پاک بھارت تعلقات بحالی کیلئے عرب امارات کی ثالثی کی تصدیق

Muhammad Dastagir 15 Apr, 2021 عالمی

واشنگٹن:امریکا میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف ال اوطیبہ نے تصدیق کی ہے کہ خلیجی ریاست بھارت اور پاکستان کے مابین 'پر امن اور فعال' تعلقات کے لیے ثالثی کا کردار ادا کررہا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق پاکستان اور بھارت سے اعلیٰ انٹیلی جنس افسران نے کشمیر کے معاملے پر حالیہ تناؤ کم کرنے کے لیے نئی کوششوں کے طور پر جنوری میں دبئی میں خفیہ بات چیت کی تھی۔سفیر یوسف ال اوطیبہ نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ہوور انسٹی ٹیوشن کے ساتھ ورچوئل بات چیت میں کہا کہ متحدہ عرب امارات نے 'کشمیر پر پائی جانے والی کشیدگی کو ختم کرنے اور جنگ بندی میں کردار ادا کیا'۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سفارتی تعلقات کی بحالی اور دیگر امور میں مثبت پیش رفت میں مدد ملے گی۔ امریکا میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف ال اوطیبہ نے کہا کہ وہ (پاکستان اور بھارت) شاید بہترین دوست نہ بنیں لیکن ہم کم سے کم (تعلقات) ایک ایسی سطح تک پہنچا دینا چاہتے ہیں جہاں وہ فعال ہوں اور ایک دوسرے سے بات کرسکتے ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں افغان امن عمل میں کردار ادا کرنا ہوگا جہاں امریکا یکم مئی سے اپنے فوجیوں کا انخلا شروع کرنا چاہتا ہے۔ اماراتی عہدیدار نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ اچانک امریکی انخلا افغانستان میں 'منفی اثرات' کا باعث بنے گا جو یقینی طور پر 'زیادہ لبرل قوتوں' کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ یوسف ال اوطیبہ نے کہا کہ 'سوال یہ ہے کہ کیا تینوں فریق (امریکا، طالبان اور افغان حکومت) کسی ایسے معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں جس کے ساتھ وہ رہ سکیں'۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مدد کے بغیر ہمارے لیے افغانستان میں استحکام کا راستہ تلاش کرنا ناممکن ہے۔ 2019 میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی قافلے پر خودکش بم دھماکے کا الزام پاکستان پر عائد ہونے کے بعد سے بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات منقطع ہیں۔ اسی سال کے آخر میں بھارت کے وزیر اعظم نے مقبوضہ کشمیر کی کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی۔ دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں جنوبی ایشیا میں ممکنہ جنگ کے خدشات سے خبردار کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پاکستان اور بھارت طویل جنگ میں الجھ سکتے ہیں جو دونوں میں سے کوئی فریق نہیں چاہتا۔ یہ جائزہ ہر 4 برس بعد پیش کی جانے والی امریکی حکومت کی نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی گلوبل ٹرینڈز رپورٹ میں شامل کیا گیا جو واشنگٹن میں جاری کی گئی تھی۔