عوام خبردار!آئی ایم ایف قسط کیلئے2سخت فیصلے تیار

Muhammad Dastagir 11 Mar, 2021 عالمی

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف سے 500ملین ڈالر کی قسط حاصل کرنے کیلئے دو سخت فیصلے کرنے کی تیاری کرلی ۔سینئرصحافی وتجزیہ نگارسہیل اقبال بھٹی کی تہلکہ خیزرپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط پرسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قانون میں 50سے زائد ترامیم اورمختلف شعبوں کو 100ارب روپے سے زائد حاصل انکم ٹیکس چھوٹ ختم کی جارہی ہے۔ ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 700ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جانے کا بھی امکان ہے۔ وزارت خزانہ نے بجٹ خسارے کیلئے سٹیٹ بینک سے نئے کرنسی نوٹ چھپوانے کا اختیارختم جبکہ بیوروکریٹس یا سرکاری افسر کو گورنریا ڈپٹی گورنر تعینات کرنے پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔ سٹیٹ بینک ترمیمی ایکٹ اور منی بل کی رواں ماہ کے دوران پارلیمنٹ سے منظور ناگزیر قراردی گئی ہے۔وفاقی کابینہ کی جانب سے آج حتمی منظوری ملنے کا امکان ہے۔موصول دستاویز اور حکومتی ذرائع کے مطابق نئے قانون کے تحت وفاقی حکومت پر بجٹ خسارے کے پیش نظرسٹیٹ بینک سے نئے کرنسی نوٹ چھپوانے کا اختیارختم کردیا جائے گا۔ بیوروکریٹس یاکسی بھی سرکاری افسر کو گورنریا ڈپٹی گورنرسٹیٹ بینک آف پاکستان تعینات کرنے پر پابندی ہوگی۔ ایسا کوئی بھی شخص گورنر،ڈپٹی گورنر،ڈائریکٹر یا ممبر بننے کا اہل نہیں ہو گا جو کہ پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کا ممبر ہو،کسی ایسے حکومتی ادارے میں ملازم ہو جہاں سے تنخواہ عوامی فنڈ سے ادا کی جاتی ہو، کسی بنک کا شیئرہولڈر ہو یاکسی سیاسی جماعت سے وابستگی ہو۔سٹیٹ بنک آف پاکستان وفاقی حکومت،،صوبائی حکومت،حکومتی ادارو ں کی جانب سے کسی بھی قرض،ایڈونس اور سرمایہ کاری کی گارنٹی نہیں دے گا۔ بینک کے انتطامی اور پالیسی سے متعلق معاملات کیلئے 8رکنی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے علاوہ آئی ایم ایف کی طرز پر ایگزیکٹو بورڈ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ ایگزیکٹو بورڈ کی ذمہ داریوں میں ایکسچینج ریٹ پالیسی،ریگولیٹری فریم ورک کو وضع کرنا شامل ہو گا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان ترمیمی ایکٹ2020کے نافذ ہوتے وقت بینک پرواجب الاد قرضوں،جن میں پرائمری مارکیٹ سے خریدی گئی ایڈوانس،حکومتی سکیورٹیز شامل ہیں انہی شرائط و ضوابط کے ساتھ ریٹائرڈ ہو جائیں گی جن کے تحت ان میں توسیع کی گئی تھی۔ سٹیٹ بینک کا اتھارائیزڈ کیپیٹل 10کروڑ روپے سے بڑھا کر 500ارب روپے مقرر ہو گاجس کو 100روپے کے 5ارب حصص میں تقسیم کیا جائے گا۔بورڈ آف ڈائریکٹرز کی قرارداد کے ذریعے اتھارائیزڈ کیپیٹل کو مزید بھی بڑھایا جاسکے گا بشرطیکہ وفاقی حکومت کی رضامندی مل جائے ۔سٹیٹ بینک کا پیڈ اپ کیپیٹل 100ارب روپے ہوگاجس کو100روپے کے 1ارب حصص میں تقسیم کیا جائے گا۔کیپٹل مکمل طور پر پیڈ اپ ہوگا ۔ پیڈ اپ کیپیٹل کسی فرد یا ادارے کو کسی صورت منتقل نہیں کیا جائے گا۔حصص کو بونس شیئر ز جاری کرکے حاصل کیا جائے گا۔ نئے قانون کے تحت بینک وفاقی حکومت،صوبائی حکومت،حکومتی ادارو ں کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹیز پرائمری مارکیٹ سے نہیں خرید سکے گا۔سیکنڈری مارکیٹ سے سکیورٹیز خریدنے کی اجازت ہو گی۔ ڈپٹی گورنر سٹیٹ بنک کو بھی بورڈ اجلاس میں ووٹ کے اختیار کے بغیرشرکت کی راہ ہموارکرلی گئی ہے۔ حیران کن طور پر وزارت خزانہ نے سٹیٹ بنک آف پاکستان کے ماتحت رورل کریڈٹ فنڈ،انڈسٹریل کریڈٹ فنڈ،لون گارنٹی فنڈ اور ایکسپورٹ کریڈٹ فنڈ ختم کرنے کی سفارش کردی ہے۔ ان فنڈز کے ذریعے طویل اور درمیانی مدت کے قرض دیے جاتے تھے۔ سیکشن9Cکے تحت بینک براہ راست کریڈٹ،یا وفاقی حکومت،صوبائی حکومت،حکومتی اداروں یا کسی بھی ادارے کی ذمہ داریوں کی گارنٹی نہیں دے گا۔65سال سے زائد عمر کا شخص گورنر اور ڈپٹی گورنر کا عہدہ سنبھالنے کا اہل نہیں ہو گا۔سیکشن10Aکے تحت بھرتی ہونے والا شخص کسی تجاری،مالی،زرعی یا صنعتی ادارے کی نمائندگی اور ان سے ہدایات نہیں لے گا۔کسی بھی قسم کا ذاتی،تجارتی،مالی،زرعی مفاد سے متعلق بورڈ کو آگاہ کیا جائے گا۔خاندان کے افراد کے حوالے سے بھی آگاہ کرنے کا پابند ہو گا۔مالیاتی پالیسی کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر عملدر آمد کرنا،ایکسچینج ریٹ پالیسی وضع کرکے اس پر عملدر آمد،بینک کے مقاصد سے متعلق ریسرچ کی تیاری اور اس کو پھیلانا،پاکستان کے تمام بین الاقوامی ذخائر کا انتظام سنبھالنا،ادائیگیوں کے نظام کو چلانے کے ساتھ ساتھ اس کی نگرانی کرنابینک کی ذمہ داریوں میں شامل ہو گا۔