<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Urdu Article</title>
	<atom:link href="http://urduwebnews.com/article/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://urduwebnews.com/article</link>
	<description>The Online News Network</description>
	<lastBuildDate>Mon, 20 May 2013 14:47:09 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.5.1</generator>
		<item>
		<title>خالد مجاہد کا قتل: ہندوستانی مسلمانوں کی بے وقعتی کا منہ بولتا ثبوت“کالم“ عابد انور</title>
		<link>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1162/</link>
		<comments>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1162/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 20 May 2013 14:47:09 +0000</pubDate>
		<dc:creator>afkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Abid Anwer]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urduwebnews.com/article/?p=4723</guid>
		<description><![CDATA[ہندوستان میں مسلمانوں کے بارے میں کوئی اچھی خبر سننے کے لئے کان ترس جاتے ہیںاس کے برعکس بری خبر ہر لمحہ سماعت سے ٹکرانے کیلئے تیاررہتی ہے اور یہیں سے انسان کا مزاج بنتا ہے۔ برادران وطن ہی نہیں &#8230; <a href="http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1162/">Continue reading <span class="meta-nav">&#8594;</span></a>]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/abid-anwar-pic.jpg"><img src="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/abid-anwar-pic.jpg" alt="abid-anwar-pic" width="150" height="168" class="aligncenter size-full wp-image-4724" /></a></p>
<p>	ہندوستان میں مسلمانوں کے بارے میں کوئی اچھی خبر سننے کے لئے کان ترس جاتے ہیںاس کے برعکس بری خبر ہر لمحہ سماعت سے ٹکرانے کیلئے تیاررہتی ہے اور یہیں سے انسان کا مزاج بنتا ہے۔ برادران وطن ہی نہیں بہت سارے مسلم صحافیوں، دانشوروں، پروفیسروں، سیاست دانوں اور ماہر عمرانیات ( خصوصاً انگریزی میں پڑھنے لکھنے والے)کی شکایت رہتی ہے کہ مسلمان یا اردو اخبارات منفی خبروں(سچ بات) کو زیادہ جگہ دیتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کا قتل ہوجائے تو آپ کہیے کوئی بات نہیں معاشرے میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں جیل میں سڑایا جائے تو آپ ظلم و زیادتی کی شکایت کرنے کے بجائے حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کا اس بات کے لئے شکریہ ادا کیجئے کہ انہوں نے آپ کو نہیں پکڑا۔ آپ کے وقف املاک پر اگر قبضہ ہوجائے تو یہ کہیے دہلی کی جامع مسجد پر تو قبضہ نہیں کیا۔مسلمانوں کے لئے مخصوص حکومت کی اسکیم کو دوسرے کھاتوں میں ڈال کر ۔خرچ کردیا جائے تو یہ کہیے کہ یہ بھی تو ہندوستانی ہی تھے ۔<br />
<span id="more-4723"></span><br />
 مسلمانوں کی تعلیمی اداروں کو تباہ وبرباد کردیا جائے تو آپ یہ کہیے کہ سب کو تو برباد نہیں کیا۔ فسادات میں منظم منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کی تجارت ، ان کے کاروباراور جان کا بڑے پیمانے پر اتلاف کردیا جائے تو آپ کہیے کہ فسادیوں نے سب کو تو نہیں مارا اور اس کے لئے آپ فسادیوں کا شکریہ ادا کریں۔ غرض کہ آپ شکایت نہیں حکومت، میڈیا، مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کی شان میں ہمیشہ رطب اللسان رہیں تو آپ سیکولراور سچے ہندوستانی ہیں ۔ اگر آپ نے حق اور سچ بات کہہ دی تو آپ کی حب الوطنی مشتبہ ہوجائے گی اور آپ پر منفی سوچ رکھنے کا ٹھپہ لگ جائے گا۔ یہ باتیں اکثر کہی جاتی ہیں۔ ایک طرف اردو کے اخبارات کو اور دوسری طرف ہندی اور انگریزی کے اخبارات کو دیکھیں تو ہندی اور انگریزی اخبارات میں مسلمانوں کی مجرمانہ سرگرمیوں کی خبر تو ہوگی لیکن ان پر حکومت، خفیہ ایجنسیاں ، سیاسی پارٹیاں اور دیگر کے ڈھائے گئے مظالم کی خبریں نہیں ہوں گی کیوں کہ برادران وطن کی یہ پختہ سوچ ہے کہ (صرف کچھ کو چھوڑ کر)مسلمانوں پر ڈھائے گئے مظالم کے بارے میں باتیں کرنا ملک کی شان اور وقار کے خلاف بات کرنے کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے سے بڑے واقعات کو کسی بھی پلیٹ فارم پر جگہ نہیں ملتی جیسا کہ خالد مجاہد کے معاملے کو جگہ نہیں ملی۔ سربجیت کے معاملے میں پورے ہندوستان کو جنگ کے دہانے پر پہنچانے والا میڈیاخالد مجاہد کے حراستی قتل کے بارے میںبالکل خاموش رہا۔ اردو اخبارات میں ہی اہم جگہ پر اسَخبر کو شائع کی گئی ہے ۔ انگریزی، ہندی اخبارات نے اہمیت کے ساتھ شائع نہیں کی۔ چھوٹی سے چھوٹی چیزیں، سانپ بچھو اور دیگر دیومالائی چیزوں کو گھنٹوں نشر کرنے والا ہندی نیوز چینل کو تو سانپ ہی سونگھ گیا۔ کسی نیوز چینل نے اسے پرائم ٹائم میں جگہ نہیں دی اور نہ ہی اس پر مذاکرہ کرایا۔ سرب جیت کے معاملے میں رات دن ٹی وی چینلوں پر چلنے والی خبروں اور مباحثوں کے برعکس خالد مجاہد کے معاملے نے یہِثابت کردیا ہے کہ ہندی نیوز چینلوں کے پاس نہ وقار ہے، نہ انسانیت ہے اور نہ ہی وہ کسی صحافتی اصول کا پابند ہے۔ اگر پابند ہے تو صرف اور صرف’ ہندوتو کی پالیسی‘ کا جس میں مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔<br />
	خالد مجاہد کے ساتھ وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ یہ اس ذہنیت کا نتیجہ ہے جس کی سوچ یہ ہے کہ پکڑے گئے مسلمانوں کو کھانا کھلاکر اناج کو برباد کرنا ہے جہاں پکڑو وہیں مار دو۔ یہ سوچ جاہلوں کی نہیں بلکہ پڑھے لکھے، قانون داں اور دانشوروں کی ہے اور یہ لوگ ہمیشہ ہی ماورائے عدالت مسلمانوں کے قتل کے حامی رہے ہیں۔ اس طرح کے جملے ٹی وی شو کے مباحثوں اور مذاکروں میں ہندوستان کے وکلاء، دفاعی ماہرین، اینکرس، سیاست داں اور صحافی بارہا دہراتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی سوچ یہاں کی پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی بھی ہے۔ جو ایک بار پکڑا جائے اسے مار ڈالا جائے کیوں کہ جب تک زندہ رہے گا حقیقت عیاں ہوتی رہے گی اور خفیہ ایجنسیوں کے سیاہ کارنامے دنیا کے سامنے آتے رہیں گے اس لئے قتل کرنا ان کے سامنے بہترین متبادل ہوتا ہے۔ ان قاتلوں کو یہ یقین ہوتا ہے کہ قتل کرنے کے بعد ان سے نہ باز پرس ہوگی اور نہ ہی انہیں سزا ملے گی ۔ آزادی کے بعد اب تک سیکڑوں مسلم نوجوانوں کو حراست میں یہ لوگ قتل کرچکے ہیں اور اب تک ان میں سے کسی کا بال باکا تک نہیں ہوا ہے اس لئے خوف کی کوئی بات نہیں ۔قتیل صدیقی، خواجہ یونس اور حال ہی میں جاوید علی کو قتل کیا گیا لیکن سزا دینا تو دور کی ان لوگوں کی شناخت تک نہیں ہوئی البتہ خواجہ یونس کے معاملے میں کچھ پولیس اہلکاروں کی شناخت کی گئی لیکن کسی کو سزا نہیں ملی ۔ خالد مجاہد کو بھی قتل کرنے کے پس پشت یہی ذہنیت کارفرما ہے۔ پاکستان کی کوٹ لکھپت جیل میں سربجیت کے قتل کے بعدپہلے ثناء اللہ اور پھر جاوید علی اور اب خالد مجاہد کو قتل کیا گیا ہے۔ پولیس نے پہلے لو لگنے سے موت ہونے کی تھیوری پیش کی پھر حرکت قلب بند ہونے کی تھیوری پیش کی۔ خالد مجاہد کے وکیل نے فیض آباد کی عدالت میں اسے ٹھیک ٹھاک دیکھا تھااور وہ اپنے لباس کرتا پائجامہ میں ہی تھا لیکن جب اسے اسپتال پہنچایا گیا تو ٹی شرٹ میں تھا۔ یہ کیسے ہوا۔ اس کے جسم اور گلے پر تازہ خم کے نشان تھے ۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے اترپردیش پولیس نے اذیت دے کر قتل کیا ہے۔ کیا ایسا بھی ہوسکتاہے کہ لو لگے یا حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے جسم پر زخم کے نشان پیدا ہوجائے؟ اگر ایسا ہے تو یقینا ہندوستانی پولیس کا ایک اہم کارنامہ ہوگا اور یوپی پولیس یقینا بڑے انعام کا حقدار ہوگی۔ خالد کے فیض آباد میں وکیل جمال نے بتایا کہ سنیچر کی دوپہر دو بجے سے چار بجے تک خالد دیگر تین ملزمان کے ساتھ کورٹ میں تھے۔خالد کے لکھنو کے وکیل رندھیر سنگھ سمن نے اسے قتل قرار دیا ہے۔<br />
	پولیس کے قتل کرنے کی وجہ بھی موجود ہے کیوں کہ خالد کو نمیشن کمیشین نے بے گناہ قرار دیا ہے اور ان کے خلاف کیس بنانے والے پولیس اہلکار وں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی ہے۔ 23 نومبر 2007 کو اتر پردیش کے تین شہروں لکھنو، فیض آباد اور وارانسی میں 25 منٹ کے اندر اندر سلسلہ وار دھماکے ہوئے تھے ان دھماکوں میں 18 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوئے۔اتر پردیش میں ہونے والے ان دھماکوں سے دہلی تک دہل گئی۔ان دھماکوں کے الزام میں طارق قاسمی( 12 دسمبر 2007)کو اعظم گڈھ سے اور خالد مجاہد( 16 دسمبر 2007) کوجونپور سے اترپردیش کی ایس ٹی ایف نے دونوں کا اغوا کیا تھا۔ جس کی گرفتاری بارہ بنکی سے دکھائی گئی تھی۔ 14 دسمبر 2007 کو ڈاکٹر طارق کے اہل خانہ نے مقامی تھانے رانی سرائے میں گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی تھی ۔ اس کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا گیا ۔ 14 مارچ 2008 کو اتر پردیش کے اس وقت کے ڈی جی پی وکرم سنگھ نے چیف سکریٹری اترپردیش حکومت کو خط لکھ کر عدالتی تحقیقات کی درخواست کی جس کے بعد اسی دن اترپردیش حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر کے ریٹائرڈ جج آر ڈی برمن نمیش کمیشن تشکیل دی۔یہ ایک رکنی کمیشن کو 6 ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ نمیش کمیشن نے تمام واقعات اور حقائق کی جانچ کی اور 31 اگست 2012 کو جانچ رپورٹ اتر پردیش کی حکومت کو پیش بھی کر دی۔ لیکن کمیشن کی رپورٹ کو اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا۔ اکھلیش یادو حکومت نے اپنے انتخابی منشور میںدہشت گردی کے الزام میں گرفتار مسلم نوجوانوں کی رہائی کا مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا لیکن ملائم سنگھ یادو اور ان کے بیٹے وزیر اعلی اکھلیش یادو اب تک اس رپورٹ کو اسمبلی میں پیش نہیں کرسکے۔ رپورٹ پیش کئے بغیر مسلسل دباِؤ کی وجہ سے حکومت نے ان دونوں نوجوانوں سے تمام مقدمات واپس لینے کا اعلان کردیا اور عدالت میں درخواست بھی دے دی لیکن حشر وہی ہوا جس کا اندازہ ایک ادنی انسان کو بھی تھا۔ عدالت نے یوپی حکومت کی درخواست مسترد کردی۔ کیوں کہ اترپردیش حکومت کی نیت رہا کرنے کی تھی ہی نہیں اس لئے اس نے قانونی طریقہ اختیار نہیں کیا۔ جب تک نمیش کمیشن کی رپورٹ کو ایکشن ٹیکن رپورٹ کے ساتھ اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاتا اس وقت تک اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق خاطی پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی جو اترپردیش حکومت کسی قیمت پر نہیں کرنا چاہ رہی تھی۔ اس لئے خالد مجاہد کو قتل کیاگیا تاکہ پولیس افسران کارروائی سے بچ جائیں۔ پولیس اور اترپردیش ایس ٹی ایف کے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں تھا اور تمام پیش کردہ ثبوت فرضی اور من گھڑت ثابت ہوئے تھے ۔ اترپردیش پولیس اور ایس ٹی ایف نے جوش میں آر ڈی ایکس کی برآمد بھی دکھادی تھی ممبئی بم دھماکے کے علاوہ ہندوستان کے کسی دھماکے میں آر ڈی ایکس کا استعمال نہیں ہوا ہے۔ اس دھماکے تک حکومت کی ایجنسی ہی پہنچ سکتی ہے۔<br />
 	یوپی کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے خالد مجاہد کی موت کی سی بی آئی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے لیکن مسلمانوں کو بہت امید نہیں رکھنی چاہئے۔ پوسٹ مارٹم کرکے لاش لواحقین کے حوالے کردی گئی ہے ۔لاش کے معائنے سے بھی اذیت دینے کا معاملہ سامنا آیا ہے۔ اس کے علاوہ لکھنو ضلع جیل کے سپرنٹنڈنٹ ڈی آر موریہ نے کہا کہ خالد مجاہد بیمار نہیں تھا۔ تو پھر اچانک کیا ہوگا کہ آنا فاناً ان کی موت ہوگئی۔ خالد مجاہد کے اہل خانہ نے بھی کہا کہ پولیس خالد مجاہد کو قتل کردینے کی مسلسل دھمکی دے رہی تھی۔ مسلمانوں حراست میں اور ماورائے عدالت قتل کرنے کی طویل منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں اسی نوعیت کاایک واقعہ پونے کی یروڈا جیل میں پیش آیا ہے جہاں قتیل صدیقی نام کے ایک نوجوان کو بے رحمی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا، یروڈا جیل کی انتہائی سیکورٹی والے انڈا سیل میں ہوئی قتیل صدیقی کی موت نے کئی سوالات جنم دیئے ہیں حالانکہ جیل انتظامیہ نے اسے ساتھی قیدیوں کے ذریعے کیاگیا قتل قراردیا ہے۔ لیکن چہار جانب سے قتیل صدیقی کی موت پر سوالات اٹھ رہے ہیں جن کا جواب ابھی ملنا باقی ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں پایا ہے کہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے 47 اضلاع پر دو سال تک کئے گئے ایک سروے میں پتہ چلا ہے کہ ہندوستان میں ہر سال1.8 ملین افراد پولیس تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں قائم قومی انسانی حقوق کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق روزانہ 43 افراد پولیس زیادتی کے سبب ہلاک ہوجاتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زیر حراست اموات کی سب سے زیادہ شکایات جموں وکشمیر اور ملک کی شمال مشرقی ریاستوں سے موصول ہوئی ہیں جہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے بدامنی کا ماحول برپا ہے۔ رپورٹ میں پولیس کی جانب سے دی جانے والی اذیتوں کی وضاحت کچھ اس طرح کی گئی ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیر حراست افراد کو ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار بنایا جاتا ہے اور بعض اوقات تشدد کی انتہا کی وجہ سے انہیں ہمیشہ کے لئے معذور کردیاجاتا ہے۔ جسم کے نازک مقامات پر بجلی کے شارٹ کا لگایا جانا، جلتے ہوئے اسٹوو کو دونوں پیروں کے درمیان رکھ دینا نیز لوہے کی راڈ سے دونوں پیروں کے درمیان تکلیف دینا پولیس زیادتی کا آزمودہ طریقہ ہے۔ گویا اذیت دینے کے انتہائی خطرناک طریقوں کا استعمال ہماری پولیس کھلے عام کرتی ہے ، لیکن اس طرح کی رپورٹوں کے باوجودپولیس زیادتی کو کنٹرول کرنے کے لئے کوئی موثر اقدام تو درکنار ان واقعات کا کوئی نوٹس تک نہیں لیا جاتا، ان واقعات سے نہ صرف پولیس کی سفاکی اور ظالمانہ کردار کا پتہ چلتا ہے بلکہ ہندوستان میں حقوق انسانی کے تحفظ کی اصل تصویر سامنے آتی ہے۔<br />
