مغربی بنگال:ممتابینرجی دوتہائی اکثریت سے کامیاب،بی جے پی رسوا

urduwebnews 03 May, 2021 عالمی

نئی دہلی: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے ریاستی انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلی جبکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ایسی ریاست میں جو ان کی تفرقے کی سیاست کی مخالفت کا گڑھ ہے، وہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا چارج سنبھالنے پر ذلت کا سامنا رہا۔ ممتا بینرجی کی جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) 294 رکنی اسمبلی میں 215 نشستوں پر کامیاب ہوئی جس کے بعد انہوں نے کہا کہ 'بنگال نے بھارت کو بچالیا ہے'۔ انتخابات میں بی جے پی اکثریت سے دور 78 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ ممتا بینرجی نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے جانب سے انتخابی جلسوں سمیت متعدد عوامل کے امتزاج کی وجہ سے پورے بھارت میں پھیلے کورونا وائرس کی وبا کا مقابلہ کرنا ہوگی۔ کیرالا کے انتخابی نتائج میں 140 رکنی اسمبلی میں سے 99 نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے لیفٹ فرنٹ حکومت میں واپس آگئی جبکہ کانگریس پارٹی کو 41 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں دونوں فریقین کو پورے بھارت میں پھیلی نظریاتی الجھن کو دور کرنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ وہ تامل ناڈو میں ڈی ایم کے کی زیر قیادت اتحاد کے ساتھ تھے جہاں انہوں نے ڈی ایم کے تحت چند نشستیں حاصل کی تھیں۔ تاہم مغربی بنگال میں بھی کانگریس اور لیفٹ فرنٹ ایک ساتھ تھیں، انہوں نے ممتا بینرجی کو ایک ایسے مسلمان عالم کی مدد سے نشانہ بنایا جو ان کے عوامی جلسوں میں مرکزی اسپیکر تھا۔ کمیونسٹس کو ایک نشست پر فتح حاصل ہوئی جبکہ کانگریس کو کوئی نشست نہیں ملی۔ نریندر مودی نے اپنے طنزیہ لہجے میں ممتا بینرجی سے انتخابات سے قبل ہی وزیر اعلیٰ کا دفتر خالی کرنے کا کہا تھا۔ نریندر مودی نے متعدد جلسوں میں بار بار کہا تھا کہ 'دی دی، او دی دی، آپ ہار چکی ہیں'۔ ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ مہوئہ موئترا کا خیال ہے کہ یہ وزیر اعظم کی 'تنقید' تھی جس نے بنگال کے متوسط طبقے کی خواتین کو پریشان کردیا تھا جنہوں نے انہیں روکنے کا فیصلہ کیا۔ لیفٹ فرنٹ جس نے پردے کے پیچھے بی جے پی کی حمایت کی تھی، کو پہلے ملنے والی 7 نشستوں سے ایک نشست واپس ملی۔ کمیونسٹ رہنماؤں نے نعرہ لگایا 'پہلے رام، پھر بام'، جس نے مبینہ طور پر اس حلقے نندی گرام میں پارٹی کے ووٹ حاصل کرنے میں مدد کی جہاں ممتا بینرجی نے انتخابات سے قبل بی جے پی میں شامل ہونے والے پارٹی کے غدار کی حمایت کی تھی۔ ٹی ایم سی نے دوبارہ گنتی کے لیے الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے جبکہ ممتا بینرجی نے کہا ہے کہ یہ کلین سویپ کے لیے ٹھیک نہیں، قواعد کے مطابق اگر دوبارہ ووٹوں کی گنتی ان کے حق میں نتیجے کو تبدیل نہیں کرتی ہے تو ممتا بینرجی کو 6 ماہ کے اندر اندر اسمبلی کی نشست جیتنے کی ضرورت ہوگی جو ان کے ہی ایک ایم ایل اے نے خالی کی تھی۔