پاکستان،بھارت میں تعلقات بہتری کیلئے امارات کا خفیہ روڈمیپ

Muhammad Dastagir 23 Mar, 2021 عالمی

بین الاقوامی جریدے بلوم برگ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین سرحدوں پر فائر بندی میں ثالثی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات بہتر کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات ایک خفیہ روڈ میپ پر کام کررہا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق گزشتہ مہینے دونوں افواج کی جانب سے 2003 کے جنگ معاہدے پر عمل درآمد کے اچانک سامنے آنے والے مشترکہ اعلان نے سب کو حیران کردیا اور اس کے چوبیس گھنٹے کے بعد امارات کے وزیر خارجہ نے دہلی کا دورہ کیا۔ رپورٹ میں ان رابطوں سے آگاہ سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک میں فائر بندی کے لیے متحدہ عرب امارات نے ایک ماہ سے درپردہ کوششیں شروع کردی تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افواج کی جانب سے فائر بندی کا معاہدہ دونوں ممالک کے مابین دیرپا امن کے قیام کے روڈ میپ کا آغاز ہے۔ جریدے کے مطابق دونوں ممالک کے مابین بہتر تعلقات کے لیے اگلا مرحلہ سفیروں کی واپس بھیجنے کا اقدام ہوسکتا ہے۔ خیال رہے کہ 2019 میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کے بعد دونوں ممالک نے اپنے سفیر واپس بلا لیے تھے۔ سفارتی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے خلاف پائے جانے والے جذباتی ماحول ہے جس میں سفیروں کو واپس بھیجنے سے بڑھ کر کسی کام یابی کی فی الحال توقع نہیں کی جاسکتی۔ جریدے کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کرنے کی یہ حالیہ کوشش ماضی کے مقابلے میں اس لیے مختلف ہے کہ امریکا میں صدر بائیڈن کی حکومت افغانستان میں وسیع پیمانے پر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر کرنا چاہتی ہے کیوں کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کے ساتھ افغانستان میں بھی اپنا رسوخ بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور افغانستان میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دونوں کے تعلقات میں بہتری ضروری ہے۔ دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم مودی معاشی ترقی اور چین سے ملحقہ سرحد پر اپنی فوجی طاقت کو پوری طرح متوجہ کرنا چاہتے ہیں جب کہ پاکستان اپنے مشکل معاشی حالات کے باعث امریکا سمیت دیگر عالمی قوتوں سے بہتر تعلقات کی تگ و دو کررہا ہے۔ جریدے کا کہنا ہے کہ حال ہی میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے ’ماضی کو دفنا کر آگے بڑھنے‘‘ کے بیان اور مودی کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے کورونا سے متاثر ہونے کے بعد نیک خواہشات کے اظہار کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