میانمار کی فوج نے 40 بچوں کو بھی ہلاک کردیا

Muhammad Dastagir 02 Apr, 2021 عالمی

ینگون:بچوں کے حقوق کی تنظیم 'سیو دا چلڈرن' نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ میانمار کی فوج نے منتخب حکومت پر قبضے کے بعد کشیدگی کے دوران مبینہ طور پر 40 سے زائد بچوں کو بھی ہلاک کردیا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق تنظیم کا کہنا تھا کہ میانمار کی صورت حال دگرگوں ہے جہاں 6 سالہ بچہ بھی فوج کی فائرنگ کی زد میں آچکا ہے۔مقامی تنظیموں کے مطابق میانمار میں اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 536 سے زائد ہوچکی ہے۔دوسری جانب گرفتار رہنما آنگ سان سوچی پر میانمار کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا بھی مقدمہ کردیا گیا ہے۔ قبل ازیں آنگ سان سوچی اور دیگر 4 رہنماؤں کے خلاف گزشتہ ہفتے مقدمات قائم کیے گئے تھے، جن کے تحت انہیں 14 سال قید کی سزا ہوگی تاہم نئے مقدمات مزید اضافہ ہیں۔ تازہ الزامات میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس انتخابات کے دوران کووڈ-19 کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی گئی، غیر قانونی واکی ٹاکی کا استعمال کیا اور ایسی معلومات شائع کیں جو خوف و ہراس پھیلانے کا باعث بن سکتی ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ مسلح فورسز سڑکوں پر اندھادھند فائرنگ کرتی ہیں اور کئی افراد اپنے گھروں میں ہی نشانہ بن چکے ہیں۔