	خالد مجاہد کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ابھی نہیں آئی ہے ۔ تفصیلات آنے میں چند دن لگ سکتے ہیں۔جس طرح کے حالات ہیں اس میںسچ بات سامنے آئے اس کی امید بہت کم ہے ۔کیوں کہ داکٹروں پر بہت دباؤ ہوتا ہے اور دباؤ کی وجہ سے ڈاکٹر اذیت رسانی کی موت کو فطری موت یا کسی بیماری ہونے والی موت قرار دے دیتے ہیں۔ یہ بات ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہے ۔ ایشئن ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر سہاس چکما کے مطابق’ان تحویل میں ہونے والی ہلاکتوں کی کوئی تفتیش نہیں کرائی جاتی اور اس قسم کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ڈاکٹر پولیس کے زبردست دباؤ میں رہتے ہیں اور اسی دباؤ میں وہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ لکھ دیتے ہیں کہ مرنے والے شخص کے ساتھ ایذا رسانی نہیں ہوئی ہے۔رپوٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوستان ایذا رسانی سے ہونے والی اموات کو قبول کرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔آج سے کچھ برس قبل حقوق انسانی کے تحفظ کے لئے سرگرم سماجی کارکنان کے مسلسل دباؤ کے بعد مرکزی حکومت نے انسداد تشدد بل تیار کیا تھا جسے لوک سبھا نے پاس بھی کردیا تھا لیکن جب بل کی کمزوریوں کے خلاف سماجی کارکنان نے آواز اٹھائی اسے مسترد کرکے اس بل کو واپس لے لیاگیااور ازسرنو دوسراس بل کوڈرافٹ کیاگیا لیکن یہ نیا بل حکومت کی بدنیتی کی وجہ سے ابھی تک سرد خانے میں پڑا ہے۔ آئے دن ہونے والی حراستی اموات نے ملک کے سنجیدہ شہریوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ حکومتیں اگرحقائق کو نظرانداز کرنے کے رویے پر اسی طرح کاربند رہیں تو ملک کے عوام میں مایوسی اور خوف گھر کرجائے گا۔ یہ صورتحال ایک صحت مند مستقبل کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگی اور موجودہ حالت میں تبدیلی پولیس کی جوابدہی طے کئے بغیر ممکن نہیں ۔اس کے علاوہ ہندی میڈیا کے لئے بھی احتساب کا دن ہے جس طرح سربجیت کے معاملے پر پاکستان کو وحشی ، جلاد اور درندہ گلا پھاڑ پھاڑ کر قرار دے رہے تھے اب وہ اترپردیش پولیس کو کیا کہیں گے؟یکے بعد دیگرے جیل میںاذیت رسانی سے کئی اموات ہوچکی ہیں اور وہ سب مسلمانوں کی ہوئی ہیں تو یہ سمجھاجانا چاہئے کہ ہندوستان کی حکومت مسلمانوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کا منصوبہ بناچکی ہے؟ ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستانی جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 35 فیصد ہے۔کیا یہ اسی سازش کاحصہ ہے کہ پہلے سازش کرکے اسے جیل بھیج دیا جائے اور پھر جیل میں اسے قتل کردیا جائے اوریہ باور کرایا جائے کہ گروپ بندی میں اس کی جان گئی؟</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1162/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>عمران خان کو حراساں کرنے کی ایک کامیاب کوشش اور تبدیلی ڈوب گئی“کالم“ آصف لانگو</title>
		<link>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1161/</link>
		<comments>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1161/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 20 May 2013 14:45:19 +0000</pubDate>
		<dc:creator>afkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Article]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urduwebnews.com/article/?p=4720</guid>
		<description><![CDATA[پاکستان کی تاریخ میں سے 2006ء سے لیکر 2012ء انتہائی اہم برس گزرے ہیں ۔ 2006ء سے 2008ء تک پرویز مشرف نے پاکستان کو تمام عوامی مسائل سے دو چار کر دیا ۔ اسی دوران پرویز مشرف نے لال مسجد، &#8230; <a href="http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1161/">Continue reading <span class="meta-nav">&#8594;</span></a>]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/asif-yasin-lango4.jpg"><img src="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/asif-yasin-lango4-226x300.jpg" alt="asif-yasin-lango" width="226" height="300" class="aligncenter size-medium wp-image-4721" /></a><br />
   پاکستان کی تاریخ میں سے 2006ء سے لیکر 2012ء انتہائی اہم برس گزرے ہیں ۔ 2006ء سے 2008ء تک پرویز مشرف نے پاکستان کو تمام عوامی مسائل سے دو چار کر دیا ۔ اسی دوران پرویز مشرف نے لال مسجد، بگٹی اور بلوچستان آپریشن  اور امریکہ کو ڈرون حملوں کی اجازت نامہ دیکر بہت زیادہ دل گیر کام کیے بعد ازاں بے نظیر بھٹو کی قتل نے بھی زخم پر نمک لگا دی۔عوام نے پی پی پی کے سیاستدانوں پر ترس کھا کر انھیں حکومت نوازنے میں اہم کرداد ادا کیا ۔ پاکستان کے مایہ ناز غنڈہ اور چور آصف علی زرداری پاکستان کو صدر بن گیا ۔ بعد ازاں  پاکستان کے حالات درست ہونے کے بجائے  زیادہ ہی بگڑنے لگے ۔  2006ء سے لیکر 2012ء کے دوران پاکستان کی معتد حلقوں شعور بیدار ہونا شروع ہو گیا  تو نوجوانوں نے دیکھا کہ پاکستان کے موجودہ حالات کے پیچھے امریکہ ، بھارت اور اسرائیل تو ہیں مگرہماری حکومت اور اس کے اتحادی کیا گل کھلا رہے ہیں ؟نوجوان طبقہ کی واضح اکثریت نے پاکستان پیپلز پارٹی سمیت تمام حکومتی اتحادیوں کو سوشل میڈیا و موبائل ایس ایم ایس کے زریعے ایک نئی چہرے کی تلاش شروع کر دی تو سابق کرکٹر عمرا ن خان کی سیاسی و سماجی کیئر یر نے عوام و نوجوان طبقہ کو متاثر کر دیا تو نوجوانوں نے عمران خان کو لانے کا فیصلہ کیا ۔<br />
مینار پاکستان پر تحریک انصاف نے تاریخی جلسہ منعقد کر کے نہ صرف تاریخ رقم کر دی بلکہ تمام سیاسی قلابازوں کی ماضی کی تمام ریکارڈ  توڑ ڈالے اور میڈیا اور سوشل میڈیا کی توجہ کا مر کز بن گیا۔<br />
چھ سے سات لاکھ لوگوں کی تاریخی جلسہ نے پاکستان میں سیاست کو نیا رخ دیا تھا ۔ اسی دوران پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ ق ، پاکستان مسلم لیگ ن ، جمعیت علما ء اسلام و دیگر جماعتوں کے سربراہان و  ان کے آقا مریکہ بھی پریشان ہو گیا تو عمران خان کی کردار میں کوئی ایسی کوتائی نظر نہیں آئی کے نوجوانوں کو مایوس اور کنفیوز کیا جا سکے جس سے عمران خان کی طرف کم متوجہ ہو جائیں۔<br />
     ایک عام رایہ کے مطابق آخر کا ر ماسٹر مائینڈ امریکہ نے انھیں نصیحت کیا کہ عمران خان حراساں کرنے کی کوشش کی  جائے اور  عمران خان کو بلیک میل یا عمران خان کے گرد چند ایسے لوگوں کو جمع کرنے کا سوچا جو کہ عمران خان کو زرداری ، مولانا فضل الرحمن ، نواز شریف کی سیاست دان بنا سکیں۔عمران خان کی زبان کو بند کرنے کے لئے اپنے ایجنٹ روانہ کر دیئے۔پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے سب سے پیارے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، پاکستان مسلم لیگ ق نے بھی پانے سب سے پیارے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری جو چار چار سال وائٹ ہاؤس میں وابستہ رہیے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں سابق وزیر خارجہ ہیں جن کا تعلق ہمیشہ امریکہ ، انڈیاسے رہا ہے ۔ ایک زرداری کا رائٹ ہینڈ اور دوسرا مشرف کا رائٹ ہینڈ ہے۔پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنے سابق مرکزی صدر و  بابا سیاست (ریٹائرڈ سیاست دان ) مخدوم جاوید ہاشمی کو بھیجا ہے ۔  جمعیت علماء اسلام نے اعظم خان سواتی کو بھیجا ہے۔ ان کے ساتھ چند اور لوگ بھی فری میں آئے ہیں ۔جہانگیر خان ترین جیسے لوگ جو مشرف کے زمانے میں مشرف کے صلاح کا ر تھے  مشرف سے غلط فیصلے کر واکے ملک کو جہنم میں دھکیل دیا۔<br />
	یاد رہے کہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پاکستان پیپلز پارٹی او ر زرداری کے صلاح کاروں میں سے تھا۔ سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری مشرف کے صلاح کاروں میں سے تھا جن کی منظوری سے مشرف نے امریکہ کے ساتھ دوستی مزید بڑھایا، لال مسجد آپریشن ، ڈروں حملوں کو امریکہ کو اجازت،  نیٹو سپلائے کی اجازت، بگٹی اور بلوچستان میں فوجی آپریشن ، قبائلی علاقوں جہاں شریعت نافذ تھا وہاں نام نہاد سکولرازم اور شریعت اور طالبان کیخلاف جنگ ، کراچی و بلوچستان میں  ٹارگیٹ کلنگ جیسے تما م اہم منصوبوں پر ان لوگوں نے ہی صلاح دیا تھا جس میں سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری اور جہانگیر خان ترین جیسے ناپاک لوگ شامل تھے ۔  اگر یہ لوگ مخالفت کرتے تو آج پاکستان ڈرون حملوں ، بلوچستان میں علیحدگی پسند، طالبان کی جنگ، قبائلی علاقوں میں جنگ جیسے حالات قطعی نہ ہوتے بلکہ پاکستان پر امن ہوتا اور امریکی غلامی بھی نہ ہوتا نہ ہی کوئی بیرونی قرضہ ہوتا۔<br />
	قریشی، ہاشمی، ترین، سواتی،قصوری جیسے ناپاک صلاح کاروں کے رش میں عمران خان بھی اپنا مقام کھو بیٹھا ہے ۔ عمران خان کی مقبولیت بڑھنے ہی لگا تھا کہ ان صلاح کاروں نے عمران خان کو زرداری ، مشرف اور نواز شریف  کو ہمیشہ غلط صلاح دیئے تھے جس وجہ سے پاکستان آگ میں جل رہا ہے ۔ان کو پاکستان تحریک انصاف کی کشتی میں سوار کر منافقت کرنے کی غرص سے بھیجا گیاہے۔<br />
اب عمران خان اپنی بولی نہیں بلکہ قریشی، ہاشمی، ترین، سواتی،قصوری  جیسے ماضی کے کھلاڑیوں کی بول بولتے ہیں ظاہر ہے  تمام میٹنگ اور اجلاس میں دائیں و بائیں قریشی، ہاشمی، ترین، سواتی،قصوری موجود ہوتے ہیں ۔ نزدیکی لوگوں آواز جلدی سنائی دیتا ہے ۔<br />
ان کرپٹ اور ماضی کے گنا ہ گاروں کی آمد سے پارٹی کے مخلص بلوچستان سے شاہد قاضی ، ایڈمرل جاوید اقبال جیسے لوگ جس لوگوں نے پاکستان تحریک انصاف  کے بُرے حالات میں ساتھ دیا تھا ۔ یہ لوگ خدا حافظ کہہ کر گھر بیٹھ گئے۔عمران خان کو حراساں کر نے کی کوشش کامیاب ہوگیا ۔ عمران خان زرداری ، گیلانی ، مشرف ، نواز ، مولانا تمام کرپٹ حکمرانوں کے خلاف بولنے والا خان آ ج بولتی ہی بند ہو گئی ہے۔اپنے اور پرائے میں فرق نہ کرنے والا خان اپنی تمام مقبولیت کوکھو بیٹھا ہے ۔ کاش عمران خان اپنے صلاح کار اچھے اور بزرگ ، حافظ القران اور عالم دین لوگوں کو رکھتا تو خدا کی قسم پاکستان بھر میں کلین سوپ کی خواہش بھی ہو سکتی تھی مگر عمران خان کی اپنی غلط پالیسی نے پارٹی کے ساتھ ساتھ خان کا اپنا  گراف کم کر وائی ہے جس کی زمہ دار خان کی اپنی ہی سر جاتا ہے۔<br />
عمران خان کنفیوز ہوچکا ہے کبھی کیا تو کبھی کیا بولتا رہتا ہے ۔اپنی زبان ٹکنے والا خان صبح و شام بیان تبدیل کر کے منافقت پر اتر آیا ہے ۔  میں مانتا ہوں یہ خان کی زبان ہے مگر الفاظ ہاشمی ، قریشی، قصوری، سواتی، ترین جیسے نا اہل حکمرانوں کی ہیں یہ وہ ناپاک سیاستدان ہے ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے حاکمِ وطن کے صلاح کار  اور  وزیر بنتے آئے ہیں ۔ جیسے صلاح مشرف، نواز، زرداری ، مولانا کو دیا کرتے تھے ویسا ہی صلاح عمران خان کو دیکر  تالاب کے تمام مچھلیوں کو خراب کرنے کی خواہش مند ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ عمران خان ایک بہادر اور سچا لیڈر ہے ۔ لیکن خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے یا د آ تا ہے تو پریشان ہو جاتا ہوں کہ عمران پر رنگ زبردستی لگا دیا گیا ہے۔<br />
