آئی ایم ایف سے ٹیکسز12کھرب 72 ارب کرنے،بجلی 4 روپے 97 پیسےمہنگی کرنے کاوعدہ

Muhammad Dastagir 09 Apr, 2021 عالمی

اسلام آباد: پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے آئندہ بجٹ میں ایف بی آر ٹیکسز بڑھا کر 12کھرب 72 ارب روپے (جی ڈی پی کے تقریباً 2.8 فیصد کے برابر) کرنے اور موجودہ مالی سال کے بقیہ 3 ماہ میں بجلی کے نرخ 4 روپے 97 پیسے فی یونٹ تک بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کے جاری کردہ دستاویز کے مطابق حکومت نے ریگولیٹر نیپرا کی ترمیم شدہ طاقتوں کی خودکاریت کے ذریعے آئندہ برس بھی سالانہ، سہ ماہی اور ماہانہ بنیادوں پر بجلی کے نرخوں کی ایڈجسٹمنٹ جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔ دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس برس بجٹ کے ہدف 4 کھرب 50 ارب روپے کے بجائے 5 کھرب 10 ارب روپے اکھٹے کرنے کے لیے تیل کی مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی میں زیادہ سے زیادہ سطح (30 روپے فی لیٹر) اور آئندہ برس بھی اس میں اضافہ جاری رکھے گی۔ان اقدامات میں بجلی کے بلوں میں اضافہ، 140 ارب روپے کے ٹیکس عائد کرنا اور اسٹیٹ بینک کو بے مثال خود مختاری دینے پر اتفاق کرنا شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے معاہدے کی توثیق کی جو گزشتہ ماہ حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کی ٹیم کے درمیان طے پایا تھا۔ بورڈ کی منظوری سے قرض کے 50 کروڑ ڈالر کی تیسری قسط کو جاری کرنے کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔ 6 ارب ڈالر میں سے آئی ایم ایف پہلے ہی دو قسطوں میں پاکستان کو ایک ارب 45 کروڑ ڈالر کی رقم فراہم کرچکا ہے اور اس قسط کے ملنے کے بعد مجموعی طور پر پاکستان کو حاصل کردہ رقم 2 ارب ڈالر ہوجائے گی۔گزشتہ سال اپریل کے مہینے میں اسلام آباد کی جانب سے معیشت کی اصلاح کے لیے منی بجٹ کا اعلان کرنے میں ناکامی کے بعد آئی ایم ایف نے دوسرے جائزے کی منظوری کے لیے بورڈ کا اجلاس ملتوی کردیا تھا۔ فروری میں دونوں فریقین نے پروگرام کے زیر التوا دوسرے، تیسرے، چوتھے اور پانچویں جائزوں کو اکٹھے کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ ان جائزوں کی علیحدہ تکمیل کے نتیجے میں 2 ارب 20 کروڑ ڈالر کی فراہمی ہوسکتی تھی جو آئی ایم ایف نے اب کم کر کے صرف 50 کروڑ ڈالر کردی ہے۔