خواجہ فرید یونیورسٹی کوتمام سہولیات فراہم کرنے کاعزم

Muhammad Dastagir 13 Apr, 2021 تعلیم

رحیم یار خان (نعیم بشیر چوہدری سے) خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈانفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یار خان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزرا‘ ممبرز پارلیمنٹ اور عوامی نمائندگان نے کہا ہے کہ وہ جدید تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق یونیورسٹی کو ہر طرح کی سہولت فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے وائس چانسلر خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر نے کہا کہ محض ایک سال کے عرصہ میں خواجہ فرید یونیورسٹی کی عالمی رینکنگ اور ملکی رینکنگ میں چالیس فیصد بہتری آئی ہے‘ خواجہ فرید یونیورسٹی مختلف سیمینارز‘ کانفرنسز سے عالمی سطح پرعلاقائی اور ملک کا نام روشن کررہی ہے۔ تقریب میں سابق وفاقی وزیر چودھری ظفر اقبال وڑائچ‘ ایم پی اے میاں شفیع محمد‘ ایم پی اے چودھری مسعود احمد‘ رانا جاویداحمد‘گلزار احمد‘ طالوت سلیم باجوہ‘ حسنین ظفر وڑائچ‘ فاروق وڑائچ‘ چودھری اعظم شبیر اور مس صائمہ طارق موجود تھے۔وائس چانسلر نے کہا کہ پبلک پارٹنر شپ کے ذریعے خواجہ فرید یونیورسٹی بہت سارے ایسے پروجیکٹس کا آغاز کرسکتی ہے جس سے نہ صرف تعلیم کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ ہم خود سرمایہ پیدا کررہے ہونگے‘ اس لئے کارباری حضرات کو بزنس پروپوزل دینا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک نے ہمیشہ نالج اکانومی پر فوکس کیا اس لئے رحیم یار خان خصوصا خواجہ فرید یونیورسٹی میں ٹیکنالوجی پارک کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ماں چاہتی ہے کہ اس کا بچہ اس کے پاس رہے‘ جب خواجہ فرید یونیورسٹی ہر طرح کی سہولت سے لیس ہوگی تو ہمیں اپنے بچے لاہور یا دیگر شہروں میں بھیجنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ پروفیسر سلیمان طاہر نے مزید کہا کہ ہمیں یونیورسٹی میں سوئمنگ پول‘ جدید لیبس‘ سپورٹس گراونڈ‘ ایف ایم ریڈیو اور دیگر سہولیات درکار ہیں جن کے لئے حکومتی سرپرستی وقت کی اہم ضرورت ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چودھری ظفر اقبال وڑائچ نے کہا کہ خواجہ فرید یونیورسٹی رحیم یار خان کے مستقبل کی ضامن ہے اس لئے ہر سیاستدان‘ وزیر اور دوسرے سٹیک ہولڈر ز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں یونیورسٹی کا رقبہ جنوبی پنجاب کی دیگر یونیورسٹیز جتناہو نا ضروری ہے کیونکہ مستقبل میں جب آبادکاری بڑھے گی تب زیادہ زمین حاصل کرنا مشکل ہوگا اس لئے یونیورسٹی کے سامنے والی زمین پر صنعت کی بجائے یونیورسٹی کو دی جانی چاہئے۔ میاں شفیع محمد نے کہا کہ خواجہ فرید یونیورسٹی کو وائس چانسلر پروفیسر سلیمان طاہر نے ایسی درسگاہ میں ڈھال دیا ہے کہ اب وہ اپنے بچوں کو لاہور کی بجائے اس جامع میں پڑھائیں گے۔ چودھری مسعود احمد نے کہا کہ حکومت وقت کو اس پہلو کی طرف دھیان دینا ہوگا کیونکہ جدید سہولیات کی فراہمی سے ہی طلبہ و طالبات کو بہتر اعلیٰ تعلیم میسر آسکے گی۔ رانا جاوید احمد اور گلزار احمد نے اپنے تمام تر تعاون کی پیشکش کی جبکہ طالوت سلیم باجوہ نے وائس چانسلر کو اسی انداز میں علاقائی اور ملکی خدمت کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ فاروق وڑائچ کا کہنا تھا کہ وہ حکومتی اور دیگر پلیٹ فارمز سے خواجہ فرید یونیورسٹی کو جدید لیبز اور دیگر سہولیات سے آراستہ کریں گے۔ چودھری اعظم شبیر نے کہا کہ چیمبر آف کامرس کے دروازے خواجہ فرید یونیورسٹی کے لئے ہر دم کھلے ہیں۔ صائمہ طارق نے وائس چانسلر کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہ جب انہیں اپنے بچوں کا روشن مستقبل خواجہ فرید یونیورسٹی میں نظر آئے گا تو وہ اپنے بچوں کو لاہور کیوں بھیجیں گی۔