ٹی ایل پی سے پابندی نہیں ہٹائیں گے،عمران خان

Muhammad Dastagir 21 Apr, 2021 عالمی

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ حکومت کا کالعدم تحریک لبیک پاکستان ( ٹی ایل پی) پر لگائی گئی پابندی ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ٹی ایل پی کو حکومت کی جانب سے لگائی پابندی ختم کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نے یہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے ایک اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے کیاحکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی گزشتہ ہفتے اس وقت لگائی تھی جب کالعدم تنظیم نے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کے مطابے کے ساتھ ملک بھر میں پر تشدد احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ اجلاس میں موجود ایک فرد نے ڈان کو بتایا کہ وزیراعظم کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اگر پاکستان فرانسیسی سفیر کو بے دخل کردے تو یورپی یونین کی جانب سے سخت ردِ عمل آسکتا ہے اور مغربی ممالک میں موجود پاکستان کے 27 سفیروں کو واپس آنا پڑ سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہر مسلمان نبی ﷺ سے محبت کرتا ہے اور ان کی توہین برداشت نہیں کرسکتا لیکن حکومت کی جانب سے مذمت کا طریقہ ٹی ایل سے قدرے مختلف تھا، کوئی یہنہیں کہہ سکتا ہے کہ وہ نبیﷺ کو سب سے زیادہ محبت کرتا ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ مغربی ممالک اس وقت تک دباؤ میں نہیں آئیں گے جب پوری امت مسلمہ مشرکہ طور پر گستاخی کے عمل کی مذمت نہ کرے اور مغرب کو یہ احساس دلائے کہ یہ آزادی اظہار رائے نہیں ہے بلکہ اس سے دنیا بھر میں اربوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک مہم کی سربراہی کریں گے جس میں مسلمان ریاستوں کے سربراہاں مشترکہ طور پر مغرب پر نبیﷺ کی گستاخی روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ اجلاس میں شریک ایک اور فرد کا کہنا تھا کہ تمام شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حکومت ٹی ایل پی سے پابندی نہیں ہٹائے گی اور پارٹی کو پابندی ہٹوانے کے لیے عدالت میں درخواست دائرکرنا ہوگی۔