فلسطین عیدپربھی لہورنگ،شہیدوں کی تعداد83 تک پہنچ گئی

urduwebnews 13 May, 2021 عالمی

غزہ سٹی:اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے عید الفطر کے روز بھی غزہ میں بلند و بالا عمارتوں اور دیگر مقامات پر مزید فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں پیر سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 83 تک پہنچ گئی ہے جس میں 17 بچے بھی شامل ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پیر کی رات سے شروع ہونے والے فضائی حملوں میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 17 بچوں سمیت 83 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور 480 سے زائد فلسطینی زخمی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ متعدد مقامات سے اسرائیل کی جانب سے سیکڑوں راکٹ فائر کیے گئے جس کے نتیجے میں 7 اسرائیلیوں کے ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کا دعیویٰ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ انہوں نے غزہ کے مشرقی علاقوں کے قریب فوج کو تعینات کردیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے اندر متعدد شہروں میں بھی یہودیوں اور فلسطینیوں کے درمیان پُرتشدد تصادم کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے میڈیکل ورکرز کا کہنا تھا کہ تازہ فضائی حملوں میں اسرائیل نے غزہ کے مرکزی علاقے میں 6 منزلہ عمارت کو تباہ کردیا۔ علاوہ ازیں اسرائیلی فورسز کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی علاقے جراح اور بعد ازاں غزہ میں فلسطینیوں پر کیے جانے والے حالیہ حملوں کے بعد یہودیوں اور عرب اقلیت کے درمیان تشدد کی نئی لہر اسرائیل کے دیگر شہروں تک پھیل گئی ہے۔ غزہ میں طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس وبا کے دوران پہلے سے ہی شدید دباؤ کا شکار ہسپتالوں کو مزید مشکلات کا سامنا ہے۔ اسرائیل نے غزہ کی سرحد کے ساتھ فوج تعینات کردی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ 'زمینی کارروائیوں کی تیاری کے مختلف مراحل' میں ہے۔ ایک فوجی ترجمان نے کہا کہ یہ اقدام 2014 اور اس سے قبل 2008-2009 میں اسرائیل کے غزہ میں حملوں کی یاد کو تازہ کرے گا۔ لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس نے کہا کہ 'چیف آف اسٹاف ان تیاریوں کا معائنہ کر رہے ہیں اور رہنمائی فراہم کر رہے ہیں'۔ غزہ میں صحت حکام نے بتایا کہ وہ راتوں رات متعدد افراد کی اموات کی تحقیقات کر رہے ہیں جو مبینہ طور پر زہریلی گیس کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ لاشوں سے حاصل کیے جانے والے نمونوں کی جانچ کی جارہی ہے اور ان کے پاس ابھی کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ جہاں ایک جانب اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد مزید بے قابو ہونے کے خطرات منڈلارہے ہیں وہیں واشنگٹن نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک ایلچی، ہیڈی امر کو بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ لڑائی 'بہت جلد ختم ہوجائے گی'،ایک برطانوی وزیر نے اسرائیل اور حماس پر زور دیا کہ وہ اس تصادم سے ' پیچھے ہٹیں'۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو نے 'حماس اور کی فوجی صلاحیتوں اور غزہ کی دیگر تنظیموں پر حملے جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ حماس کو امریکا اور اسرائیل ایک دہشت گرد گروہ کے طور پر مانتے ہیں۔ حماس کے رہنما اسمعٰیل ہانیہ کا کہنا تھا کہ 'دشمن کے ساتھ محاذ آرائی کھلی ہوئی ہے'۔