گوبرمیں کوروناسے شفانہیں مزیدامراض،بھارتی ڈاکٹروں کاانتباہ

urduwebnews 11 May, 2021 عالمی

نئی دہلی:بھارتی ڈاکٹرز نے کورونا کے خاتمے کے لیے گائے کے گوبر کا استعمال سے متعلق انتباہ جاری کردیا۔ بھارتی ڈاکٹرز کے مطابق گائے کے گوبر سے کورونا کے خاتمے کے کوئی سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں اس کے برعکس گائے کا گوبر مزید بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ پیدا کرسکتا ہے۔ رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت اور دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے طبی ماہرین کورونا کے متبادل علاج کے طور پر ایسے تجربوں سے متعلق بار بار خبردار کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے تجربے صحت کے مسائل سے متعلق پیچیدگیاں بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔انڈین میڈیکل ایسویسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی ٹھوس سائنسی ثبوت موجود نہیں کہ گائے کا گوبر یا پیشاب کورونا کے خلاف قوت مدافعت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، یہ مکمل طور پر اعتقاد پر مبنی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ان مصنوعات کو سونگھنا یا جسم پر لگانا صحت کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے، ساتھ ہی اس طریقے کے ذریعے جانوروں کی بیماریاں انسانوں میں منتقل ہونے کا بھی خدشہ پایا جاتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تجربہ وائرس کے پھیلاؤ میں اضافے کا بھی سبب بن سکتا ہے کیوں کہ اس تجربے کے ذریعے لوگوں کا گروہ ایک جگہ جمع ہوتا ہے۔ بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں کچھ ہندو ہفتے میں ایک بار گائیوں کے باڑے جاتے ہیں اور اس عقیدے سے گائے کے گوبر اور پیشاب کو جسموں پر لگاتے ہیں کہ اس سے ان کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوگا یا پھر انہیں کورونا سے صحتیاب ہونے میں مدد ملے گی۔ خیال رہے کہ ہندو مذہب میں گائے کو زندگی اور زمین کی ایک مقدس علامت سمجھا جاتا ہے، ہندو گائے کے گوبر کو گھر صاف کرنے اور عبادت کی رسومات میں استعمال کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ گائے کے گوبر میں جراثیم کش اور علاج جیسی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ ء ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کے ایسوسی ایٹ منیجرکا غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ اس پریکٹس کے ذریعے گزشتہ برس انہیں کورونا سے صحتیات ہونے میں مدد ملی اور ہم نے دیکھا یہاں تک کچھ ڈاکٹرز بھی آئے جن کا عقیدہ ہے کہ یہ تھراپی ان کی قوت مدافعت میں اضافئ کا باعث بنتی ہے اور وہ بغیر کسی خوف مریضوں کی مدد کرسکتے ہیں۔