کپاس کی پیداوارمیں کمی، جننگ فیکٹریوں میں 56لاکھ 37ہزار749گانٹھ لا ئی گئی

Muhammad Dastagir 03 Mar, 2021 زراعت

ملتان(نمائندہ اردونیوز)پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے)نے کپاس کی فیکٹریوں میں آمد کے اعدادو شمار جاری کر دیئے ہیں جسکے مطابق یکم مارچ 2021ء تک ملک کی جننگ فیکٹریوں میں 56لاکھ 37ہزار749گانٹھ کپاس آئی۔ یکم مارچ2020ء تک 85 لاکھ65ہزار376گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی تھی۔گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 29لاکھ27ہزار627گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں کم آئی ہے۔ کمی کی شرح 34.18فیصد رہی۔ صوبہ پنجاب کی فیکٹریوں میں 35لاکھ1ہزار580گانٹھ کپاس آئی ہے جو گذشتہ سال کی اسی مدت میں فیکٹریوں میں آنے والی فصل50 لاکھ91ہزار397گانٹھ کپاس سے 15لاکھ89ہزار817گانٹھ کم ہے۔ پنجاب میں کمی کی شرح31.23 فیصد رہی۔صوبہ سندھ کی فیکٹریوں میں 21لاکھ36ہزار169گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی ہے جبکہ گذشتہ سال34لاکھ 73ہزار979گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی تھی۔صوبہ سندھ میں کمی کی شرح 38.51فیصد رہی۔ یکم مارچ2021ء تک فیکٹریوں میں آنے والی کپاس سے56لاکھ 31ہزار191گانٹھ روئی تیار کی گئی۔ ملک میں 22جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہیں۔ ایکسپورٹرز نے رواں سیزن میں 70ہزار200گانٹھ روئی خرید کی ہے جبکہ ٹیکسٹائل سیکٹرنے 53 لاکھ75ہزار941گانٹھ روئی خرید کی ہے۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے کاٹن سیزن 2020-21میں خریداری نہیں کی ہے۔ صوبہ پنجاب میں 22جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہیں او ر34لاکھ 95ہزار022گانٹھ روئی تیار کی گئی ہے۔ ضلع ملتان میں یکم مارچ2021ء تک83ہزار156گانٹھ کپاس،ضلع لودھراں میں 40ہزار375گانٹھ کپاس، ضلع خانیوال میں 2لاکھ 32ہزار 146گانٹھ کپاس، ضلع مظفر گڑھ میں 92ہزار616گانٹھ کپاس،ضلع ڈیرہ غازی خان میں 3لاکھ25ہزار300گانٹھ کپاس، ضلع راجن پور میں 88ہزار615گانٹھ کپاس، ضلع لیہ میں 1لاکھ069گانٹھ کپاس،ضلع وہاڑی میں 1لاکھ15ہزار361گانٹھ کپاس، ضلع ساہیوال میں 1 لاکھ81ہزار970گانٹھ کپاس، ضلع رحیم یار خان میں 6لاکھ56ہزار885گانٹھ کپاس، ضلع بہاولپور میں 4لاکھ3ہزار602گانٹھ کپاس، ضلع بہاولنگر میں 9لاکھ98ہزار131گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی ہے۔ضلع سانگھڑمیں 7لاکھ91ہزار278گانٹھ کپاس، ضلع میر پور خاص میں 29ہزار695گانٹھ کپاس، ضلع نواب شاہ میں 63ہزار781گانٹھ کپاس، ضلع نو شہرو فیروز میں 1لاکھ93ہزار831گانٹھ کپاس، ضلع خیر پور میں 2لاکھ18ہزار069گانٹھ کپاس، ضلع سکھر میں 3لاکھ63 ہزار945گانٹھ کپاس، ضلع جام شورومیں 40 ہزار800گانٹھ کپاس، ضلع بلوچستان میں 67ہزار 200 گانٹھ کپاس اور ضلع حیدرآباد میں 1لاکھ5ہزار475گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی ہے۔ غیر فروخت شدہ سٹاک1لاکھ91ہزار608گانٹھ کپاس اور روئی موجود ہے۔