ظلم بڑھ گیا،میں تودوست تھا،دشمن نہ بنائیں:جہانگیرترین

Muhammad Dastagir 07 Apr, 2021 عالمی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ’ناراض‘ رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ شوگر کمیشن انکوائی کے بعد سے خاموش بیٹھا ہوں، ایک سال گزر چکا ہے لیکن ایک لفظ ادا نہیں کیا، میری وفاداری کا ثبوت اور کس کو چاہیے؟ لاہور میں پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی اراکین کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری وفاداری کا امتحان لیا جارہا ہے اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ میری بات کا جواب دیا جائے۔ جہانگیر ترین نے زور دے کر کہا کہ ظلم بڑھتا جارہا ہے، میرے اور میرے بیٹے کے بینک اکاؤنٹ منجمد کردیے گئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ابھی مقدمے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تو بینک اکاؤنٹ کیوں منجمد کیے گئے؟جہانگیر ترین نے کہا کہ ملک کی 80 شوگر ملز میں سے انہیں صرف جہانگیر ترین نظر آیا اور بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے سے کیا فائدہ ہوگا اور یہ کون کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرے سوالات ہیں جس کا جواب چاہیے، ہم تحریک انصاف سے انصاف کا تقاضہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں تو دوست تھا مجھے دشمنی کی طرف کیوں دھکیل رہے ہیں اس لیے مجھے دوست ہی رکھو۔ ایک سوال کے جواب میں جہانگیر ترین نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ سازشی عناصر کو وزیر اعظم عمران خان، مخلص ووٹر اور دیگر رہنما خود بے نقاب کریں۔انہوں نے کہا کہ مجھے الگ کرنے سے تحریک انصاف کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچے گا۔ جہانگیر ترین نے واضح کیا کہ میری تحریک انصاف کے ساتھ راہیں الگ نہیں ہوئی اور ایسا میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں پارٹی میں شامل ہوں اور رہوں گا۔