کل تک عمران خان  نواز شریف کے خلاف تھے مگر آج حمایت کا اعلان کرنے کے خواہش مند ہیں۔ خود کہا کرتے تھے  ہم چہرے اور نظام بدلیں گے مگر نہ چہرہ بدل سکے نہ  ہی نظام ۔ جو پی پی ، ن ق لیگ میں نظام چلتا ہے وہی پی ٹی آئی میں بھی چلتا ہے چند اہم لوگوں کی بات فیصلہ قرار پاتا ہے ۔عمران خان کی مقبولیت کی کمی کی وجہ تو بتا چکا ہوں ۔  اللہ نے اسے ایک صوبہ کی حکومت دیکر اس کی اصلیت ظا ہر کر دی ہے ۔ خا ن کی اپنی غلطیوں اور اپنے گرد  ماضی کے کھلاڑیوں کو نئے چہروں اور نوجوان طبقہ پر فضیلت عنایت فرمائی ہے ۔<br />
       تحریک انصاف صوبہ بلوچستان سے ایک بھی نشست نہیں جیت سکا ہے ، سندھ میں ایک ، چند پنجاب میں اور کچھ زیادہ خیبر پختون خواہ میں کامیابی حاصل کی ہے۔ بلوچستا ن میں عمران خان کی اپنی نظر اندازی کی وجہ بھی قریشی و ہاشمی جیسے ہی لوگ ہیں جن لوگوں اسے ڈرایا کہ حالات خراب ہیں ، سیکورٹی رسک ہے ۔ جس وجہ سے پارٹی کی صو بائی قیادت نظر اندازی کی وجہ سے جعفر آباد کے مایہ ناز نوجوان سیاست دان سردار زادہ خیر بخش خان عمرانی ، میر امجد حسین کھوسہ ایڈوکیٹ،  فرمان خان مگسی ،  نعیم خان عمرانی  ، سید نوید علی شاہ  و دیگر سینکڑوں نوجوان پرانے وفادار ساتھیوں نے بھی پارٹی کو خدا حافظ کہہ دیا ہے۔عجیب بات اللہ پر توکل رکھنے اور بغیر سکیورٹی گارڈ کے گومنے والا خان آج خود ہی غائب کی باتوں سے ڈر گیا ۔ یہ ڈر قریشی  ، ہاشمی ، ترین جیسے لوگوں نے پیدا کی ہے ورنہ خان تو ایسا ہر گز نہیں تھا ۔ بہادر تھا دلیر تھا اب بھی ہے مگر کنفیوز بہت ہے ۔<br />
 عمران خان صاحب خیبر پختون خواہ کا وزیر اعلیٰ ماضی کے کرپٹ ترین کھلاڑی پرویز خٹک کو  رکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ وہی چاند کا مکھڑا ہے جب پی ٹی آئی  میں اعلان کر رہا تھا تو پارٹی کے سینکڑو ں کارکنوں نے احتجاج کے طور پر استیفیٰ  دیا تھا ، لڑائی بھی ہوئی تھی کہ یہ ناپاک ہے کرپٹ ہے ، پرانا غلط صلاح کار ہے ۔پرویز خٹک ایک ہوائی پرندہ ہے ، چڑھتی سورج کا پجاری ہے ، ڈوبتی کشتیوں ہمیشہ چھلانگ مارتا رہا ہے ۔<br />
پرویز خٹک مولانا فضل الرحمن کی طر ح ہمیشہ حکومتی کشتی میں سوار رہا ہے اور وقت آنے پر چھلانگ لگانے کی کوشیش بھی کی ہے۔<br />
اسد قیصر پاکستان تحریک انصاف کے بانی ارکان میں سے ہیں ۔سیاسی کیئر یر کا آغاز سے ہی پاکستان تحریک انصاف میں ہے ۔اس نے کبھی پارٹی بدلی نہ پارٹی کو بُرے حالات میں ساتھ چھوڑا ہے ۔ بلکہ اچھے بُرے حالات میں  عمران خان کا ساتھ دیا ہے۔ مگر آج پرویز خٹک کو اس پر ترجیح دے کر عمران خان نہ صرف غلط فیصلہ کررہا ہے بلکہ پارٹی کی مقبولیت کی گراف کو زمین بوس کرنے کے مترادف ہے۔<br />
سردار ادریس جیسے لوگ مسلم لیگ، ایم ایم اے ، پیپلز پارٹی  اور اب تحریک انصاف کی کشتی پر سوار ہو چکے ہیں۔ہاشمی ، قریشی، قصوری، سواتی، ترین  لوگوں کی کہنے پر عمران خان نے غلط طر یقے سینئر رہنماؤں کو نظر انداز کر کے من پسند لوگوں میں ٹکٹ تقسیم کر کے پارٹی کے ورکرز میں تضاد پھیلایا اور  سینئر رہنماؤں کو نظر اندازی ہونا شروع ہو گیا جس سے عام عوام اور کارکنوں میں مایوسی پیدا ہو گیا ۔<br />
	عمران خان خود کہا کرتے تھے کہ حکومت کرنے کے لئے تجربہ کی نہیں سوچ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایڈمنسٹیٹر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تو اب عمرا ن خان کو صلا ح کاروں اپنے ہی فیصلے پر مجبور کیا ہے ۔ اب عمران خان کہتا ہے کہ تجربہ کی ضرورت ہے ۔  اسی طرح کئی سوالات پید ا ہو ئے ہیں خان کی زات پر کہ وہ بھی باقی سیاست دانو ں کی طرح کھانے والے دانت الگ اور دکھناے والے دانت الگ رکھتا ہے ۔ ہر روز بیانات تبدیل کرتا ہے ۔ نواز جیسے لوگوں کے ساتھ اتحاد کرتا ہے ۔ امریکہ  اور  تمام پاکستان دشمن عناصر کے خلاف زبان کی جنگ بھی بند کر دی ہے ۔ جس کی زمہ داری اس گرد تمام صلاح کاروں کی ہے ۔ یہ صلاح کار حضرات ایک سوچے سمجھے منصوبے کہ تحت بھیجے گئے ہیں۔ جس دن سے عمران خا ن کے صلاح کار بن گئے ہیں اُسی دن سے ہی خان کی کشتی ڈوبتی ہی جا رہی ہے  اور عمران خان اور پی ٹی آئی کو حراساں کرنے کی کوشش کامیاب ہو گیا ہے ۔ پنجاب ، سندھ ، بلوچستان سے قابل فکر شکست منہ بولتا ثبوت ہے کہ عمران خان وہ خان نہیں جو دو سال پہلے ہوا کرتا تھا  ۔ عمرا ن خان کو اپنی مشن جاری رکھنا ہے تو فیصلے خود کرنے ہونگے ۔ مجھے عمران خان پر کوئی شک نہیں ہے ۔بلکہ عمران خان کے گرد جمع شدہ لوگوں پر شکوک ہیں کہ یہ لوگ غلط صلاح کار ہیں جن کی صلاح کو ماننا  عمران خان کی سیاسی مجبوری ہے ۔ اگر کوئی غور کرے تب عمر ان خان کی موجودہ سیاسی مناظر اور 2 سال پرانی سیاسی مناظر میں بہت تضاد ہے۔ بحرحال عمران خان کو حراساں کرنے کی کامیاب کوشش ہوئی ہے جس جال میں عمران نہ چاہتے ہوئے بھی پھس چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1161/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بلڈ پریشر کا عالمی دن“کالم“اعجاز احمد</title>
		<link>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1160/</link>
		<comments>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1160/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 20 May 2013 14:44:23 +0000</pubDate>
		<dc:creator>afkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Ejaz Ahmed]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urduwebnews.com/article/?p=4717</guid>
		<description><![CDATA[ہر سال مئی کے مہینے میں ہائپر ٹینشن یعنی بلڈ پریشر کا دن منا یا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد عام لوگوں میں بلڈ پریشر یعنی بلند فشار خون کے منفی اثرات کے بارے میں آگا ہی اور شعور &#8230; <a href="http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1160/">Continue reading <span class="meta-nav">&#8594;</span></a>]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/ejaz-pic3.jpg"><img src="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/ejaz-pic3.jpg" alt="ejaz-pic" width="150" height="201" class="aligncenter size-full wp-image-4718" /></a></p>
<p>ہر سال مئی کے مہینے میں ہائپر ٹینشن یعنی بلڈ پریشر کا دن منا یا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد عام لوگوں میں بلڈ پریشر یعنی بلند فشار خون کے منفی اثرات کے بارے میں آگا ہی اور شعور بیدار کرنا ہے۔ حسب معمول اور حسب روایت اسی دفعہ بھی اس دن منانے کے مناسبت سے ملک کے مایہ ناز ما ہر امراض قلب اور میڈیکل سپیشلسٹ اور جنیاتی انجینیرنگ کے ڈائریکٹر جنرل سید علی رضا  کا ظمی سے ملاقات ہوئی۔ ڈا کٹر سید علی رضا کا ظمی صا حب نے ہائی بلڈ پریشر کے وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ بلڈ پریشر کی بُہت ساری وجوہات ہیں جس میں نمک کا زیادہ استعمال ، تمباکو نو شی، شوگر کا مرض، کاہلی سستی اور آرام طلبی، جسمانی مشقت کی کمی،پو ٹا شیم، کیلشیم، میگنیشیم اور وٹا من ڈی کی کمی،شراب نو شی اورا لکو حل کا استعمال،ذہنی تناؤ اور ڈیپریشن،عمر کا تقاضا، اسقاط حمل اور مانع حمل ادویات کا استعمال،وراثتی بلڈ پریشر ، گر دوں کی کوئی پیچیدہ بیماری، تھارائیڈ کے مسائل اور جسم میں رسولی کی موجو دگی، وزن کا بڑھ جانا، ورزش کی کمی وغیرہ مسائل شامل ہیں۔ڈا کٹر کا ظمی کا کہنا ہے کہ بلڈ پریشر کی علامات میں شدید سر درد، تھکان ، بے چینی کی کیفیات کا شکار ہونا،چکر آنا، متلی، بصارت اور دیکھنے کے مسائل، سینے میں تکلیف، نیند کی کمی یا نیند میں مسائل ،سانس میں مسائل، دل کی بے ترتیب دھڑکن اور چھوٹے پیشاب میں خون آنا اور عمر کے آخری حصے میں پہچاننے کی صلا حیت میں کمی شامل ہے۔ ڈاکٹر کا ظمی کا کہنا ہے کہ جب ہم رات کو سوتے ہیں تو بلڈ پریشر عموماً نارمل ہوتا ہے اورصُبح اُٹھنے کے چند گھنٹوں بعد بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر کا ظمی کا کہنا ہے کہ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھیں ۔ کہتے ہیں کہ 120/ 80 منا سب بلڈ پریشر جبکہ 140/ 90کو ہائی بلڈ پریشر کہا جاتا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ50/30 سب سے کم  بلڈ پریشر گر دا نا جاتا ہے۔ نمک کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کا ظمی کا کہنا ہے کہ ایک بڑے یعنی با لغ انسان کو 6 گرام یعنی چائے کا چھوٹا در میانہ چمچہ نمک دن میں استعمال کرنی چاہئے جبکہ نا با لغ بچوں بچیوں کو دن میں تین گرام نمک کا ستعمال کرنا چاہئے ۔ اگر ہم خواراک میں نمک نہ بھی استعمال کریں تو کوئی قباحت نہیں کیونکہ خوراک میں  پہلے سے جو نمک قدرتی طور پر پائی جاتی ہے وہ انسانی جسم کے لئے کافی ہوتی ہے ۔ڈ ا کٹرصا حب کا کہنا ہے کہ بلڈ پریشر اور وزن کو کنٹرول کرنے کے لئے دن میں کم ازکم 45 منٹ تیز واک،چینی کاکم سے کم استعمال،اپنی طر ز زندگی میں مُثبت تبدیلی لانا،ٹینشن ڈیپریشن اور تشویش کو اسلامی اصولوں صبر، شکر ، ذکر و صلوۃ سے کنٹرول کرنے کی سعی کرنا ، ما دی معا ملات میں اپنے سے بڑوں کے بجائے چھوٹوں کو دیکھنا اور اللہ کا شکر کا بجا لانا سب سے اہم اور قابل ذکر باتیں ہیں۔ڈا کٹر کا ظمی فر ماتے ہیں کہ میگنیشیم اور کیلشیم دزن اور بلڈ پریشر کنٹرول کر نے میں اہم کرا دار ادا کر تا ہے۔ڈا کٹر کا ظمی کا کہنا ہے کہ یو رپین جرنل آف نیوٹریشن کے مطابق کہ خوراک میں میگنیشم سپلیمنٹ سے اوپر والا بلڈ پریشر یعنی سسٹالک  بلڈ پریشر دو سے تین درجے اور نیچے والا بلڈ پریشر تین درجے گر جاتا ہے۔ہیلتھ کنیڈا کے مطابق  اگر ہم دن میں 350 ملی گرام کا میشنیشیم سائٹریٹ لیںتو یہ کا فی ہے۔ ڈا کٹر کا ظمی کا کہنا ہے کہ سٹریس یعنی تناؤ بھی بلڈ پریشر بڑھانے میں منفی کردار ادا کرتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ انسانی جسم میں تناؤ کی وجہ سے 5 سے لیکر دس ڈگری تک بلڈ پریشر زیادہ ہوجاتا ہے۔ ڈا کٹر کا ظمی کا کہنا  ہے کہ اگر ہم رات کو سونے پہلے ایک گلا س دودھ لیں تو اس سے سیروٹو نین کا لیول بڑھ جاتا ہے اور اسی طر ح نیند آجاتی ہے اور تناؤ اور ڈیپریشن زیادہ حد تک کم ہو جاتا ہے۔ ڈا کٹر کاظمی کا کہنا ہے کہ کوین میری یو نیور سٹی لندن نے اپنے ایک رسالے ہائپر ٹینشن میں لکھا ہے کہ روزانہ چقندر کا ایک کپ جوس بلڈ پریشر کم کر نے میں اہم کر دار ادا کرتا ہے۔ما ہرین کہتے ہیں کہ جو لوگ چقندر،سونف، بند گو بھی،بر غ کاہو،مولی اور گا جر استعمال کرتے ہیں اس سے انکے بلڈ پریشر کم ہو نے میں بُہت مدد ملتی ہے۔ مشہور مصنف امریتا  اہلو والیہ )پی ایچ ڈی( کہتی ہیں کہ جو لوگ سبزیوں اور با لخصوص سبز پتوں والی سبزیوں اور چقندر کا استعمال کرتا ہے اُن میں بلڈ پریشر کے بُہت کم چانسس ہو تے ہیں۔ کیلی فو رنیا یو نیور سٹی کے سائنس دان کہتے ہیں جن لوگوں جوانی اور درمیانی عمر میں بلڈ پریشر ہو تا ہے تو انکے دماغ خراب ہونے کا زیادہ اندیشہ ہو تا ہے۔ ڈاکٹر کا ظمی کا کہنا ہے کہ میگنیشیم انسانی جسم کے چلانے میں اہم کر دار ادا کرتا ہے لہذاٗ ہمیں چاہئے کہ ہم ہمیشہ میگنیشیم بھری خوراک کا  استعمال کریں۔ میگنیشیم کی کمی کی وجہ سے جو بیماریاں جنم لیتی ہیں اُن میں دل کی بیماریاں، ہائی بلڈ پریشر،شوگر، اعصابی کمزوری،دما غ کے خون کا بلاک ہونا وغیرہ شامل ہے۔ ڈا کٹر کا ظمی کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی دن میں 400 ملی گرام سے زیادہ میگنیشیم کا استعمال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ زیا دہ استعمال کی صورت میں ہیضے کی شکایت ہو سکتی ہے۔ جن جن قدرتی اجناس میں میگنیشیم پایا جاتا ہے اُ ن میں جو، گندم، چاول، خشک جڑی بو ٹیاں، لوکی، ہندواڑے کی بیج ، ناریل، روغنی اناج ، سورج مکھی کی بیج،بادام صنوبر، چینی کا شیرہ وغیرہ شامل ہے ہمیں چاہئے کہ مندرجہ بالا قدرتی اجناس استعمال کر کے اپنی میگنیشیم کی ضرورت پو ری کر کے اپنے ہائی بلڈ پریشر کو اعتدال پر لائیں۔ڈا کٹر کا ظمی کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنی خواراک میں کیلشیم کا بھی استعمال کرنا چاہئے کیونکہ کیلشیم سے وزن گھٹانے میں مدد ملتی ہے ۔ جب ہمارا وزن اعتدال پر ہو گا تو ہمارا بلڈ پریشر قابو ہو گا۔ جن جن چیزوں میں کیلشیم پایا جاتا ہے اور جو ہائی بلڈ پریشر کے لئے اور وزن کم کر نے کے لئے زیادہ ضروری ہے اُن میں پنیر، دہی،دودھ، مچھلی،پالک،بند گوبھی، شلغم وغیرہ، فائبر یعنی ریشے والی غذا، مالٹے کا جوس سویا بین وغیرہ۔ لہذاء اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کے طو ر طریقوں کو تبدیل کرنا چاہئے اور فطری اور قدرتی چیزوں کا ستعمال کرنا چاہئے ۔ علاوہ ازیں ہمیں چاہئے کہ ہم اسلام کے زریں اصول اور عبادات کو اپنائیں تاکہ ہمارا ذہنی تناؤ کم ہو اور اسی طر ح ہم  ہائی بلڈ پریشر سے بچے رہیں۔ ہمیں صبر اور شکر کو زندگی کا اوڑھنا بچھو نا بنانا چاہئے کیو نکہ اس سے ہم ٹینشن اور ڈیپریشن سے بچے رہینگے۔اسلام اعتدال اور صبر کا درس دیتا ہے لہذاء ہمیں چاہئے کہ ہم زندگی کے ہر مو ڑ میں اعتدال اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ اُنکا کہنا ہے کہ 15 سال سے لیکر 19 سال تک کے بچے کا بلڈ پریشر120/81 بیس سے لیکر  چوبیس سال تک 132/83,  پچیس سال سے لیکر انتیس سال تک 133/84,تیس سال سے لیکر چونتیس سال تک134/85،پینتیس سال سے لیکر انتالیس سال تک135/86،چالیس سال سے لیکر چوالیس سال تک137/87،پنجتالیس سال سے لیکر اننچاس سال تک 139/88،پچاس سال سے لیکر چون سال تک 142/89،۵۵ سال سے لیکر ۵۹ سال تک 144/ 90 اور ۶۰ سال سے لیکر اوپر سالوں تک 147/ 91 ہونی چاہئے۔   </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1160/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>الیکشن ۔۔۔دوہزار تیرہ“کالم“ جاوید صدیقی</title>
