پاکستان کی شرح نمومیں زبردست اضافہ،معاشی ماہرین حیران

urduwebnews 22 May, 2021 عالمی

اسلام آباد: پاکستان کی معیشت نے توقع سے بڑھ کر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کووڈ 19 کے دوران تمام بڑے معاشی اشاروں پر مثبت رجحان دکھایا جس کے نتیجے میں رواں مالی سال معاشی شرح نمو 3.94 فیصد رہی جو گزشتہ مالی سال منفی 0.47 فیصد تھی۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نمو کے اعدادوشمار حیران کن ثابت ہوئے کیونکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے جی ڈی پی کی شرح نمو کا تخمینہ 3 فیصد لگایا تھا جبکہ وزارت خزانہ نے تخمینہ اس سے مزید تھوڑا کم گایا تھا۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک کی جانب سے نمو کا تخمینہ رواں مالی سال کے لیے بالترتیب 1.3 فیصد اور 1.5 فیصد کے درمیان تھا۔ متعدد سالوں سے سروسز کا شعبہ ملک میں معاشی نمو کی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے اور اس سال اس میں 4.43 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بڑے شعبوں میں سروسز کی فراہمی میں کورونا وئرس نے رواں سال بھی خدمات کے شعبے کو جزوی طور پر متاثر کیا ہے۔ تاہم زراعت کے شعبے میں 2.77 فیصد ترقی ہوئی ہے جبکہ صنعتی پیداوار میں 3.57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعدادوشمار مجموعی مقامی مصنوعات (جی ڈی پی) کا جائزہ لینے کے لیے منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات کے سیکریٹری حمید کی زیرصدارت قومی اکاؤنٹس کمیٹی کے 103 ویں اجلاس میں مرتب کیے گئے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے تیسرے سال میں معیشت کی مجموعی طور پر ایک بہتر تصویر پیش کرتے ہوئے ایک سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جی ڈی پی اور گراس فکسڈ کیپیٹل فارمیشن (جی ایف سی ایف) کے لیے مالی سال 2020-21 کے تخمینے 6 سے 9 ماہ کے تازہ دستیاب ڈیٹا کے مطابق پیش کیے گئے ہیں۔ جمعہ کو اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹ کیا کہ یہ شرح نمو کورونا کی وبا پر قابو پاتےہوئےاختیار کی گئی ہماری معاشی پالیسیوں کی کامیابی کی عکاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ہماری وی (انگریزی لفظ وی) کی شکل کی معاشی بحالی زراعت، صنعت سروسز جیسے3 بڑے شعبوں کے درمیان توازن پر محیط ہے'۔ 2020-21 کے دوران ملک کی جی ڈی پی کا حجم 477 کھرب 9 ارب روپے رہا جبکہ اس سے گزشتہ سال یہ 415 کھرب 55 ارب 60 کروڑ روپے تھا جو 14.8 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ تاہم اس کے برخلاف 2020-21 میں جی ڈی پی کا حجم 296 ارب ڈالر ہو گیا جو 2019-20 میں 263 ارب روپے تھا جو 33 ارب یا 12.54 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کے ساتھ ڈالر کے لحاظ سے معیشت میں بہتری آئی، یہ کسی بھی سال میں سب سے زیادہ اضافہ ہے۔ 2020-21 کے لیے فی کس آمدنی 2 لاکھ 46 ہزار 414 روپے لگائی گئی ہےجبکہ گزشتہ مالی سال یہ 2 لاکھ 15 ہزار 60 روپے تھی جس میں 14.6 فیصد کا اضافہ دکھایا گیا ہے۔ ڈالر کے لحاظ سے فی کس آمدنی رواں مالی سال کے دوران 13.4 فیصد اضافے سے ایک ہزار 543 ڈالر ہوگئی ہے جو گزشتہ سال ایک ہزار 361 ڈالر تھی۔ وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا کہ جی ڈی پی کی نمو اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مضبوطی کی وجہ سے فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی میں ایسے وقت میں نمو جب کووڈ 19 نے معیشت کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج کھڑا کردیا تھا، حکومت کی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہے۔