پنجاب میں پی ٹی آئی کمزورہو گئی،جہانگیرترین نے پردہ اٹھٓادیا

Muhammad Dastagir 08 Mar, 2021 عالمی

رحیم یارخان(نعیم بشیرچوہدری سے)تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین نے کہا ہے کہ پاکستان صدارتی نظام کا متحمل نہیں ہو سکتااور اگر پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے فیڈریشن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔گزشتہ روز ایم پی اے چوہدری آصف مجید کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں پی ٹی آئی کی ناقص حکمت عملی کے باعث انہیں شکست ہوئی ہے کیونکہ یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں پی ٹی آئی کی جانب سے ایک انتہائی کمزور امیدوار کے باعث پی ٹی آئی کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے جس کا انہیں دکھ ہے‘ وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے تھا کہ وہ حفیظ شیخ کو خیبرپختونخوا سے سینیٹر منتخب کروا لیتے۔انہوں نے کہا کہ انکا پی ڈی ایم کی قیادت سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور نہ ہی سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں انکا کوئی کردار ہے کیونکہ وہ اب مکمل طور پر غیر سیاسی ہو چکے تاہم مستقبل میں انکے سیاسی کردار کا فیصلہ وقت کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اس وقت پی ٹی آئی کی کوئی موثر قیادت نہیں ہے جس کے باعث پنجاب میں پی ٹی آئی اس وقت بہت کمزور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملتان کے جو سیاست دان پی ٹی آئی میں انکے مو ثر کردار سے ہمیشہ نالاں رہتے تھے انہیں چاہیے تھا کہ انکی غیر موجودگی میں وہ اب پنجاب میں پی ٹی آئی کو فعال کرتے لیکن افسوس کہ انکا پی ٹی آئی میں اب کوئی کردار نظر نہیں آ رہا۔انہوں نے کہاکہ چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں پی ڈی ایم کو تین ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے اور پی ٹی آئی کو چیئرمین سینٹ کا انتخاب جیتنے کے لئے سخت محنت کرنا ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ نجی شعبے پر گندم خریداری پر پابندی عائد کرنے کی بجائے گندم کی اسمگلنگ پر قابو پائیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ حکومتوں کو چاہیے کہ اپنے گندم خریداری اہداف پورے کرنے کی بجائے گندم درآمد کریں اور نجی شعبے جن میں خاص طور پر فلور ملز اور سیڈ کمپنیاں شامل ہیں انہیں گندم خریداری کی مکمل اجازت دیں تاکہ پاکستان میں صنعتی پہیہ مکمل طور پر فعال ہو سکے۔ اس موقع پر ایم پی اے چوہدری محمد شفیق‘عبداروف مختار‘چوہدری محمد اکرام‘چوہدری جاوید ارشاد‘چوہدری سجاد احمد وڑائچ‘ چوہدری آصف رشید‘چوہدری محمد اشرف‘چوہدری ظہور احمد گجر اور چوہدری فیضان آصف بھی موجود تھے۔