الیکشن کمیشن کے بیان نے پنجاب حکومت کی پوزیشن کمزور کی: سپیشل کمیٹی

Muhammad Dastagir 17 Mar, 2021 عالمی

لاہور :وزیراعلیٰ پنجاب کی سپیشل کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت سینئر وزیر پنجاب عبدالعلیم خان نے کی جبکہ وزیر قانون راجہ بشارت، میاں محمود الرشید، چوہدری ظہیرالدین سمیت آٹھ دیگر وزراء نے بھی شرکت کی۔سیکریٹری لوکل گورنمنٹ نور الامین مینگل نے اجلاس میں گزشتہ روز سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت پر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن نے یہ بیان دیا کہ پنجاب حکومت نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ء میں ترامیم کرنے سے پہلے اسے آگاہ نہیں کیا۔سپیشل کمیٹی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا یہ بیان کہ اسے پہلے آگاہ نہیں کیا گیا حقائق کے برعکس ہے۔حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کمشن کے پاس حکومت پنجاب کی طرف سے پنجاب کے وزیر قانون، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ دو بار پیش ہوئے اور واضح طور پر بتایا کہ حکومت پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ء میں ترامیم لانا چاہتی ہے۔ سپیشل کمیٹی نے مزید کہا کہ اس امر کا اعتراف الیکشن کمیشن نے اپنے جاری کردہ ان میٹنگز کے جاری کردہ منٹس میں بھی کیا ہے۔جن میں الیکشن کمیشن نے تسلیم کیا ہے کہ حکومت پنجاب کے نمائندوں کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ ہم ایکٹ میں ترامیم لانا چاہتے ہیں۔ سپیشل کمیٹی نے کہا کہ الیکشن کمشن کے جاری کردہ منٹس آف میٹنگز ازخود سپریم کورٹ میں اس کے بیان کی نفی ہے۔سپیشل کمیٹی نے یہ امر قابل تشویش قراردیا کہ سپریم کورٹ کیس میں حقائق کے منافی بیان دے کر اس معاملے پر حکومت پنجاب کی پوزیشن کمزور کی گئی ہے۔اگرالیکشن کمشن کی جانب سے سپریم کورٹ کے سامنے حقائق درست انداز میں پیش کئے جاتے تو یقینی طور پر عدالت عظمی حکومت پنجاب کے متعلق وہ ریمارکس نہ دیتی جو گزشتہ سماعت میں دیے گئے۔