		<link>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1159/</link>
		<comments>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1159/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 20 May 2013 14:43:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>afkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Article]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urduwebnews.com/article/?p=4714</guid>
		<description><![CDATA[گزشتہ کئی سالوں سے میں کئی بار اپنے کالموں میں الیکشن کے فرسودہ و ناکارہ نظام کی جانب بار ہا بار مبذول کراتا رہا ہوں لیکن جیسے جوں نہیں رینگتی۔۔ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری ہوں یا عمران خان یا پھر &#8230; <a href="http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1159/">Continue reading <span class="meta-nav">&#8594;</span></a>]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/javed-pic.jpeg"><img src="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/javed-pic.jpeg" alt="javed-pic" width="121" height="180" class="aligncenter size-full wp-image-4715" /></a><br />
 گزشتہ کئی سالوں سے میں کئی بار اپنے کالموں میں الیکشن کے فرسودہ و ناکارہ نظام کی جانب بار ہا بار مبذول کراتا رہا ہوں لیکن جیسے جوں نہیں رینگتی۔۔ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری ہوں یا عمران خان یا پھر نواز شریف اور ان کے ساتھ ساتھ آصف علی زرداری ہوں یا اسفند یار ولی یا سید منور حسن اور مولانا فضل الرحمٰن ہوں یا پھر الطاف حسین گو کہ پاکستانی تمام سیاستدانوں کا ایک ہی مطالبہ رہا ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ صاف و شفاف انتخابات کرائے جائیں لیکن کیا ان سب نے کبھی بھی ایوان یا پھر عوامی جلسہ و جلوس میں عندیہ دیا کہ وہ انتخابات کے نظام کو جدید خطوط کمپیوٹرائز اسکینگ کے نظام کو مروج کرنے کیلئے اپنا اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔ گزشتہ دنوں الیکشن دو ہزار تیرہ کا انعقاد ہوا اور حسب معمول ہمارے فرسودہ و ناکارہ نظام کے سبب ووٹنگ کے اندراج میں پورے پاکستان میں دھاندلی کا عمل پایا گیا کہیں آشکار ہوا تو کہیں دبا دیا گیا گو کہ کہیں بھی شفافیت نہ تھی۔ میں نے اپنے کالموں کے ساتھ جب جب بھی ٹیلیویژن میں تجزیہ دیا تو اس میں یہی بات بیان کی کہ پکستان میں ووٹنگ کے نظام کو مکمل کمپیوٹرائز کرکے انتخابات کے دن ٹھپہ سسٹم ختم کرکے اسکینگ انگوٹھا اور شناختی کارڈ کا نمبر درج کرکے اندراج کیا جائے جسے نادرا سے براہ راست منسلک کرکے عمل میں لایا جائے تاکہ کوئی ایک ووٹ بھی جعلی نہ ڈالا جاسکے۔ اس عمل کیلئے پہلے ووٹنگ کے وقت ووٹر کا شناختی کارڈ نمبر کمپیوٹر میں درج کیا جائے تاکہ اس کی تمام کوائف سامنے آجائیں پھر یس کا بٹن کلک کیا جائے اور وہ لاک ہوجائے تاکہ دوبارہ استعمال میں نہ آئے اس کے بعد ووٹر کے انگوٹھے کا اسکینگ کیا جائے تاکہ میچنگ ہوسکے میچنگ کے بعد دوسرے کمپیوٹر پر ووٹر</p>
<p>۲ سب سے پہلے اپنا ووٹنگ سیریل نمبر درج کرے پھر اپنے حلقہ اور علاقے کے نامزد امیدواروں کی فہرست کو دیکھتے ہوئیاپنے پسندیدہ امیدوار پر ٹچ کرے جیسے ہی وہ ٹچ کرے وہ ووٹ سیو ہوکر آٹو لاک ہو جائے اس طرح ایک ووٹ ہوجائے، یہ عمل آخر وقت تک جاری رہے وقت کے اختتام پر اُس کا ڈیٹا پرنٹ کرلیا جائے یہی اس کا نتیجہ ہوگا سرکاری اور غیر سرکاری بھی۔ اس نظام سے کوئی بھی غلط ووٹ کاسٹ نہیں ہوسکے گا اور کسی بھی سیاسی جماعت کو اعتراض کا موقع بھی میسر نہ آسکے گا لیکن اس میںکیا  قباحت ہے جو اس پر عمل کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتیں متفق نہیں ہوتی نظر آرہی ہیں اس کیلئے سپریم کورٹ کو اور الیکشن کمیشن کو از خود نوٹس لیتے ہوئے پاکستان کی بھلائی اور عوامی بہتر مفادات کیلئے عمل کرنا پڑیگا۔ ری پولنگ بھی نہیں کرانی پڑیگی اور نہ سیکیورٹی فورسس کی تعداد میں اضافہ کرنا پڑیگا۔ حیرت و تعجب کی بات تو یہ ہے کہ کوئی بھی صحافی و اینکر اس جانب کوئی بات نہیں کرتا آخر کیوں ؟؟؟ کیا ہمارے صحافی حضرات کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کا حصہ بنیں بیٹھے ہیں جو حقیقت سے آشنا ہونے کے باوجود شتر مرغ کی طرح اپنی اپنی گردیں ریت میں چھپاکر بیٹھ گئے ہیں یہ صحافتی اقدار کے خلاف ہے اور میڈیا کی اخلاقیات کے منافی بھی۔ میں ایک ادنیٰ سا صحافی ہوں مگر اپنے فرض کو اچھی طرح سے سمجھتے ہوئے برملا یہ کہتا ہوں کہ اس جدید کمپیوٹرائز عمل سے سارے جھگڑے ختم ہوجائیں گے اور پاکستان میں مستحکم و مضبوط جمہوری عمل دیکھنے میں آئے گا۔ اگر اس عمل پر سنجیدگی سے عمل نہ کیا گیا تو یاد رکھئے پاکستان کو معاشی و اقتصادی، معاشرتی، مذہبی، سیاسی، تجارتی، سلامتی گو کہ ہر پہلو سے شدید نا تلافی نقصان سے دوچار ہونا پڑیگا۔ یہ لمحہ فکریہ ہے اسے عملی جامع پہنانے کیلئے ہماری ایجنسیوں، فورسس، وکلاء، دانشور، کالمکار، اینکرز اور صحافی برادری کو بھرپور اپنا کردار ادا کرنے پڑیگا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناظر رہے ۔ پاکستان زنادہ باد، پاکستان پائیندہ باد۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1159/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کراچی لہو لہو کیوں ؟“کالم“عباس ملک</title>
		<link>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1158/</link>
		<comments>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1158/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 20 May 2013 14:37:47 +0000</pubDate>
		<dc:creator>afkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Abbas malik]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urduwebnews.com/article/?p=4711</guid>
		<description><![CDATA[کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے ۔ اسے کسی وقت روشنیوں کے شہر کہا جاتا تھا۔ اسے پاکستانی ماں کی طرح سمجھتے تھے جو ہر حال میں اپنی اولاد کو کھانا پینا مہیا کرتی ہے۔ کراچی شہر میں &#8230; <a href="http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1158/">Continue reading <span class="meta-nav">&#8594;</span></a>]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/malik-abbas-pic4.jpg"><img src="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/malik-abbas-pic4.jpg" alt="malik-abbas-pic" width="150" height="141" class="aligncenter size-full wp-image-4712" /></a></p>
<p>کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے ۔ اسے کسی وقت روشنیوں کے شہر کہا جاتا تھا۔ اسے پاکستانی ماں کی طرح سمجھتے تھے جو ہر حال میں اپنی اولاد کو کھانا پینا مہیا کرتی ہے۔ کراچی شہر میں کوئی بھوکا نہیں سو سکتا تھا اور نہ ہی کوئی بے روزگار ہوتا تھا۔<br />
<span id="more-4711"></span><br />
 لوگ ہر شہر سے یہاں مزدوری کیلئے آتے اور اپنا اور اپنے اعیال کا پیٹ بھرنے کاسامان کرتے تھے۔ یہ محبتوںکے شہر سے نفرتوں کی آماجگاہ کیسے بن گیا۔جی ہاں سیاسی مفادات نے اسے محبتوں کی گود سے نفرتوں کے الاؤ میں تبدیل کر دیا۔ کراچی کے رہنے والوں کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ اگر یونہی لوگ یہاں آ کر بستے رہے تو پھر یہ ہمارا روزگار کم کر دیں گے۔ یہ شہر پر قبضہ کر کے ہمیں یہاں سے نکال دیں گے ۔ مہاجربھائیوں کو اس بے بنیاد ترغیب پر بھڑکایا گیا او ران کے حقوق کے نام پر کھیل شروع ہوا۔ لازمی امر ہے کہ کراچی پر صرف مہاجروں کا حق نہیں ہر پاکستانی کا حق ہے ۔ اس پر مہاجروں کی اجارہ داری کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ کراچی میں پہلے پہل ہزارہ ڈویژن اور میانوالی ڈویژن کے لوگ کثرت سے گئے تھے۔ یہ ہوٹلوں پر کام کرتے اور ٹرکوں اور بسوں کے کاروبار سے وابستہ تھے ۔ مزدوری پیشہ بھی کافی لوگ تھے۔ ان کے ساتھ جھگڑے کیے گئے انہیں مارا پیٹا گیا ۔ ان کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ یہ لوگ صبر کرتے رہے لیکن مہاجر چاہتے تھے کہ یہ لوگ یہاں سے ہر حال میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر چلے جائیں۔ اس کیلئے ایسے قوانین بھی ڈسڑکٹ لیول پر بنائے گئے جس سے غیر سندھی کو غیر ملکی سے تشبیہ دی گئی۔ مہاجر قومیت کو مظلومیت کا نشان بنانے اور ان کے نام پر سیاست کرنے کا آغاز ایم کیو ایم کا جنم دن ہے۔ ایم کیو ایم کراچی میں مہاجروں کی اجارہ داری کیلئے کام کرنے اور ان کی فلاح وبہبود اور تحفظ کو منشور قرار دے کر مہاجروں کی ہمدردی سمیٹنے میں کامیاب ہوئی۔ جماعت اسلامی بھی مہاجروں کے حقوق کیلئے کام کرتی تھی اسے بھی ایم کیو ایم کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ پہلے پہل ایم کیو ایم جماعت اسلامی کو اپنا حریف قرار دے کر ان کے خلاف محاذ آرائی کرتی رہی۔ وقت کے ساتھ اس میں مزید اضافے ہوتے گئے۔ پختون ہزارہ اتحاد ، پنجابی ہزارہ اتحاد جماعت اسلامی نے بہت کوشش کی لیکن ایم کیو ایم کا عفریت ان کے قابو سے باہر ہوتا گیا۔ ضیاء الحق کے مارشل لا کے دور میں ایم کیو ایم کو فری ہینڈ دیا گیا جس سے پیپلز پارٹی مسلم لیگ جیسی قومی جماعتیں بھی اس کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوگئیں۔ایم کیو ایم کراچی میں اجارہ داری کیلئے کوشاں تھی کہ اسے جناح پور کا خواب بھی نظر آیا۔ اس پر آرمی نے اس کی برین واشنگ کر کے اسے اپنی اوقات میں لایا تھا۔ ایم کیو ایم نے سیاسی مخالفین اور جماعت کے سامنے آنے والی ہر رکاوٹ کو روندڈالنے کی روایت جاری رکھتے ہوئے اپنے ہی آفاق احمد کو بھی روندنے کی کوشش کی ۔ وہ جان بچانے کیلئے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پناہ گزیں ہوا۔ الطاف حسین نے ہر بولنے والی آواز کو چپ کرانے کی ٹھان لی اور اپنے ہی قریبی ساتھیوں کو شک کی بنیاد پر بھی ٹھوک دینے کے آرڈر جاری کیے۔ سیاست خدمت یا فلاح کا عنصر اس جماعت نے بھلا کر سیاسی مخالفین کو تہ تیغ کرنے کو ہی مہاجروں کا حق قرار دے کر باقی منشور پر فوقیت دے دی۔ اب اس جماعت کا یہی منشور ہے کہ سیاسی مخالفین کو بزور طاقت خاموش کر دیا جائے ۔ نہ رہے بانس نہ باجے بانسری کے مصدق نہ مخالف ہو گا نہ ہی بولے گا۔ ایم کیو ایم اب الطاف حسین مافیا بن چکی ہے۔ اسے مہاجروں کی جماعت کہنے کی بجائے الطاف حسین کے کارندوں کا گروہ قرار دیا جانا چاہیے۔ اس جماعت نے جس قدر قتل وغارت اور دہشت گردی کی ہے اس پر اسے سیاسی سماجی فلاحی جماعت کی بجائے دہشت گرد تنظیم قرار دے کر بین کرنا چاہیے۔<br />
