سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کوخطے کا فائدہ قراردیدیا

Muhammad Dastagir 03 Apr, 2021 عالمی

ریاض: سعودی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات سے مشرق وسطیٰ خطے کے لیے ‘زبردست فائدے’ ہوں گے۔ فرانسیسی خبررساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح کا کوئی بھی معاہدہ اسرائیل-فلسطین امن عمل پر منحصر ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں سے ہونے والے ‘ابراہم معاہدے’ کے تحت 4 عرب ممالک، متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان یہودی ریاست کے ساتھ معمول کے تعلقات پر رضامند ہوچکے ہیں۔تاہم سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی معاہدہ ‘کافی حد تک امن عمل میں پیش رفت پر منحصر ہے’۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹریو میں ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے خیال میں خطے میں اسرائیل کی حیثیت معمول پر لانے سے خطے کو مجموعی طور پر زبردست فائدہ ہوگا’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘یہ معاشی اور سماجی کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی نقطہ نظر سے بھی انتہائی مددگار ہوگا’۔ سعودی عرب بارہا فلسطین کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے معاہدہ ہونے تک اسرائیل کے ساتھ رسمی تعلقات نہ رکھنے کی دہائیوں پالیسی کا اعادہ کرچکا ہے۔