فوج کی تضحیک پردوسال قیدوجرمانے کی سزاکابل منظور

Muhammad Dastagir 08 Apr, 2021 عالمی

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے مسلح افواج کی جان بوجھ کر تضحیک کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان پینل کوڈ اور ضابطہ فوجداری 1898 میں ترمیم کرنے کے بل کی منظوری دے دی۔ رپورٹ کے مطابق بل میں کہا گیا کہ جو بھی شخص اس جرم کا مرتکب ہو گا اسے 2 سال قید یا جرمانے کی سزا ہوگی جس کی حد 5 لاکھ تک ہو سکتی ہے یا دونوں سزائیں ایک ساتھ بھی ہو سکتی ہیں۔تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی امجد علی خان کی جانب سے پیش فوجداری قانون میں ترمیمی بل 2020 پیش کیا گیا اور بل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے منظور کیا۔بل میں پی پی سی کی دفعہ 500 میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے۔ جس میں کہا گیا تھا کہ جو بھی کسی کی بدنامی کرتا ہے اسے قید کی سزا جس کی مدت دو سال تک یا جرمانہ یا دونوں ایک ساتھ ہوسکتی ہے۔ ترمیم جسے سیکشن اے 500 کہا جائے گا، میں کہا گیا کہ مسلح افواج کی جان بوجھ کر تضحیک کی سزا: جو بھی جان بوجھ کر طنز کرتا ہے، پاکستان کی مسلح افواج یا اس کے ممبر کو بدنام کرتا ہے وہ جرم کا مرتکب ہوگا۔ترمیم میں مزید کہا گیا کہ مرتکب افراد کو دو سال قید کی سزا، 5 لاکھ روپے تک کا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔ بل کی منظوری سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے قانون ساز آغا رفیع اللہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قانون ساز مریم اورنگزیب نے سخت مخالفت کی لیکن کمیٹی کے چیئرمین نے 4 کے مقابلے میں 5 ووٹوں پر بل کو منظور کرلیا۔ ترمیمی بل سے متعلق کمیٹی کے سامنے وزارت داخلہ کا ایک ورکنگ پیپر پیش کیا گیا کہ یہ قانون 21 ستمبر 2020 کو وزارت داخلہ کے کونسل سیکشن سے موصول ہوا تھا اور اسی دن جنرل ہیڈ کوارٹر، اسلام آباد کیپیٹل، علاقائی انتظامیہ، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کو اپنے اپنے خیالات کے اظہار کے لیے ارسال کردیا گیا۔