الطاف حسین کو بھی ملک کے خلاف بیانات دینے اور توڑنے کی بات کرنے پر غداری کا مقدمہ قائم کر کے حکومت برطانیہ سے اس کی حوالگی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ الطاف حسین نے اس سے پہلے بھی بھارت میں کھڑے ہو کر پاکستان کے خلاف بیان دیا تھا۔ اس کی وڈیو موجود ہے ۔ موجودہ بیان بھی فیس بک سمیت کئی سماجی ویب سائیٹس پر ثبوت کے طور موجود ہے۔ اس سے پہلے بھی انہی صفحات کے توسط سے حکومت کو وارننگ دی تھی کہ ایم کیو ایم کو الطاف حسین کی یرغمالی سے آزاد کرایا جائے۔ الطاف حسین کے خلاف کئی طرح کے مقدمات زیر سماعت تھے جو این آر آو کے تحت معاف کیے گئے۔ اس کے علاوہ جب الطاف حسین نے برطانیہ کی شہریت اختیار کر لی ہے تو پھر وہ پاکستان کی کسی سیاسی تنظیم کا چیئرمین کیونکر ہے۔ ایک غیر ملکی شہری کو یہ کیسے استحقاق حاصل ہوا کہ وہ پاکستان کے سیاسی معاملات میں مداخلت کرے اور کسی سیاسی تنظیم کی راہنمائی کا فریضہ کرے ۔ڈاکٹر طاہر القادری کے کیس میں یہ فیصلہ ہو ا کہ ڈیول نیشنل کو یہ حق حاصل نہیں ۔ الطاف حسین کی ملک سے وفاداری بھی مشکو ک ہے پھر بھی اسے تنظیم چلانے کی اجازت دینا پاکستان کے دشمن کو موقع دینے کے مترادف ہوگا کہ وہ جب اور جیسے چاہیے پاکستان کی سا  لمیت اور یکجہتی پر وار کرے ۔ الطاف حسین کے موجود ہ طرز بیان پر حکومتی اور سیاسی جماعتوں کے اکابرین کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں پاکستان سے کوئی سروکار نہیں ۔ انہیں اپنی دستار بلند چاہیے خواہ اس کیلئے انہیں انڈین ٹینکوں  پر ہی کیوں نہ بیٹھنا پڑے ۔ نیا پاکستان بنانے والے پرانے پاکستان کو کیا کباڑیے کے پاس بیچنا چاہتے ہیں۔ الطاف حسین جیسے کئی کمیشن ایجنٹ یہ سودا کرانے کیلئے بیتاب بیٹھے ہیں۔ کوشش کی جائے کہ پرانے پاکستان پر ہی گذارا ہو جائے ۔ پرانے پاکستان نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا ۔ اگر کسی نے بگاڑا ہے تو وہ یہ ایجنٹ ہیں جنہیں اپنے کمیشن کیلئے ماں قرار دی جانے والی دھرتی کا سودا کرنے پڑے تو وہ اس سے بھی نہیں چوکتے ۔ذاتی مفادات کو یہ عوامی ایشو بنا کر پیش کر کے اسے عوامی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے استعمال کرکے خود کو عوامی سیاسی نمائیندہ قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست میں الطاف حسین جیسے افراد کیلئے جگہ بن جاتی ہے۔ جس برطانیہ نے انہیں سیاسی پناہ دی ہے کیا وہ سکاٹ لینڈ کے کسی لیڈر کو یہ اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ برطانیہ کے خلاف ایسی ہی ہزرہ سرائی کر سکے ۔برطانیہ یورپ اور امریکہ نے تو یہ ٹھیکہ اٹھایا ہوا ہے کہ ہر ایسے فرد کو پناہ دی جائے جو مسلم قومیت میں نفاق کا بیج بونے میں کوئی کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ کراچی کے مہاجر بھی اب تو ایم کیوایم اور الطاف حسین کے اس روپ اطوارسے تنگ ہیں ۔ وہ بھی اب گلو خلاصی چاہتے ہیں لیکن اب کمبل انہیں چھوڑنے کو تیار نہیں ۔ اگر ایم کیوایم والے بھتہ اور قبضہ مافیہ اور گولی سرکار سے ہاتھ کھینچ لیں تو پھر وہ کھائیں گے کہاں سے اور پیر صاحب کا نذرانہ لندن کیسے ارسال ہو پائے گا ۔ کراچی اب مافیاؤں کے نرغے میں آچکا ہے ۔ اسے ایم کیو ایم کے علاوہ بھی سیاسی بھیس میں کئی اور شکاری شکار کرنے کا موقع دیکھ رہے ہیں۔ یہ ان شکاریوں کی آپس کی جنگ ہے۔ مافیاؤں کی اس جنگ میں عام عوام بھی گیہوں کے ساتھ گہن کی طرح پس رہے ہیں۔ اس کا حل صرف طاقت ہے ۔ طاقت کے غیر جانبدارانہ استعمال کے بغیر کراچی کی روشنیوں کی واپسی کا خواب کبھی تعبیر نہیں پائے گا۔ میاں صاحب اور عمران خان کو چاہیے کہ وہ نفاق کی بجائے اتحاد اور اپوزیشن کی بجائے کولیشن کو ترجیح دیں۔ اس طرح وہ ملا اور ملاکھڑے دونوں کی بلیک میلنگ سے بچ کر شاید عوام کیلئے کچھ کر نے کی پوزیشن میں آ جائیں۔ ایک ایک اور دو گیارہ ہوتے ہیں۔ شاید آ جائے تیری سمجھ میں میری بات ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1158/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>الطاف حسین کراچی سب کا ہے لہٰذا احتیاط!“کالم“نغمہ حبیب</title>
		<link>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1157/</link>
		<comments>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1157/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 20 May 2013 14:36:12 +0000</pubDate>
		<dc:creator>afkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urduwebnews.com/article/?p=4708</guid>
		<description><![CDATA[کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر، اس کا دل اوردر حقیقت پورا پاکستان ہے جس نے اپنی گود میں پنجابی ، پٹھان ،سندھی ، بلوچی اور کشمیری ہر ایک کو سمایا ہواہے اور اسی نے اُن قابل فخر لوگو &#8230; <a href="http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1157/">Continue reading <span class="meta-nav">&#8594;</span></a>]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/Naghma-Habib4.jpg"><img src="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/Naghma-Habib4.jpg" alt="Naghma-Habib" width="150" height="148" class="aligncenter size-full wp-image-4709" /></a></p>
<p>	کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر، اس کا دل اوردر حقیقت پورا پاکستان ہے جس نے اپنی گود میں پنجابی ، پٹھان ،سندھی ، بلوچی اور کشمیری ہر ایک کو سمایا ہواہے اور اسی نے اُن قابل فخر لوگو ں کو بھی اپنی مادرانہ چادر کی چھاوئں میں پناہ دی جنہوں نے قیام پاکستان کے وقت اپنے گھر بارچھوڑے اور ہجرت کی تو کراچی اور کراچی والو ں نے ان آنے والو ںکو بڑی فراخدلی سے اپنی زمین اور گھر بار پیش کر  دیے ۔ان مہاجرین نے کراچی اور کراچی نے ان مہاجرین کو عزت اور پیار دیا کسی نے کسی پر احسان نہں جتایا۔سالہا سال تک یہ شہر پیار اور محبت کا گڑھ بنا رہا لیکن بڑے دکھ اورافسوس کی با ت ہے کہ آج ہر ایک کراچی کا احسان ماننے کی بجائے اس پر احسان جتارہاہے بلکہ پاکستان پر احسان جتارہاہے کہ ہم نے اس ملک کی خاطر ہجرت کی۔ اول تو بات یہ ہے کہ وہ جنہو ں نے ہجرت کی تھی اُن میں چند ہی لوگ زندہ ہوں گے اوراب ابھی وہ پاکستان سے بے لوث محبت کرتے ہیں حکومت کے لیے نہیں ۔وہ نسل جو احسان جتا رہی ہے انہیں تو فخر سے کہنا چاہئے تھا کہ ہم ’’سن آف دی سوائل ‘‘ہیں لیکن تیسری نسل نے کہنا شروع کیا کہ ہم نے ہجرت کی ۔ کاش آپ عظمت کے اُس درجے پر ہوتے کہ آپ نظریے کی خاطر اپنی دولت چھوڑسکتے آپ تو حکومت کی خا طر اصو لوں پر یو ں سودے بازی کرتے ہیں جیسے آلو پیاز کی    خرید وفروخت کر رہے ہوں ۔<br />
	الیکشن 2013میں کراچی میں ہونے والی دھاندلی پر شہریوں کے احتجاج سے گھبراکر متحدہ قومی مومنٹ کے برطانوی قائد الطاف حسین نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر کراچی کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا جارہاتو کراچی کو پاکستان سے الگ کیا جائے یعنی حیرت ہے ایک غیر ملکی شخص کی خواہش پر پورا کراچی قربان کر دیا جائے یہا ںبر طانوی شہریت رکھنے والے الطاف حسین کو یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ کراچی جتنا اردو بولنے والو ں کا ہے اُتنا ہر پاکستانی کا ہے بلکہ پاکستان کا ہر خطہ ہر صوبہ سب کا برابر کا ہے ۔ کیاپشاور ،پنڈی ، لاہور ، کوئٹہ حتی کہ دور دراز کے شہروں میں بھی اردو بولے والے نہیں ر ہتے اور کیا کوئی انہیں وہاں سے نکالنے کی بات کر تا ہے، ہر گز نہیں نہ ہی وہ مقامی آبادی کے نشانے پر رہتے ہیں لیکن کراچی میں جو حالات ہیں وہ الطاف حسین اور ان کے سا تھیوں نے پیدا کر رکھے ہیں خود ہی حالات بگاڑے جاتے ہیں اور پھر ان حا لات کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور پاکستان کو توڑنے کی دھمکیا ں دی جاتی ہیں یہ لوگ خود کو ۔۔سب کچھ کرنے اور کہنے کے لیے آزاد سمجھتے ہیں نہ پاکستان ان کی دست برد سے محفوظ رہتا ہے نہ قومی نظریہ اور رہنما پچھلے دنوں اُس نے قائد اعظم کی ذات پر جس طرح حملے کیے وہ ایک مخصوص ذہنیت کی عکاسی ہے وہ ذہنیت جنہیںہدایات کہیں اور سے ملتی ہیں اور کارندے وہ ہوتے ہیں اور عام لوگ ان کے    یر غمال، ورنہ میں جتنے اردو بولنے والو ں سے بات کرتی ہوں چاہے وہ کراچی کے ہو ں ،پشاور کے یا پنجاب کے میں نے کسی کو ان خیالات کا حامی نہیں پایا بلکہ شدید مخالفت کرتے ہی سنا ۔پھرآخر وہ کون سے حربے ہیں جو مجبور لوگوں پر آزمائے جاتے ہیں اور لندن سے بیٹھ کر ان کی ڈورکھینچ لی جاتی ہے۔ الطاف حسین کے موجودہ بیان پرملک بھرمیں شدیدردعمل آیا اور لندن پولیس کو الطاف حسین کے خلاف ایک رپورٹ کے مطابق پانچ لاکھ سے زیادہ کالیں موصول ہوئیںکہ اس طرح کے بیانات کے تناظرمیں اُس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے لیکن اگر حکومت پاکستان دلچسپی نہ لے تو کسی اورحکومت کو کیا فرق پڑتا ہے۔بحر حال الطاف حسین برطانوی شہری ہے اس سے پوچھاجائے کہ وہ ہمارے ملک کے خلاف ہرزہ سرائی کیسے اور کیوں کرتاہے اور کیوںاس کی حکومت اس سے نہیں پوچھتی کیا حکومت برطانیہ کسی پاکستانی کواجازت دے گی یا برداشت کرے گی کہ وہ اس کے خلاف پاکستان سے سازش کرے۔<br />
	حیرت ہمارے میڈیاپر بھی ہے کہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ الطاف حسین کے خطاب، خطاب کم اور سازشیںزیادہ ہوتی ہیں پورا خطاب بڑے ذوق و شوق اور پابندی سے ٹیلی کاسٹ کیاجاتا ہے کیا ان ٹیلیفونک خطابات کو بند نہیںکیا جاسکتاکہ فساد کم پھیلے اورآخراس بات پرکوئی کاروائی کیوں نہیںکی جاتی کہ بار بارایسے بیانات کیوںد یے جا رہے ہیںکہ کراچی کواردو بولنے اور نہ بولنے والوںمیں کیوں تقسیم کیا جاتا ہے اردو تو پورے پاکستان کی زبان ہے۔ تقسیم ہندسے پہلے بھی پورے ہندوستان میں بولی جاتی تھی ورنہ علامہ اقبال،مولا نا ظفر علی خان اورسردارعبدالرب نشتراردونہ لکھتے۔لیکن مصطفی کمال علی لاعلان اورببانگ دہل ٹی وی پر بیٹھ کر کراچی کو اسی بنیاد پر تقسیم کر رہا تھاجب کہ کراچی میں توشاہی سید بھی اردو بولتاہے اور نازبلوچ بھی چاہے ان کی مادری زبان کوئی بھی ہے۔ایم کیوایم اگر قومی جماعت بنناچاہتی ہے اور قومی سیاسی دھارے میں شامل ہوناچاہتی ہے تو اسے اپنی ان پالیسیوںمیںتبدیلی کرنا ہو گی اور اپنی قیادت بھی تبدیل کرنا ہوگی ورنہ جب ایک پنجابی ، پٹھان ، سندھی ، بلوچی یا کشمیری دیکھے گا کہ نہ اُس کا ذکرہے نہ فکر تو کیا وہ اُس جماعت کو ووٹ د ے گا۔سیا ست مخصوص گروہوں کے حقوق کے تحفظات کے لیے نہیں بلکہ قومی معاملات کے لیے جاتی ہے مخصوص علاقوں، آبادیوں اور گروہوں کے ل لیے فلاحی تنظیمیں اور این جی اوز کام کرتی ہیں تو کیا ایم کیو ایم ہمیشہ ایک علاقائی تنظیم اورلسانی گروہ رہے گی یا آگے بڑھے گی اوراُس کی قیادت اُسے دہشت گرد ی کے لیبل سے آزاد بھی کرے گی یا نہیں ۔ اس بار تو الطاف حسین نے سر عام اُس میڈیا کو بھی للکارا جس نے ہمیشہ اُسے سنجیدہ قومی سیاست دانو ں سے زیادہ اہمیت دی اُس نے میڈیا کو یاد دلایا کہ’’ کتوں کے بھونکنے‘‘ سے کارواں رُکتے نہیںہیں ۔ بنگلہ دیش بننے کی یاد دہانی بھی وہ کراتے ر ہتے ہیں بلکہ اب کی بار تو انہو ں نے جرنیلو ں کو بھی اپنا مرہون منت کہاتو اُن سے ایک سوال ہے کہ کیامشرقی اور مغربی پنجاب کے درمیان ہجرت میں لاکھوں خاندان تہہ و تیغ نہ ہوئے کیا وہ بھی لاہور کو امر تسر بنانے کی دھمکی دینے لگ جائیں تو پھر آخر ہمارے بزرگو ں نے یہ ملک کیوں ہی بنایا تھا کیا وہ بے وقوف تھے یا ظالم تھے جنہوں نے خون بہایا۔<br />
 	یہاں میرے کچھ سوالات حکومت ، میڈیا اور عدلیہ سے ہیں کہ ہر حکومت پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت قائم کرنے اور رکھنے کے لیے ان ساری باتوں کو کیوں بھلادیتی ہے ، میڈیا کے کچھ اینکرز ان کے گن گاتے کیوں نہیں تھکتے ، کیوں ہر خطاب اور ہر زہ سرائی کو من وعن پیش کرتے ہیں اُس کے بارے میں سو چتے کیوں نہیں اور عدلیہ جو سوموٹو لینے کے لیے کسی واقعے کی تاک میں رہتی ہے کہ کہیں کو ئی واقعہ ہو اور عدالت میدان میں آجائے یہا ں کیو ں چپ رہ جاتی ہے۔ کیا ان سب کے پاس اس کی کچھ وجوہات بیان کرنے کے لیے ہو نگی تا کہ قوم بھی اُن سے آگاہ ہو اور سب سے بڑھ کر کراچی کے لوگ بھی بتائیں کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے یو ں اُن کی زبانوں پر تالے لگائے ہوئے ہیں کہ وہ کچھ بولتے نہیں کیا اس زمین اور قوم کا ان سب پر کوئی حق نہیں ۔  </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1157/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>نوازشریف توانائی کابحران جون میں ہی حل کرلیں ورنہ سیلاب آجائے گا..“کالم“ محمداعظم عظیم اعظم</title>
		<link>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1156/</link>
		<comments>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1156/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 20 May 2013 14:34:46 +0000</pubDate>
		<dc:creator>afkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urduwebnews.com/article/?p=4705</guid>
		<description><![CDATA[اُمید ہے کہ نوازشریف اپنے وعدوں اور دعوؤں کے مطابق مُلک میں اگلامون سون موسمِ برسات اور سیلابوں کے کسی نئے سلسلے کو آنے سے قبل ہی قوم کو توانائی کے بحران اور لوڈشیڈنگ جیسے مسائل سے نکالنے اور اِن &#8230; <a href="http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1156/">Continue reading <span class="meta-nav">&#8594;</span></a>]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/azam-pic6.jpg"><img src="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/azam-pic6.jpg" alt="azam-pic" width="150" height="174" class="aligncenter size-full wp-image-4706" /></a><br />
