستان کے درمیان جوہری تنصیبات اور سہولیات پر حملہ نہ کرنے کے معاہدے کے تحت ہے۔‘ اس معاہدے پر 31 دسمبر سنہ 1988 کو دستخط کیے گئے تھے اور وہ 27 جنوری سنہ 1991 سے نافذ العمل ہے۔ اس کے تحت انڈیا اور پاکستان ہر سال یکم جنوری کو جوہری تنصیبات کے بارے میں ایک دوسرے کو آگاہ کرتے ہیں۔ یہ معلومات پہلی بار یکم جنوری سنہ 1992 کو فراہم کی گئی تھیں۔ اس کے بعد سے مسلسل 30 ویں بار ان معلومات کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق دونوں ممالک ایک دوسرے کی جوہری تنصیبات پر حملہ نہیں کرسکتے ہیں۔