	اُمید ہے کہ نوازشریف اپنے وعدوں اور دعوؤں کے مطابق مُلک میں اگلامون سون موسمِ برسات اور سیلابوں کے کسی نئے سلسلے کو آنے سے قبل ہی قوم کو توانائی کے بحران اور لوڈشیڈنگ جیسے مسائل سے نکالنے اور اِن سے حقیقی معنوں میں نجات دلانے سے مایوس نہیں کریں گے&#8230;اور وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہی اپنے وعدؤں اور قول کے مطابق بالارنگ و نسل ، زبان ومذہب اورسرحد کے قوم کی خدمت کو اپنا شعائر بنائیں گے،اور اِس کے ساتھ ساتھ ایشیاکے بارھویں اور مُلک کے سب سے بڑے معاشی حب کا درجہ رکھنے والے شہر کراچی کو اپنے پچھلے دواقتداروں کی طرح دیدہ و دانستہ نذر اندازکئے بغیر کم ازکم اِس مرتبہ تو اِس کی ترقی وخوشحال اور اِسے بجلی جیسے مسائل کی حل کی جانب بھی خصوصی توجہ دیں گے۔<br />
 	جبکہ یہاں یقینایہ امر حوصلہ افزاء ضرور ہے کہ گزشتہ دنوں گیا رہ مئی کومُلک میں ہونے والے اپنی نوعیت کے انتہائی صاف وشفاف انتخابات کے نتیجے میں حکومت بنانے کے لئے واضح اکثریت حاصل کرلینے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اورمُلک کے متوقع تیسرے وزیراعظم نوازشریف سے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ماڈل ٹاؤن لاہور میںشہبازشریف کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے اِس سے متعلق جہاں یہ اطلاعات ہیں کہ آرمی چیف سرکاری پروٹوکول کے بغیراور نجی گاڑی میں آتے تھے ،اُنہوں نے اِس دوران مُلک میں امن و امان کی مجموعی اور انتخابات کے بعد کی صُورت حال، دہشت گردی کے خلاف جنگ، طالبان سے مذاکرات ، خطے کی صورت حال ، چینی وزیراعظم کے دورہ پاکستان ، سیکورٹی کے معاملات اور دیگر اہم اُمورپر بات چیت کی تو وہیںآرمی چیف اور نوازمیں مسائل کے حل کے لئے مل کر چلنے پر بھی اتفاق کیا گیاجو اِس بات کی جانب واضح اشارہ ہیں کہ آنے والے وقتوں میں مُلک کے سیاسی حالات چاہئے جیسے بھی ہوں، مگر حکومت کو اِنہیں خود حل کرنے ہوں گے،ماضی کی طرح اِس بابت آئندہ بھی فوج کی کوئی مداخلت نہیں ہوگی ، اگرواقعی اِس بار بھی پاک فوج کا یہی عمل رہاتو یقینا یہ مُلک میںجمہوریت کو پنپنے کے لئے کارآمد ہوگا۔<br />
 	اِس میں کوئی شک نہیں کہ گیارہ مئی کے انتخابات میں لوڈشیڈنگ ، مہنگائی ، بھوک و افلاس اور دہشت گردی کی دلدل میں دھنسی پاکستانی قوم نے اپنا حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے ، بڑی آس اور اُمیدوں کے ساتھ نواز شریف کو تیسری باراقتدار کی مسند پر بیٹھانے کا بندوبست کردیاہے، اِس پر میراخیال یہ ہے کہ یقینا عوام کے اِس عمل سے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران بات بے بات پر مفاہمتی عمل اور مفاداتی پالیسیوں کے باعث قوم کی آنکھوں میں دھول اور مرچیں جھونکنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کابیڑاغرق ہوگیاہے،اور آج عوام کی نظریں نواز شریف کی جانب ہیں ، اور موجودہ حالات میں ساری قوم نواز شریف کو اپنا مسیحا مجھ رہی ہے ، اور اِن سے قوی اُمید وابستہ کئے ہوئے ہے کہ یہ توانائی کے بحران کو جون میں ہی حل کرنے کے لئے ایسے دیرپااقدامات کرلیں گے، اِن کی توجہ بعد میں مُلک کو درپیش دیگر مسائل کی حل کی جانب مرکوز ہوجائیں ،کیوں کہ قوم کا ایک خام خیال یہ ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے جب بھی ہمارے یہاں مون سون بارشیوں کا موسم آتاہے کہ مُلک کے کسی نہ کسی صوبے میں سیلاب کی صُورتِ حال پیداہوجاتی ہے، جس سے حکومتوں کی توجہ مُلک کے درینہ مسائل کے حل سے ہٹ جاتی ہے اور وفاق سمیت صوبائی حکومتیں سیلا ب جیسی ناگہانی آفت سے نمٹنے میں لگ جاتی ہیں،اور پھر یہ مسئلہ سال بھر بھی حل نہیں ہوپاتاہے کہ اگلامون سون پھر منہ اٹھاکر چلاآتاہے اور سیلاب کا سلسلہ سالوں جاری رہتاہے ، اِس کی زندہ مثال آج بھی دیکھی جاسکتی ہے۔<br />
	یہ حقیقت ہے کہ سابق حکومت نے اپنے دورِ اقتدار میں مُلک اور قوم کو درپیش مسائل کی حل کی جانب توجہ دینے کے بجائے ،اپنی ضرورتوں کو مقدم جانا اور اِن سے ہی متعلق اقدامات کو ہی اپنی بقاء اور اپنی آئندہ کی کامیابی کا ضامن جانا ، اور آج یہی وجہ ہے کہ قوم نے گیارہ مئی کے عام انتخابات میںاِسے وفاق اور تین صوبوں سے سمیٹ کر ایک صوبے تک محدودکردیاہے، جو اِس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ عوام باشعور اور اپنے اچھے بُرے کی تمیزکرنے کے قابل ہوگئے ہیں، اور اَب ماضی کی طرح اِسے لولی پاپ دے کر نہیں بہلایاجاسکتاہے،گیارہ مئی کے عام انتخابات میں شکست سے دوچار ہونے والی مُلک کی سابقہ حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی اعلیٰ سے ادناقیادت کو اِس جانب ضرور توجہ دیتے ہوئے اپنا احتساب کرناچاہئے کہ اِن سے ضرور کوتاہیاں سرزدہوئیں ہیں تب ہی ووٹر نے اِن کا یہ حشرکردیاہے کہ اِن کی توقعات سے بھی کم نشتیںاِنہیں ملی ہیں اور یہ وفاق اور تین صوبوں سے سمٹ کر صرف اپنے آبائی صوبے تک محدود ہوگئی ہے، ایساکیوں ہواہے..؟یقینااگرآج یہ اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو اِنہیںاِس کا جواب خود یہ مل جائے گاکہ اِنہوں نے اپنے اقتدار کے پانچ سالوں میں قوم کو سوائے جھوٹے دعوؤں اور وعدوں کے کچھ نہیں دیاہے۔<br />
	آج انتخابات کو ہوئے کئی دن گزرچکے ہیں مگر میری قوم کے لئے کیا یہ جگ ہنسائی کا باعث نہیں ہے کہ ہارنے والے تو ہارنے والے جو جیت گئے ہیں وہ بھی فلگ شگاف انداز سے یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ گیارہ مئی کے انتخابات کو سرکاری مشینری اور عالم قوتیں جنہیں صا ف و شفاف کہہ رہی ہیں وہ دراصل ایسے نہیں ہیں جیسااِنہیں نظر آرہاہے بلکہ یہ دھاندلی سے ایسے ہی لبریز ہیں جیسے جھلکتے جام کا پیالہ &#8230;. آج مُلک کی اِن سیاسی جماعتوں کے اِس رویئے پر قوم جتنا افسوس کرے وہ بھی کم ہے، جبکہ اِن کی اِن حرکات و سکنات پر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ انتخابات کے بعد ہارنے اور جیتنے والے ہمارے ضدی سیاستدان خودساختہ دھاندلی جیسے فضول کے چکرمیں پڑتے اور اِسے اپنی اپنی ناک اور اناکا مسئلہ بناتے ہوناتویہ چاہئے تھاکہ یہ اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کے باہم تعاون اور مشوروں سے وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی کرنے سمیت مُلک عوام کو بجلی کے بحران سے نجات دلانے میں بھی اپنا کرداراداکرتے اوریوں یہ لوگ وقت ضائع کئے بغیرآپسمیں مل کر مُلک کو اگلامون سون آنے سے قبل( جو اپنے ساتھ ہرسال سیلاب لاتاہے) بجلی کا بحران حل کرلیتے مگر افسوس ہے کہ اِنہیں آج ایک دوسرے پر الزام لگانے اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے ہی سے فرصت نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1156/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کیا واقعی میں حجاج بن یوسف ایک ظالم حاکم تھا؟“کالم“ آصف لانگو</title>
		<link>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1155/</link>
		<comments>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1155/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 20 May 2013 14:33:05 +0000</pubDate>
		<dc:creator>afkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urduwebnews.com/article/?p=4702</guid>
		<description><![CDATA[عبدالملک نے اہل خراساں اور کوفہ اور بصرہ کی باغیانہ روش کو ختم کرنے کے لئے حجاج کو گورنر مقرر کیا ۔ اس نے صرف بارہ آدمی ساتھ لئے اور ایک ہزار میل کا فاصلہ طے کر کے بالکل غیر &#8230; <a href="http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1155/">Continue reading <span class="meta-nav">&#8594;</span></a>]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/asif-yasin-lango3.jpg"><img src="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/asif-yasin-lango3-226x300.jpg" alt="asif-yasin-lango" width="226" height="300" class="aligncenter size-medium wp-image-4703" /></a><br />
عبدالملک نے اہل خراساں اور کوفہ اور بصرہ کی باغیانہ  روش کو ختم کرنے کے لئے حجاج کو گورنر مقرر کیا ۔ اس نے صرف بارہ آدمی ساتھ لئے اور ایک ہزار میل کا فاصلہ طے کر کے بالکل غیر متوقع  طور پر کوفہ پہنچا۔ کوفہ میں داخلہ کے وقت اس نے نقاب پہن رکھی تھی تاکہ لوگ اسے پہچان نہ سکیں ۔ اس کے ساتھی اہل کوفہ کو پکار پکار کر مسجد میں جمع ہونے کا حکم دے رہے تھے ۔ حجاج بن یو سف  ثقفی  پہنچا تو لوگ  شرارت پر آمادہ تھے ۔ کنکریاں ہمراہ لائے تھے ان سے گورنر کا استقبال کر سکیں ۔ اس نے ممبر پر چڑھ کر نقاب الٹی اور تقریر اس طرح شروع کی<br />
۔	&#8221; لوگو! سنو  اور ہوش حواس درست کر کے سنو! تمھاری  شورش پسندی  اور شرارتوں  سے تنگ آ کر  امیر المومنین  نے اس بار اپنے  ترکش کا سب سے سخت تیر تم پر چلایا ہے۔ تم  منافق، مفسد  اور باغی ہو ، تم نت نئی شرارتیں کرتے ہو اور آنے والے حاکم سے بغاوت کرنے کی عادی ہو ۔ سیدھے ہو جاؤ  اور اطاعت کے لئے سر جھکا دو ورنہ تمہیں ایسا زلیل و خوار کر و ں گا کہ تمھاری آئندہ نسلیں تم پر لعنت بھیجا کریں گی ،  میں تمھاری گیدڑ بھبکیوں سے ڈرنے والا نہیں ہوں  بلکہ تمھارے  ٹیڑھے پنکو ا یسا  درست  کر وں گا  کہ تم سد ھی ہوئی اونٹنیوں کی طرح  دودھ  دینے لگو گے ۔ جس طرح ایک بڑھی ان گڑ ھ لکڑی کو  چھیل  کر اپنے حسب  منشا بنا لیتا ہے ۔ اسی طرح  راہ میں بھی تمھارے چھیل کر اپنی مرضی کے مطابق کام لوں گا ۔ میرا غُصہ  بہت تیز  اور میرا  انتقام  بہت ہولناک ہے ۔ تم سیدھی طرح راہ پر آجاؤ  ورنہ خدا کی قسم میں تمھاری کھال کچھوا کر اس میں بھس بھرواؤں گا  ۔ تلوار وں اور نیزوں کے اتنے  چر کے لگواؤں گا کہ تمھاری رگ رگ سے خون فوارے چھوٹیں گے اور تمھاری بوٹیاں کر کے جنگل میں پھنکواؤ ں گا  تاکہ کتے اور کوے کھائیں ۔<br />
	میں نے سنا ہے کہ تم میں سے اکثر مہلب کا ساتھ چھوڑ کر لوٹ آ ئے ہیں کہ امیر المومنین کے دشمنوں کا تلواروں کا لقمہ بن جائے  اور تم بیوی بچوں میں مزے کرو۔ سن لو ! میں امیر المومنین  کے سر کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو لوگ مہلب کا ساتھ چھوڑ کر آئے ہیں وہ دو تین دن کے اند ر اندر واپس چلے جائیں ورنہ مجھ سے بُرا  کوئی نہیں ، میں تمھاری  بیویوں کے سہاگ لوٹ لوں گا اور تمھارے بچوں کو یتیم  بنا دوں گا  کہ در در کی ٹھوکریں کھاتے پھریں۔<br />
 	میں دیکھتا ہوں  نظریں اٹھی ہوئی ہیں گردنیں  اونچی ہو رہی ہیں ۔ سروں کی فصل پک چکی ہے اور  کٹائی کا وقت آ گیا ہے  میری نظر وہ خون  دیکھ  رہی ہے جو  پگڑیوں اور داڑھیوں کے درمیاں بہہ رہا ہے ۔&#8221;<br />
	اس تقریر سے لوگ بری طرح  مر عوب ہوئے ۔ اس نے عبدالملک کا خط پڑھنے کا حکم دیا۔ جس میں اس کی تقریر کا حکم تھا  خط کا آغاز  &#8220;السلام و علیکم&#8221;  سے ہوا تھا لوگ سہمے ہو ئے خط سن رہے تھے  لیکن حجاج  سخت غصے کی عالم میں  چیخا  &#8221; کمینوں امیرالمومنین تم پر سلام بھیجتے ہیں  تم میں سے کوئی جواب تک نہیں دیتا  &#8221;  اس پر سب لوگوں نے بیک وقت سلام کا جواب دیا اور غط نہا یت غور سے سنا ۔<br />
    ججاج نے کوفہ کے لوگوں کو حکم دیا کہ جو لوگ مہلب بن ابی صغرہ  کی فوج سے بھاک کر کوفہ آئے ہیں  وہ  فور اَ  چلے جائیں ورنہ انھیں قتل کیا جائے گا ۔ اہل کوفہ اس حد تک  فرمانبردار ہو گئے تھے کہ انھوں نے اس حکم کی فوراَ  تعمیل کی ۔<br />
 	 بصرہ کی بغاوت:<br />
 حجاج بن یو سف  کوفہ سے بصرہ پہنچا اور وہاں کے لوگوں کو مرعوب کرنے کے لئے بھی ایک زبردست تقریر کی اور فوج کی تنخواہوں میں کمی کر ڈالی ۔  عبداللہ بن جاورد  ایک سردار نے اس حکم کے خلاف اپیل کی تو اس نے  اُسے جھاڑ دیا  اس پر فوج میں بغاوت ہو گئی  اور فوجیوں نے ججاج  کی خیمہ  کو گھیر لیا  لیکن  حجاج نے رشوت دیکر بہت سے لوگوں کو ساتھ ملا لیا  اور اس طرح بغاوت  فرو  ہوگئی  اور اس کے قائد قتل کر ڈالے گئے ۔ اہل عراق اس بغاوت کی ناکامی سے بہت مرعوب ہوئے ۔ حجاج نے حضرت انس بن مالک ؓ  مشہور صحابی کی شان میں بھی گستاخی کی اور ان کے لڑکے کو قتل کروا دیا تاہم عبد الملک نے اس پر سخت گرفت کی اور حجاج کو حضرت انس بن مالک ؓ سے معافی مانگنی پڑی۔<br />
	خوارج کا استیصال :<br />
عراق پر کنٹرول کرنے کی وجہ سے عبدالملک نے حجاج کو پورے مشرقی مقبوضات کا گورنر بنا ڈالا ۔ اس حیثیت سے اس نے خوراج کے خلاف موثر کاروائی کی ۔ بحرین ،عمان اور ہر مز کے خوارج ختم کر دیئے گئے ۔ البتہ  شبیب خارجی کی بغاوت کو دبانا ایک مسئلہ بن گیا کیونکہ اس نے بنو امیہ کے مظالم کے خلاف جہاد کو نعرہ لگا رکھا تھا  اور اس نے بعض نہایت مخلص  با اثر لوگوں کی حمایت حاصل  تھی ۔ اس نے محمد بن مروان کو شکست دی ۔ حجاج کے بھیجے ہوئے چار لشکر یکے بعد دیگر اس سے شکست کھا گئے ۔ بالآخر حجاج نے کوفہ سے ایک عظیم لشکر عباب بن ورقا کی قیادت میں بھیجا لیکن شبیب نے صرف ایک ہزار سواریوں کی مدد سے اسے شکست دیکر کوفہ کی طرف بڑھنا شروع کر دیا ۔ حجاج خود مقابلے پر آیا اور ایک شدید معر کے  کے بعد شبیب کو شکست ہوئی اور وہ دریا عبور کرتا ہوا  ڈوب گیا ۔<br />
	ابن اشعث کی بغاوت :<br />
 حجاج کے  ظالمانہ رویہ کے خلاف سب سے بڑی بغاوت اموی سالار عبدالرحمن ابن اشعث نے کی ۔ وہ ترکستان کے محاز پر زنبیل کے خلاف بر سرییکار تھا ۔ اس نے مفتوحہ علاقہ کا انتظام درست کرنے کے لئے تھوڑی دیر تک جنگ و جدل ملتوی  کیا تو حجاج نے اسے ایک نہایت سخت خط لکھا اس پر وہ  اور  اس کی فوج بغاوت کرنے پر آماد ہ ہوگئی اور انھوں نے زنبیل سے صلح کر لی اور عراق واپس لوٹ کر بصرہ پر قبضہ  کر لیا۔ حجاج نے شامی فوجیوں کی مدد سے ان کا مقابلہ کیا شکست کھائی اور صورت حال تھوڑی  دیر تک اموی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو گئی ۔<br />
  حجاج نے مہلب بن ابی صغیر کی مدد سے پھر مقابلہ کیا اور  ابن اشعث کو شکست دی لیکن اس نے لوٹ کر کوفہ پر قبضہ لر لیا۔<br />
عبدالملک نے خود مداخلت کی اور اشعث اور اہل کوفہ کو حجاج کی معزولی کی پیش کش کی لیکن کئی سرداروں نے ابن اشعث کو صلح کی  یہ معقول صورت  قبول نہ کرنے دی اور عبد الملک خود میدان میں نکل آیا  حجاج اور  عبدالملک  کی متحدہ فوجوں نے کوفی لشکر  کو شکست دی  اور ابن اشعث کو  زنبیل کے پاس پناہ لینی پڑی ۔ حجاج نے زنبیل کو لکھا کہ اگر تم ابن اشعث کا سر کاٹ کر بھیج دو  تو دس سال کا خراج معاف کر دیا جائے گا زنبیل نے  حجاج کی پیش کش کو مان لیا اور ابن اشعث کو  قتل کر ڈالا۔<br />
	حجاج کی فتوحات:<br />
حجاج نے ولید بن عبدالملک کے عہد میں فتوحات پر  زور دیا اور سندھ اور ترکستان میں بے شمار فتوحات کیں۔ اس نے اپنے بھتیجے  محمد بن قاسم کو سندھ پر حملہ کرنے کا حکم دیا اور یوں ہندوستان میں پہلی مسلمانوں کی باقاعدہ حکومت قائم ہوئی۔<br />
حجاج بطورمنتظم :<br />
 حجاج  بن یوسف بہت با صلاحیت تھا ۔ وہ حکومت کے استحکا م کے لئے ہر کام کرنے کو تیار رہتا ۔ اموی حکومت نے استحکام میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے ۔ اس نے اخلاقی و مذہبی احکامات کو ہمیشہ  خلیفہ کی خوشنودی کے لئے قربان کیا  اور حجاز و عراق پر مضبوط اموی کنٹرول قائم کر دیا ۔ معاشی استحکام کے لئے اس نے معاشی اصلاحات نافذ کیں اور غیر مسلموں سے جزیہ  وصول کیا ۔ اس کا مذاج  فاتحانہ تھا اس لیے اس کے عہد میں فتوحات بھی حاصل ہوئیں ۔ لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے دوسرا رخ وہ نہایت ظالم اور سفاک انسان تھا ۔ جاو بے وجہ تلوار استعمال کرتا ۔ جان کی کی حرمت اس کے نز دیک کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ حرم کا احترام  اس نے بے  دریخ اٹھایا ۔ مہینوں کا احترام بھی  وہ کم احترام کرتا تھا ۔ عراقیوں اور عجمی مسلمانوں سے اس ک سلوک نہایت ظالمانہ تھا۔ وہ سخت متعصب تھا  اور شمالی عدنانی قبائل کا سر پرست تھا ۔ اس نے  یتیموں کو بلاجواز ظلم کا نشانہ بنا یا اور اس طرح سے اس کے ظلم و جور اور قبائلی تعصب  پر بنو امیہ کی جڑیں کھوکھلی کر دیں اور عوام الناس کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت کا بیج بویا گیا جو اموی سلطنت کے لئے تباہ کن ثابت  ہوا۔<br />
القصہ  حجاج نے اپنی تلوار اور تقریری قوت بنو امیہ کے استحکام کے لئے استعمال کی جس سے وقتی  طور پر اموی حکومت مستحکم ہو گئی لیکن اس کی غلط کاریوں نے عوام کو اموی حکومت سے بر گشتہ کر دیا۔<br />
 	حجاج اور مخالفین:  حجاج نے اپنے اور حکومت کے مخالفین  پہ بے جا ظلم  ڈھائے ، اس کی محبوب سزا  مخالف کو بر ہنہ ( ننگا ) کر کے بغیر چھت کے قید خانون مین رکھنا تھی ۔ اس معاملے میں وہ مرد اور  عورت کی تمیز بھی نہین رکھتا تھا ۔ مزید ازیت کے لئے وہ یاک ہی خاندان کو ایک ہی جگہ بر ہنہ قید رکھتا  ۔ ایک وقت مین اس کے بر ہنہ قیدیوں کی تعداد 50000 پچاس ہزار تک پہنچ گئی تھی جس من میں اکثریت خواتین کی تھی خواتین کی تعداد 30000 تیس ہزار خواتین تھیں ۔ ان قیدیوں میں اکثریت قاتلان عثمان  اور حجاج و بنی امیہ  کے سیاسی مخالفین کی تھی </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1155/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>چینج یا تبدیلی“کالم“عباس ملک</title>
		<link>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1154/</link>
		<comments>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1154/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 20 May 2013 14:31:43 +0000</pubDate>
		<dc:creator>afkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Abbas malik]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urduwebnews.com/article/?p=4699</guid>
		<description><![CDATA[چینج عام فہم اور روایتی زبان میں ٹوٹے ہوئے پیسے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ 100روپے کا چینج دو پچاس پچاس کے نوٹ بھی ہو سکتے ہیں اور دس دس یا پانچ پانچ کے سکے &#8230; <a href="http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1154/">Continue reading <span class="meta-nav">&#8594;</span></a>]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/malik-abbas-pic3.jpg"><img src="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/malik-abbas-pic3.jpg" alt="malik-abbas-pic" width="150" height="141" class="aligncenter size-full wp-image-4700" /></a></p>
<p>چینج عام فہم اور روایتی زبان میں ٹوٹے ہوئے پیسے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ 100روپے کا چینج دو پچاس پچاس کے نوٹ بھی ہو سکتے ہیں اور دس دس یا پانچ پانچ کے سکے بھی آپ کو سو کے چینج میں دستیباب ہو سکتے ہیں۔ تبدیلی سوچ کی ہو سکتی ہے عمل میں آ سکتی ہے اور کپڑے بھی تبدیل کیے جاتے ہیں۔ پاکستانیوں نے سمجھ نہیں آیا کیا تبدیل کیا ہے۔ میں تو یہ سمجھ نہیں پایا کہ خان صاحب تبدیلی کی بات کرتے ہیں لیکن خود ہی اس شوریدہ ماحول کے آسیر ہوتے جا رہے ہیں ۔ حیرت کی یہ بات ہے کہ خان صاحب کی عوام کا دیا ہوا مینڈیٹ تسلیم نہ کرنے کی وجہ کیا ہے۔ خان صاحب کس بنیاد پر یہ کہتے ہیں کہ انہیں جن نشستوں پر کامیابی نہیں ہوئی وہاں دھاندلی ہوئی اور جن نشستوں پر انہیں کامیابی ہوئی وہ شفاف ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ تبدیلی کی بات کرنے والے کو چاہیے تھاکہ وہ سب سے پہلے میں نہ مانوں والے اس سیاسی رویے میں تبدیلی لاتے ۔ انہیں ماحول کو آلود ہ کرنے کی بجائے اس کی شدت میں کمی لانے والے عوامل کو اختیار کر نا چاہیے تھا۔سیاسی پنڈتوں کے دعوی کی تقلید میں اگر یہ سوچ اختیار کی گئی ہے تو سیاسی تجزیہ نگاروں نے تو ایسا کچھ بھی نہیں کہا کہ جس سے سونامی کے آکر سب کچھ بہا لے جانے کی نوید سنائی گئی ہو۔ سیاسی تجزیہ نگاروں اور پنڈتوں کے تجزیے جو ہنگ پارلیمنٹ کے وجود کے آثار دیکھ رہے تھے وہ تو میاں نواز شریف کی اکثریت میں بدل گئے۔ زرداری کے بنائے گئے الیکشن کمیشن کی موجودگی میں کیا یہ ممکن ہے کہ میاں نواز شریف کو حمایت حاصل ہو سکے اور پیپلز پارٹی کلین سویپ ہو جائے ۔ مولانا فضل الرحمان کو جو نشستیں حاصل ہوئی ہیں کیا وہ اس کے بھی مستحق تھے ۔ ایم کیوایم نے تو دھاندلی سے سیٹوں پر قبضہ کیا۔ تمام بڑے نام اتنے بے بس کیسے ہو گئے کہ وہ الیکشن کمیشن نے پری پول کے زریعے ہرا دئیے۔ مسلم لیگ کو پنڈی ڈویژن میں شکست ہونا الیکشن کے فری اینڈ فیئر ہونے کی دلیل ہے۔ حنیف عباسی اور چوہدری نثار علی خان کی شکست اس بات کی دلیل ہے کہ الیکشن فیئر اینڈ فری ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب اس کی الیکشن میں پہلی دفعہ شرکت کہی جا سکتی ہے۔ الیکشن میں ووٹر کو باہر لانا پڑتا ہے۔ پی ٹی آئی کے ووٹر باہر آئے اور انہوں نے پول بھی کیا لیکن سیاست کی یہ ناتجربہ کاری پی ٹی آئی کے لیے کئی حلقوں میں شکست کا سبب بنی ہوگی۔ ایسے کئی اور امور بھی پولنگ والے دن ہوتے ہیں جن کے سبب الیکشن والے دن اکثریت بھی اقلیت میں بدل جاتی ہے۔ فتح شکست میں اور تبدیلی نہیں آپاتی۔بہرحال میرے ذاتی خیال میں پی ٹی آئی کو اب چارج لینا چاہیے اور اس طرح اپنا قیمتی وقت برباد کرنے کی بجائے تبدیلی کے عنصر پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر وہی سیاسی رویے پی ٹی آئی نے اپنانے ہیں تو پھر تبدیلی کا نعرہ پس پشت جانے کا امکان ہے۔ پی ٹی آئی کی توجہ غیر ضروری احتجاج اور نعروں اور پریس کانفرنسوں میں الجھ جانے کے سبب وہ اپنے مشن سے دور ہو جائے گی۔ جو آنے والے دنوں میں اس کے پاؤں کا پھندہ بن سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کو چاہیے کہ وہ ٹائم کی اہمیت کو محسوس کرے اور سیاست ٹائم کو ضائع نہ کرے ۔ سیاسی ٹائم کی قضا نہیں ہوتی۔ وقت ضائع کرنے کی بجائے عملیت پسندی کا ثبوت دیا جائے ۔ عوام نے پی ٹی آئی کو روایتی سیاسی حربوں کی پریکٹس کیلئے منتخب نہیں کیا بلکہ وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہی سیاسی رویوں میں تبدیلی سے ہی معاشرے میں تبدیلی کا آغاز کیا جائے۔ روایتی سیاسی ماحول کی بجائے اب سیاسی ماحول میں بھی تبدیلی کو متعارف کرانے کا سہرا یا کریڈٹ پی ٹی آئی لے سکتی ہے۔ یہ بھی ایک سیاسی اچیومنٹ ہوگی ۔ کھینچا تانی کی سیاست سے عوام کو کچھ حاصل نہیں ہوا اور نہ کچھ حاصل ہوگا۔ کچھ ایسا کیا جائے جس سے عوام کی فلاح اور ملک کی ترقی کا رستہ اور منزل قریب ہو۔ عوام کو اب سیاسی نعروں اور احتجاج سے نکال کر ترقی کی راہ پر لانے اور ان کی راہنمائی کی کوشش کی جائے۔ دھاندلی کا جواب پی ٹی آئی اپنے کردار اور اپنے کام سے دے سکتی ہے۔ اس کے راہنما قومی ایشوز پر عوام کی نمائیندگی کا حق ادا کر کے عوام کے دلوں میں راہ پیدا کر سکتے ہیں۔ اپوزیشن کا ویسے تو حق اور کردار اب ان جماعتوں کا ادا کرنا چاہیے جنہوں نے پانچ سال اقتدار کے مزے لوٹے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کو اپوزیشن میں بیٹھنا چاہیے۔ پی ٹی آئی کو نواز شریف کے ساتھ مل کر حکومت بنانی چاہیے اور دونوں کو مل کرعوام کو اس عذاب سے نجات دلانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ عوام نے پی ٹی آئی کو اپوزیشن میں بڑکیں مارنے کیلئے منتخب نہیں کیا۔ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کو دیکھنا چاہیے کہ اگر پی پی پی اور اس کے اتحادیوں کو ہی اگر اقتدار میں کولیشن دی جانی ہے تو پھر کیا فائدہ ۔ عوام کو تو کچھ حاصل نہیں ہو ا پی ٹی آئی کی حمایت اور پشت پناہی کر کے ۔عوام کے دئیے ہوئے مینڈیٹ کو صرف نعروں اور احتجاج کیلئے استعمال کرنے کی روایتی سیاست کی بجائے عملی طور پر کچھ کرنے اور تبدیلی کیلئے پی ٹی آئی کو حکومت میں حصہ ڈالنا چاہیے۔ عوام تبدیلی کے خواہاں تھے تو انہوں نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ووٹ دیا۔ اب یہ پی ٹی آئی کی قیادت کا کام ہے کہ عوام کی توقعات کے مطابق تبدیلی لانے کیلئے اقدامات کریں۔ اگر یہی طرز عمل اور طرز فکر رہا تو پھر یہی تبدیلی آئی گی کہ اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی باہر ہوگی اور پیپلز پارٹی اندر ہوگی۔ سیاست عبادت ہے ہر عبادت کی قضا ہوتی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی عبادت کی قضا بہت مشکل ہوگی۔ اس لیے بہتر ہے کہ اسے ٹائم کے اندر ہی اس کی ادائیگی کر دی جائے ۔<br />
 الیکشن کی بہار آئی اور اس سے کسی کو پولن الرجی ہوئی تو کسی کی آنکھوں کو ٹھنڈک میسر آئی ۔ سیاسی تبدیلی کے خواہاں پاکستانیوں نے لیڈر شپ<br />
 میں تو کوئی تبدیلی نہیں کی لیکن نمائیندگان میں کافی کانٹ چھانٹ کی۔ الیکشن کمیشن نے اپنے تئیں تو آزاد اور شفاف الیکشن کرانے کی پوری کوشش کی لیکن جسٹس فخر الدین کی بد نصیبی کہ وہ خود کو الزامات کے چھینٹوں سے نہیں بچا پائے۔ اب اس میں ان کا ذاتی طور پر کوئی قصور ہے یا نادانستہ طور وہ اس کاشکار ہو گئے ہیں۔ پاکستان میں یہ تو ٹرینڈ چلتا ہی آ رہا ہے کہ ہار کو ہار تسلیم نہیں کیا جاتا ۔ ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی اور فضل الرحمان صاحب بھی اگر اپنی ہار کو ہار نہیں مانتے تو پی ٹی آئی کیسے تسلیم کر لے۔ عوام ابھی تومنتظر ہیں کہ کون فاتح ہے کون مفتوح ؟ کیا تبدیلی آنے کی توقع پوری ہوگی یا وہی ڈھاک کے تین پات ۔ الزام تراشی سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہی سے عوام کے پیٹ بھرے جائیں گے۔  میاں صاحب البتہ کچھ تبدیل نظر آتے ہیں وہ کچھ کرنے کے موڈ میں ہیں۔ امید ہے کہ وہ موجود ہ سیاسی جھٹکے کے بعد بہتر اقدامات سے اپنی سیاسی پوزیشن کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ ویسے بھی یہ ان کی آخری باری ہے اس کے بعد شاید ہو وزیر اعظم کی سیٹ پر نہ آسکیں۔ صدارت کے امیدوار ہو سکتے ہیں ۔ پھر بھی انہیں پاکستان مسلم لیگ کی بقاء کیلئے تو کچھ نہ کچھ کرنا ہی ہوگا۔ تاریخ میں اپنا نام لکھوانے کا یہ موقع سنہری بھی ہے اور آخری بھی ہے۔ میاں صاحب ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں وہ اس کو ضرور اس سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ البتہ سیاسی ناتجربہ کاری میں کہیں پی ٹی آئی اپنی منزل نہ کھو دے۔ مجھے پی ٹی آئی کی نہیں پاکستانی عوام کے خوابوں کا بھرم ٹوٹ جانے کا دکھ ہوگا۔ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urduwebnews.com/article/2013/05/20/art-1154/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>عزّت توقیر کی داستان“کالم“سمیع اللہ ملک</title>
		<link>http://urduwebnews.com/article/2013/05/17/art-1153/</link>
		<comments>http://urduwebnews.com/article/2013/05/17/art-1153/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 17 May 2013 19:45:40 +0000</pubDate>
		<dc:creator>afkhan</dc:creator>
				<category><![CDATA[SamiUllah Malik]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://urduwebnews.com/article/?p=4696</guid>
		<description><![CDATA[ان کی دھرتی نے سب سے پہلے امریکی فوج ،امریکی طاقت اور امریکی چالبازی کا مزا چکھاتھا۔آج سے ایک صدی قبل امریکا کی فوج ان کی بندرگاہوں پر یہ کہہ کر لنگرانداز ہونا شروع ہوئی تھی کہ ہم تمہیں اسپین &#8230; <a href="http://urduwebnews.com/article/2013/05/17/art-1153/">Continue reading <span class="meta-nav">&#8594;</span></a>]]></description>
				<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/samiullah-pic3.jpg"><img src="http://urduwebnews.com/article/wp-content/uploads/2013/05/samiullah-pic3.jpg" alt="samiullah-pic" width="150" height="163" class="aligncenter size-full wp-image-4697" /></a><br />
ان کی دھرتی نے سب سے پہلے امریکی فوج ،امریکی طاقت اور امریکی چالبازی کا مزا چکھاتھا۔آج سے ایک صدی قبل امریکا کی فوج ان کی بندرگاہوں پر یہ کہہ کر لنگرانداز ہونا شروع ہوئی تھی کہ ہم تمہیں اسپین کی غلامی سے آزادکروائیں گے۔صدیوں سے مار کھاتے ظلم سہتے یہ لوگ اس وقت کیسے مسکرائے ہونگے ،وہ جن کی کمریں اسپین کے فوجیوں کے ظلم سہتے سہتے دہریں ہو گئیں تھیں۔جو ذرا بھی بولتا ،غصے میں سینہ پھلاتا،اسے سمندر کے کنارے بنے ہوئے ایک تاریک جیل کے تہہ خانے میں پھینک دیا جاتا۔<br />
<span id="more-4696"></span><br />
زندہ بچ نکلتاتو ایک دن بڑے پادری کے سامنے پیش کردیا جاتا۔بپتسمہ کیلئے تیار ہوتا تو ایک آزاد غلام کی حیثیت سے فلپائن کے بازار میںزندگی گزارتاورنہ موت اس کا مقدر ہوتی۔<br />
منیلا کے ساحل کے ساتھ اس جیل کو یادگار کے طور پر محفوظ کرلیا گیا ہے۔اس جیل کے تہہ خانوںکی سیڑھیاں اتر تے ہوئے سیلن سے رچے خون کی بدبواور نہائت نیچی چھت سے ٹکراتی چیخوں کی بازگشت  سے سانس بند ہوتا محسوس ہوتا ہے۔آپ جونہی ایک چھوٹے سے کمرے میں پہنچتے ہیں جہاں اس قوم کی آزادی کا ہیرو اور بانی رزال ایک لمبے عرصے تک قید رکھا گیاتھاتو اس کمرے کے درودیوار مغرب کے مشرق پر ظلم وبربریت کے قصے سناناشروع کر دیتے ہیں۔یہ وہی بند کمرہ ہے جہاں رزال کی ماں نے ایک لیمپ کسی طرح رشوت دے کر بھجوایا تھا کہ اس کا بیٹا شاعر اور ناول نگار ہے ،اسے پڑھنے میں مدددے گا۔جیل والوں نے کہا کہ اس میںتیل تم خود ڈال کر لایا کروگی ،ہم تیل کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے۔ہر صبح ماں وہ لیمپ لے جاتی،سارادن اس سے اسے اپنے بیٹے کی خوشبو آتی رہتی ۔شام کو وہ اسے صاف کرکے اس میں تیل بھر کر واپس لے آتی۔اسی لیمپ میں اس کی ماں نے ایک خفیہ خانہ بنا رکھاتھاجس میں خالی کاغذ رکھ دیتی تھی اور صبح تک رزال ان پر اپنی شاعری اور اپنا افسانہ لکھ کر بھیجتا رہتااور یوں جس دن وہ یہ تنگ و تاریک سیڑھیاں چڑھ کر پھانسی کی سزاپانے کیلئے جارہا تھا پورا فلپائن اس کے ناول میں لکھے گئے باغیانہ فقروں سے گونج رہا تھا۔<br />
ایسی غلامی میں امریکی فوج انہیں آزادی اور جمہوریت کا درس دیتی ہوئی داخل ہوئی ۔مسکراتے فلپائنی جب تھوڑی سی دیرکے بعد جاگے تو ان کی دنیا ہی لٹ چکی تھی۔اس زندگی سے انہیں وہ تکلیف دہ موت زیادہ بہتر لگتی تھی جس میں عزت و غیرت تھی ،شرم و حیا تھی۔امریکی فوج نے جہاں ان کی ہر بندرگاہ اور ہر بڑے شہر پر تسلط کیلئے اور اس علاقے میں اپنی جگا گیری کیلئے چھاؤنیاں بنائیں وہیں منیلا کے بازاروں میں ان کی کمسن عورتوں کا بازار سجانے کیلئے ایک پوری یونٹ ایک کرنل کی نگرانی میں مستعد اور چاق و چوبندوہاں متعین کردی جہاں سب سے پہلے یہ فوجی خود اپنی سفلی پیاس بجھاتے اوردوردراز متعین امریکی فوجی اپنے بھائی بندوں کی نگرانی میں عیاشی کا مزہ لوٹتے۔<br />
ان سے زیادہ کون جانتا ہوگاان زخموں کو جو امریکی سپاہیوں اور عیاش سیاحوں نے ان کی معصوم اور سادہ زندگی پر لگائے۔مکاتی ،پاسگ اور منیلاکے بڑے بڑے بازاروں میں آج بھی امریکی فوج کے بنائے ہوئے یہ بازار موجود ہیں ۔اس قوم سے زیادہ کس کو خبر ہے کہ ان پر بدترین آمروں کو کون مسلط کرتا رہاہے ۔اسی قوم کے حکمرانوں سے زیادہ کون جانتا ہے کہ جتنی دیر کیلئے وہ امریکا کیلئے کارآمد رہتے ہیں ،ڈکٹیٹر مارکوس کی طرح حکومت کرتے ہیں اور جب ناکارہ ہو جاتے ہیں تو پردیس میں ذلت و رسوائی کی موت مرتے ہیں۔<br />
یہ ملک آج بھی امریکا اور امریکی فوج کا دستِ نگر اور محتاج ہے ،آج بھی امداد کے ٹکڑے اور فوجی سازوسامان کی بھیک اسے امریکا سے ملتی ہے ،آج بھی اس کی سرزمین امریکی اڈوں سے آباد ہے ،وہی اڈے جہاں سے پورے مشرقِ بعید پرحکمرانی کی جا رہی ہے۔امریکی پالیسیوں میں گھٹا ہوا یہ ملک آج بھی اس قدر غریب ہے کہ اس کے ۸۰لاکھ مرد اور عورتیں پوری دنیا کے گھروں میں آیاؤں،ڈرائیوروںاور دوسرے معمولی ملازمتوںپر بھاری مشقتوں کو جھیل کر اپنے ملک کی معیشت کو سہارا دیتے ہیں۔<br />
 کہتے ہیں غیرت کا کوئی ٹھکانہ اور وقت نہیں ہوتا۔یہ کبھی بھی محکوموں کے دماغ میں جاگ اٹھا کرتی ہے اور ایسا ہی آٹھ سال پہلے ہواجب اس ملک کا ایک عام شہری ‘ایک معمولی ڈرائیور انجیلوڈی لاکروزعراق میں اغوا ہوا۔اغواکاروں نے کہا اپنی فوجوں کو فوراً عراق کی سرزمین سے واپس لے جاؤ۔کسی کو یقین نہیں تھا کہ امریکا کی محتاج اور دستِ نگریہ حکومت جو آج بھی مندباؤ کی بغاوت کچلنے کیلئے امریکی فوج کی محتاج ہے ،یوں گویا ہو گی کہ دنیا پر انسانی جان کی قیمت کا احساس گونجنے لگا۔اس حکومت کے ترجمان نے کہا ’’یہ ڈرائیور ہمارے لئے فلپائن کے ہر جیتے جاگتے انسان کا استعارہ(Symbol) ہے‘‘۔اس نے کہا ’’اے فلپائنی قوم آؤ‘اسے بچانے کیلئے ہمارا ساتھ دو۔‘‘پھر تاریخ نے نظر بھر کر دیکھا کہ فلپائن نے عراق سے اپنی تمام فوج کو واپس بلالیا۔امریکا گرجا،برطانیہ نے غصہ دکھایا،آسٹریلیا نے دباؤ ڈالنے کی پوری کوشش کی لیکن حکومت کا جواب آئندہ آنے والی تاریخ میں قومی مفاد کے معانی مرتب کرگیا۔انسان کی ’’عزت و توقیر‘‘کی داستان رقم کرگیا۔حکومت نے کہا خارجہ پالیسی سے زیادہ انسانی جان اہمیت رکھتی ہے۔<br />
پاکستان میں انتخابات میں غیرمعمولی کامیابی کے بعدمیاں نوازشریف صاحب نے میڈیاکے توسط سے بھارت کوجس خیرسگالی کاپیغام بھیجاہے  مجھے اس سے قطعاً کوئی شکائت نہیں لیکن گلہ تویہ ہے کہ موصوف فرمارہے ہیں کہ ہم اپنی دوستی کاآغازپھروہی سے کریں گے جہاں سے یہ سلسلہ ٹوٹا تھاتوکیاکشمیرکے بارے میں ان کی پالیسی بھی وہی ہوگی ؟ مجھ پر اس بیان سے جو بیتنا تھی وہ بیت رہی ہے اور میرا ضمیر اس کو بھگت بھی رہا ہے لیکن میں سوچتا ہوں جب ایک انسان کی قیمت کا علم ان کو ہوگا جو افغانستان اور عراق کی جیلوں ، گوانتاناموبے  کے قید خانوں میں خارجہ پالیسی پر قربان ہوگئے تو وہ کیا سوچیں گے ۔مجھے ایک لاکھ سے زائدان روحوںکی چیخیں سنائی دینے لگتی ہیں جو آزادی کے پروانوں کی طرح کشمیر کے قبرستانوںمیں گھر بسا گئیں۔کاش کوئی ایک آواز،کوئی ایک ترجمان ،کوئی ایک بیان صرف اتنا کہہ دے کہ نہیں،خارجہ پالیسی ،کیری لوگر بل کی شکل میںمالی امداد قرضے کی معافی، فوجی سازوسامان سے نہیں بنتی ،انسانوں کی جان و مال کی حرمت سے بنتی ہے۔فلپائن کے پاس تو صرف ایک ڈرائیور تھا ،صرف ایک انسان تھا مثال دینے کو،ہمارے پاس تو سینکڑوں، ہزاروں ہیں!لیکن ہم نے اپنے ضمیر کو کہاں غرق کردیا؟<br />
آمنہ مسعود جنجوعہ اب بھی ہزاروں گمشدہ افراد کی فہرست سینے سے لگائے حکومت کے ہر دروزے پر دہائی دے رہی ہے کہ ان کے پیاروں کا کوئی پتہ بتائے جنہیں اس ملک کے ڈکٹیٹر مشرف نے ناکردہ گناہوںکی پاداش میںخودپکڑ کر اپنے آقاؤں کے زندان آباد کئے ہیں۔ملک کے ایک کونے سے لیکر دوسرے کونے تک جسدِ قومی بم دھماکوں،دہشت گردی کی وارداتوںاور ڈرون حملوںکے زخموں سے چور چور ہے ،شہریوں کے اعضاء بری طرح شل ہو چکے ہیں،زرداری حکومت نے بھی اعلیٰ عدالتوں کی بے توقیری میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی ،وہ بھی اپنے آقاؤں کے احکام کی تعمیل میں پرانی تنخواہ پر ہی خدمات بجا لا تے رہے ہیں۔<br />
فلپائن کی طرح ہماری قومی زندگی میں امریکا کہاں نہیں؟اس ملک کی حکومتوں کی تخلیق سے لیکر تقریباً سارے سیاستدانوں پر ’’امریکا ‘‘کی مہر لگی ہوئی ہے اور کئی سیاسی جماعتیںاب بھی امریکا کی سیاسی موسیقی پر رقص کناں ہیں۔نئی حکومت کے حلف اٹھاتے ہی جان کیری نے پاکستان کے دورے کاعندیہ دیاہے!ہماری معیشت امریکا کے مالیاتی ادارے چلا رہے ہیں،امریکی ماہرین ہمارا قومی بجٹ ترتیب دیتے ہیں،ہماری خارجہ پالیسی کے قلب میں امریکی مفادات کا پرچم لہرارہا ہے اور ہماری داخلہ پالیسی امریکی ترجیحات پر مرتب ہوتی ہے۔مشرف کے دورِ حکومت سے ہی امریکا کے حکم پر تعلیمی نصاب کو آغا خان بورڈ کے ماتحت کردیا گیا تھا تاکہ امریکا کی مداخلت براہِراست نظر نہ آئے۔ میرا ماتھا تو اسی دن کھٹکا تھا جب پاکستان کے امشہور اخبار ’’دی نیوز‘‘میں۲۴دسمبر ۲۰۰۹ء کو یوایس ایڈ کی طرف سے ایک اشتہار چھپا تھاجس میں اگلے چار سال کیلئے پاکستان میں بچوں کیلئے ٹیلی ویژن<br />
پروگرام بنانے کیلئے درخواستیں طلب کی گئی تھیںکہ امریکا پاکستان میں ان فلموںپر ڈیڑھ ارب پاکستانی روپے کی خطیر رقم صرف کرے گا۔ امریکا کو ہمارے بچوں سے آخر ایسی کون سی محبت ہو گئی ہے؟دراصل امریکا تواب ہمارے بچوں کیلئے مقامی ابلاغی قتل گاہیں تعمیر کرنے کی منصوبے پر عمل کررہا ہے اورانہوں نے اپناپالیسی بیان دیتے ہوئے برملایہ کہاکہ وہ پاکستانی میڈیامیں امریکی مفادات  اورپالیسیوں کے تحفظ کیلئے ۴۲۸ملین ڈالر تقسیم کررہے ہیں اورہمارے میڈیامیں ان کاواضح عمل دخل سب کونظرآرہاہے۔<br />
 اسی طرح امریکا اب اس منصوبے کے تحت ہماری آنے والی نسل کو تباہ و برباد کرنے کے پروگرام پر بڑی تیزی کے ساتھ عمل کررہا ہے۔ایک وقت تھا کہ ہمارے ہاں روسی اور بھارتی ایجنٹوں کی شناخت واضح تھی لیکن اب تو ہم غلامی کی ان حدوں میں داخل ہو گئے ہیں کہ ایسے منصوبہ سازوں کو امریکی تھنک ٹینک یا این جی اوزکہہ کر شترمرغ کی طرح ریت میں منہ دیکر اپنی عافیت ڈھونڈ تے رہتے ہیں!دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طرح ہمارے حکمرانوں نے امریکی ڈرون حملوں کی اجازت دے رکھی ہے جس کااعتراف اب مشرف کرچکے ہیں،اس امریکی چنگل سے نکلنے کیلئے ایک دوٹوک اورواضح پالیسی کااعلان جان کیری کے دورے سے قبل نہ صرف کرناہوگابلکہ بھارت کوبھی بلوچستان اورملک کے دیگرعلاقوں سے اپنی مذموم کاروائیاں بندکرنے کے ساتھ ساتھ کشمیرکے اصولی مؤقف کودہراتے ہوئے اپنے مظلوم ،مجبورومقہور کشمیریوں بھائیوں کواپنی وفاداری،یقین دہانی اوراخلاص کی مضبوط یقین دہانی کرواتے ہوئے مشرف اورزرداری حکومت کی خارجہ پالیسیوںکویکسرمستردکرناہوگا ۔نئی حکومت کوفوری اوردوٹوک اعلان کرناہوگاکہ ہم اس خطے میں یقینا امن کے خواہاں ہیں لیکن کس قیمت پر؟<br />
جہاں پنجاب اورمرکزمیں مسلم لیگ ن کوبرتری حاصل ہوئی ہے وہاںتحریک انصاف کی سب سے بڑی کامیابی یہ بھی ہے کہ وہ اس وقت ملک کی دوسری سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کرابھری ہے اوراب تحریک انصاف کوخیبرپختونخواہ میںحکومت بنانے کاموقع ملے گاجوکہ عمران خان کے لئے ایک چیلنج سے کم نہیں ۔ اب جمہوریت کاتقاضہ یہ ہے کہ ملک میں کسی نئے سیاسی جوڑتوڑ کی بجائے مرکزمیں اپوزیشن لیڈربھی اسی جماعت کاہوناچاہئے تاکہ اس نئی جماعت کوبیک وقت ایک انتہائی حساس صوبے میں جہاں حکومت میں اپنی صلاحیتیں منوانے کاپوراموقع ملے وہاں ایک انتہائی مضبوط اپوزیشن کاکردارنبھانے کاموقع بھی میسرہو۔ جہاں میاں برادران نے عمران خان کی عیادت کرتے ہوئے جمہوری رواداری ایک بہترین مثال قائم کی ہے وہاں مسلم لیگ ن کی یہ قومی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کوموجودہ مشکلات سے باہرنکالنے کیلئے عمران خان کومرکزمیں اپوزیشن لیڈرمقررکرنے میں اپناکرداراداکرے۔رہے نام میرا رب کا جو بہترین منصوبہ ساز ہے!<br />
فقر  بدنام  نہ  ہوتا  جو فقیر<br />
ایک ہی بابِ طلب تک رہتا</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://urduwebnews.com/article/2013/05/17/art-1153/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
